قطر پر سعودی پابندیوں کے دو سال، کیا کھویا کیا پایا؟

170

5 جون 2017 سے شروع ہونے والا سیاسی، سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہے۔ قطری میڈیا اس عرصے میں حاصل کی گئی کامیابیاں گنوا رہا ہے جبکہ بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے اخبارات اس دورانیے میں قطر کو ہونے والے نقصانات سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ آئیے غیرجانبداری کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں کہ اس عرصہ میں جانبین میں سے کس نے کیا کھویا اور کیا کچھ حاصل کیا؟

اگر ہم بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے مطالبات کو معیار بنائیں تو یہ نظر آتا ہے کہ قطر  نے تاحال کوئی مطالبہ بھی پورا نہیں کیا۔ 22 جون 2017 کو 13مطالبات کی جو فہرست قطر کو تھمائی گئی تھی اس میں مذہبی جماعتوں کے تعاون سے دست کش ہونا، ایران کے ساتھ تعلقات کو محدود کرنا اور الجزیرہ چینل کو بند کرنا بھی شامل تھا۔دوحہ نے مذکورہ فہرست یہ کہہ کر  مسترد کر دی تھی کہ وہ اپنے داخلی و خارجی امور میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیتا، دو سال گزرنے کے بعد آج بھی دوحہ اپنے اس موقف پر قائم ہے۔

ابتدا میں جو بائیکاٹ محض سیاسی و سفارتی  سطح تک محدود تھا جلدی ہی اس کی نوبت اقتصادی مقاطعہ تک پہنچ گئی اور قطر کی سرحد بند کر دی گئی۔ اس کی سرکاری ہوائی کمپنی قطر ایئر لائنز کو سعودی عرب کی فضا استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح اتحادی ممالک میں قطری نیوز چینلز، اخبارات اور آن لائن نشریاتی اداروں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ مزید برآں قطر کے پاس ڈیری کا نظام بھی موجود نہیں تھا، اسے سعودی عرب سے درآمد کیے جانے والے دودھ پر انحصار کرنا پڑتا تھا، ان اقتصادی پابندیوں میں دودھ سپلائی کی بندش بھی شامل تھی۔ سعودی عرب نے  قطر کو خشکی سے جوڑنے والے واحد زمینی راستے پر بھی نہر سلویٰ کھودنے کا اعلان کر دیا تھا جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

دوحہ نے ان  اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی معاشی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا اور درآمدات پر انحصار کم سے کم کر دیا۔ خلیجی ساحل پر طے شدہ منصوبے سے قبل ہی سات ارب ڈالر کی لاگت سے نئی بندرگاہ کھول دی۔ جس کا مقصد اپنی معیشت کو پڑوسیوں کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس بندرگاہ کا استعمال اب 2022 فٹبال ورلڈ کپ کے سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے عمارتی مواد درآمد کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ تعمیراتی کام جاری رہے۔ حال ہی میں قطر میٹرو ٹرین کا بھی افتتاح ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ گزشتہ ماہ “واکرہ”  فٹبال چیمپین شپ کے فائنل کے موقع پر میں جنوب سٹیدیم کا افتتاح عمل میں آیا۔ ایشا کپ میں کامیابی کا تاج بھی قطر کے سر پر ہی سجا۔

قطر نے اس مختصر عرصہ میں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ نئے دوست بنائے ہیں، پرانے دوستوں کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے

ڈیری کے نظام  میں غیرملکی انحصار کے خاتمے کے لیے  ایک ماہ کے اندر اعلیٰ نسل کی دس ہزار آسٹریلوی و امریکی گائیں  قطر ایئرویز کے ذریعے لائی گئیں اور جلد ہی بلدنا کے نام سے ڈیری فارم بنایا گیا جس سے قطر دودھ اور اس سے بنی مصنوعات میں بھی خود کفیل ہو گیا۔ بائیکاٹ کا سب سے زیادہ منفی اثر قطر ایئرلائن پر پڑا اور روزانہ دبئی جانے والی اٹھارہ پروازوں سمیت بیسیوں اور  پروازیں بند ہوئیں جس کے نقصان کا تخمینہ اربوں میں ہے لیکن پھر بھی آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ مشرق وسطی میں  قطر ایئر لائن آج بھی نمبر ون ہے جبکہ ان انٹرنیشنل چھ ایئرلائنز میں شامل ہے جنہیں فائیو سٹار ایئر لائنز کہا جاتا ہے۔

بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے چند  اہداف بھی اگر پورے ہوئے ہوتے تو کہا جا سکتا تھا کہ انہیں کچھ کامیابی حاصل ہوئی لیکن چونکہ سارے مطالبات ویسے ہی دھرے ہیں، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ ان ممالک کو اس بائیکاٹ کا کوئی فائدہ پہنچا ہے۔ البتہ قطر نے اس مختصر عرصہ میں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ نئے دوست بنائے ہیں، پرانے دوستوں کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا آئندہ اتوار کو دورہ پاکستان بھی اسی سلسے کی ایک کڑی ہے۔

اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں کہ ان پابندیوں کا دوحہ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ یقینا قطر بھی ایک حد تک متاثر ہوا ہے، لیکن یہ نقصان محض قطر کا ہی نہیں ہے بلکہ بائیکاٹ کرنے والے ممالک کو بھی کافی خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے اور سب سے بڑا خسارہ جو جانبین کو ہوا وہ اعتماد کا فقدان ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...