دنیا کو جاننا ہے تو دنیا کا علم حاصل کیجیے

206

پاکستانی دانشوروں کی ایک تعداد جو اردو میں لکھتی ہے، انتہائی worse سوچ کی مالک ہے – جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، راقم نے دو باتیں کثرت سے سنی ہیں۔ ایک: پاکستان چین اور روس کے زیادہ سے زیادہ قریب ہو رہا ہے اور ہم مغربی اثرات سے آزاد ہو رہے ہیں۔ مگر جب بھی کوئی معاشی بحران آتا ہے ہم مغرب کی گود میں ہی ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس طرح کے متواتر تجربات کے بعد وہ کچھ سیکھیں اور اپنے خیالات پر نظرثانی کریں مگر ایسا کوئی بھی رجحان مشاہدے میں لانا انتہائی مشکل ہے۔ کیوں؟ اس کا مجھے بھی نہیں پتا سوائے اس کے کہ شاید اپنے ان خیالات پر جنہیں وہ اپنے مطالعہ و تجربہ کے بجائے اپنی خواہشات سے ترتیب دیتے ہیں پر نظرثانی کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور مطالعہ و مشاہدہ جیسے بور کر دینے والے کام سے اجیرن ہیں۔

یہی معاملہ، یورو میں تجارت کا بھی ہے۔ دانشور تبصرہ کرتا ہے کہ پاکستان اب یورو میں بزنس کرے گا اس سے ہم امریکی ڈالر کے شکنجے سے آزاد ہو جائیں گے۔ اب تو چائنیز ’’یوآن ‘‘ کے بھی حمایتی آ گئے ہیں جو وہی توقعات چینی کرنسی سے لگا رہے ہیں جو انہوں نے یورو سے لگائی تھیں۔ یہ ہر فارن کرنسی کے بحران کو سمجھنے سے انکاری ہیں اور نہ ہی اپنے خیالات سے رجوع کرنے میں انکی کوئی دلچسپی ہے۔ کم ازکم انہیں یہ تو سمجھنا چاہئے کہ آخر دنیا بھر کے اکثر تاجر کیوں ڈالر میں کام کرنا چاہتے ہیں آخر کیوں دنیا بھر کے سنٹرل بنک (بشمول چینی سنٹرل بنک ) اپنے ریزرو ڈالر میں کیوں رکھتے ہیں اور آخر ڈالر کیوں سونے سے بھی زیادہ قابل فروخت (liquid ) اور قابل بھروسہ (Credible ) کرنسی ہے اور آخر کیوں اسے دنیا کی کرنسی کہا جاتا ہے۔

دنیا کو جاننا ہے تو دنیا کا علم حاصل کیجئے

چونکہ سوشل سائنسز خاص طور پر اکنامکس پڑھنا ذرا زیادہ کٹھن کام ہے اس لئے وہ اردو ادب کی دھونی سے خود کو گرم رکھتے ہیں اور افسانوں میں منہ چھپائے رکھتے ہیں۔ دوسرا بڑا دعویٰ میں تقریبا 2003 سے سن رہا ہوں کہ امریکہ افغانستان میں شکست کھا کر بھاگ رہا ہے اور اس کے بعد ہمارا اہم کردار شروع ہو جائے گا۔ پندرہ سولہ سال سے زیادہ بیت گئے مگر فارن پالیسی ایکسپرٹ اپنی بات پر ابھی تک قائم ہیں۔ اس پر بات پھر کبھی کہ آخر میں کیوں ایسے کسی خیال کو قابل عمل نہیں سمجھتا۔ میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ امریکہ بغیر اپنے مفادات کا تحفظ کئے افغانستان سے نہیں جائے گا۔

یہ تحریر لکھنے کا خیال اس لیے آیا کہ ایک دانشور شخصیت نے تبصرہ لکھا ہے کہ پیوٹن نے اس بار ہمارے وزیراعظم کو جتنی اہمیت دی ہے اتنی اہمیت مودی کو نہیں دی۔ ایسے دانشوران کو فرصت نہیں کہ کم ازکم ذرا یہ تو موازنہ فرمائیں کہ بھارت اور روس میں کتنا فرق ہے اور یہ کہ بھارت کے لئے پیوٹن کتنا اہم ہے اور پاکستان کے لئے کتنا ؟ بھارت اور روس کا اگر باہمی موازنہ کیا جائے تو کچھ معاملات میں بھارت روس سے زیادہ طاقتور ہے، جیسے معیشت میں، دنیا بھر میں پسندیدہ فارن پالیسی کے حوالے سے اور سیاسی و معاشی استحکام کے حوالے سے۔ بھارت جس رفتار سے ترقی کر رہا ہے اس کا موازنہ چین سے کرنا چاہئے۔ روس جیسی معاشی طور پر کمزور ریاست سے نہیں۔ روس کو بھارت پر صرف دو معاملات میں ایڈوانٹیج حاصل ہے: سخت گیر (Aggressive ) فارن پالیسی اور ہتھیاروں کی جدید صنعت۔

میری اردو حلقہ کے پاکستانی دانشور احباب سے درخواست ہے کہ خدارا پڑھا کریں، اپنے خیالات کا ایک بار محاسبہ بھی کر لیا کریں، اس سے آپ کا کچھ نہیں جائے گا بلکہ آپ علم و عمل میں ترقی کریں گے۔ جان لیجئے کہ دنیا ویسے نہیں چلتی جیسے ہمارے خیالات ہوتے ہیں یا فیس بک پوسٹس چلتی ہیں۔ دنیا کو جاننا ہے تو دنیا کا علم حاصل کیجئے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...