پاکستانی معیشت، اچھی خبریں آرہی ہیں

412

جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، اچھی خبروں کا سلسلہ تقریبا منقطع تھا۔ مگر راقم کے اندر پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق ایک خوشگوار احساس یقینا پیدا ہوا ہے، اس کی وجہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور اسٹیٹ بنک کے گورنر رضا باقر کی پریس کانفرنسز ہیں۔ ان پریس کانفرنس میں ان دونوں نے مجموعی طور پر تین اہم نکات کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے جن کی اہمیت پر راقم کافی عرصے سے زور دے رہا ہے۔ آئیے ان تینوں نکات پر بات کرتے ہیں۔

اول: سیاسی عدم استحکام

دونوں، مشیر خزانہ اور اسٹیٹ بنک گورنر نے سیاسی عدم استحکام کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے جسے ان کے مطابق حل کرنا ضروری ہے وگرنہ ایک مستحکم معاشی شرح نمو (گروتھ ریٹ ) ممکن نہیں۔ حفیظ شیخ کے اس سلسلے میں الفاظ بہت اہم ہیں۔ وہ پاکستانی معیشت میں خرابی کی جڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” ہماری قومی زندگی ناکارہ ہو چکی ہے  یہاں تک کہ کسی ایک بھی وزیراعظم نے اب تک اپنی وزرات عظمی کی میعاد مکمل نہیں کی جس کا ہماری معیشت پر منفی اثر پڑا ہے۔” (ایکسپریس ٹریبیونJune 16, 2019)

یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی طرف ہم گزشتہ حکومت کے دور میں بار بار اشارہ کرتے تھے جب تحریک انصاف بذات خود سیاسی عدم استحکام کا سبب بنی ہوئی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ جب تک سیاسی بے چینی اور عدم استحکام ختم نہیں ہو گا معاشی بے چینی اور عدم استحکام کا خاتمہ ناممکن ہے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش کی معیشت کو پاکستان پر جو بڑا  ایڈوانٹیج حاصل ہے وہ یہی ہے کہ وہاں سیاسی ادارے مستحکم ہیں اور مستقبل سے متعلق کوئی بڑا خطرہ (رسک) نہیں رکھتے جب کہ ہماری طرف معاملات دگرگوں ہیں ۔ موجودہ حکومت جسے پارلیمان میں بھی بھاری اکثریت حاصل نہیں اور نہ ہی اس کے مزاج سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ وہ سیاسی گفت و شنید اور معاملہ فہمی سے سیاسی استحکام لانے میں کامیاب ہو گی۔ اس سے یہی تاثر مل رہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہو گا اور اکنامک گروتھ ریٹ نسبتا سست رفتار ہو گا جس کا شہریوں کے معیار زندگی پر منفی اثر پڑے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بشمول ریاست کے دیگر طاقتور ادارے کم از کم اس بات پر باہمی اتفاق رائے قائم ضرور کریں کہ سیاسی عدم استحکام کی ہر صورت میں حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

دوم: بین الاقوامی تجارت

بین الاقوامی تجارت کے بغیر معاشی ترقی کا خواب سراب ہے۔ ایک بھی ایسی معیشت نہیں جو بین الاقوامی تجارت کے بغیر معاشی ترقی و خوشحالی  کی منزلیں طے پا سکی ہو۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک ضروری ہے۔ اس بارے میں حفیظ شیخ فرماتے ہیں: “بطور ایک قوم کے ہم دوسری اقوام کے ساتھ کاروبار کرنا پسند نہیں کرتے اور (بغیر بین الاقوامی تجارت کے ) محض اپنے آپ کوئی بھی معیشت ترقی نہیں کر سکتی ” (ایکسپریس ٹریبیون – June 16, 2019)

میرے خیال میں یہ بات پاکستانی شہریوں کے بارے میں درست نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی ریاست کا بین الاقوامی تجارت سے متعلق رویہ انتہائی منفی ہے۔ پاکستان دنیا میں ساتویں نمبر پر ایسا ملک ہے جو بین الاقوامی تجارت کو ناپسند کرتا ہے، ہماری ساری معیشت protectionist (بین الاقوامی مقابلہ سے دور بھاگنے والی ) ہے۔ پاکستانی تجارتی اور خارجہ پالیسیوں پر دفاعی پالیسیوں کا غلبہ ہے۔ ہم بین الاقوامی دنیا میں اپنے معاشی مفادات کے بجائے اپنے مہم جو عزائم کی جستجو کرتے ہیں۔ اب کرنے کا کام حفیظ شیخ کا ہے کہ وہ آخر کس طرح پاکستانی قوم کو معاشی طور پر دوسری اقوام سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سے اندازہ ہے کہ اس کے بغیر معاشی ترقی ناممکن ہے۔

سوم: مارکیٹ پر مبنی فارن ایکسچینج پالیسی

اسٹیٹ بنک گورنر نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ اب سے پاکستان Fixed ایکسچینج ریٹ (اپنے کرنسی ریٹ کو ایک جگہ باندھ کر رکھنا) کی بجائے مارکیٹ پر مبنی کرنسی ریٹ (جب کرنسی ریٹ ڈیمانڈ اور سپلائی پر انحصار کرتا ہے) پر عمل کرے گا اور کرنسی مارکیٹ میں صرف اس وقت مداخلت کی جائے جب اس میں اتار چڑھاؤ (volatility ) بہت زیادہ ہو گی ۔ اس پر میں ایک عرصہ سے لکھ رہا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ جو میری آرزو تھی اسی کے مطابق کام ہو رہا ہے۔ (اس موضوع پر میری ایک قدرے مفصل تحریر اسی مضمون کے آخر میں کاپی کی گئی ہے، وہاں رجوع کرسکتے ہیں)۔

مگر باقر رضا کی اس پریس کانفرنس میں کی گئی ان کی ایک بات سے اتفاق نہیں کروں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دو اسباب ہیں۔

ایک: جب کرنسی مارکیٹ، مارکیٹ کے فنڈامنٹلز (بنیادی قواعد ) کے مطابق حرکت کرتی ہے۔

دوم: جب  کرنسی مارکیٹ میں، مارکیٹ participants (مارکیٹ کے عمل میں حصہ والے لوگ ) کے جذبات و احساسات (Sentiments) مارکیٹ فنڈامنٹلز پر حاوی ہو جاتے ہیں۔

ان کے مطابق وہ پہلے سبب کی حوصلہ افزائی کریں گے مگر دوسرے سبب کی حوصلہ شکنی۔ میری رائے میں  sentiments بھی مارکیٹ فنڈامنٹلز کا حصہ ہیں۔ جب مارکیٹ میں گراوٹ آتی ہے تو Sentiments بھی منفی ہو جاتے ہیں اور  جب مارکیٹ اچھی چل رہی ہوتی ہے تو یہ بھی مثبت ہو جاتے ہیں۔ یہ Sentiments بھی دراصل مارکیٹ کا انفارمیشن سسٹم ہیں انہیں نظرانداز کرنا مارکیٹ کے فنڈامنٹلز کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں وہ Sentiments جو غلط رپورٹنگ کے سبب پیدا ہوتے ہیں انکی حوصلہ افزائی شکنی یقینا ضروری ہے۔ میری رائے میں اسٹیٹ بنک کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ کرنسی مارکیٹ میں مقابلے کی حوصلہ افزائی کرے اور کسی کو اجازت نہ دی جائے کہ وہ مارکیٹ سسٹم کو ہائی جیک کر سکے۔

اگر باقر رضا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کو مستحکم کر جاتے ہیں اور یہ مارکیٹ اسٹیٹ بنک اور حکومت کی غیر ضروری مداخلت سے محفوظ ہو جاتی ہے تو یہ ایک ایسا کام ہوگا جس کے اثرات طویل مدتی بنیادوں پر پاکستانی معیشت کو مضبوط اور مستحکم کر جائیں گے۔

اگر حفیظ شیخ اور باقر رضا اپنی سمت کا تعین کر چکے ہیں اور یقینا وہ صحیح سمت کا تعین کر چکے ہیں تو انہیں اس پر کام کی اشد ضرورت ہے۔ وہ اپنے بیانات اور اعمال (Actions ) میں کتنے مخلص ہیں اس کا فیصلہ یقینا وقت کرے گا۔

دوسرا مضمون جس کا اوپر حوالہ دیا گیا:

(ایک دوست نے پوچھا ہے “مصنوعی طریقہ سے ڈالر کی قیمت مستحکم رکھ کر معیشت کو بچانا یا ترقی دینا ممکن ہے۔ تفصیلی طور پر سمجھائیں”۔

دیکھئے اس وقت کرنسی ریٹ یا ایکسچینج ریٹ پالیسی کے حساب سے دنیا میں تین طرح کے ممالک پائے جاتے ہیں:

جو اپنی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں ایک ہی ریٹ یا شرح پر منجمد کر دیتے ہیں۔ جیسے یو اے ای میں، پانچ سال پہلے بھی ڈالر کا ریٹ 3.675 تھا اب بھی یہی ہے۔

جو اپنی کرنسی کو ایک حد کے اندر (floating) اوپر نیچے ہونے دیتے ہیں۔ جیسے چین یا انڈیا یا پاکستان کرتے ہیں۔

ان دونوں قسم کے ممالک کے لئے ضروری ہے کہ وہ خزانہ میں کرنسی مینجمنٹ کے لئے ریزرو رکھیں اور جب کرنسی کی شرح بگڑنے لگے یعنی ڈیمانڈ زیادہ ہو یا سپلائی زیادہ ہو تو خود کرنسی بیچ کر یا خرید کر مارکیٹ ریٹ کو متوازن کریں۔

تیسری قسم کے ممالک وہ ہیں جو اپنی کرنسی ریٹ کو ویسے آزاد چھوڑ دیتے ہیں جیسے مارکیٹ میں دیگر ریٹ ہوتے ہیں ۔ امریکہ برطانیہ اور یورپی یونین سمیت ترقی یافتہ ممالک یہی کرتے ہیں۔ اس لئے یہ ممالک کرنسی مینجمنٹ کے لئے ریزرو نہیں رکھتے اور نہ ان کی سنٹرل بنکس مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی کو بیلنس کرنے کے لئے مداخلت کرتی ہے۔

اس پر ماہرین کے درمیان اختلاف ہے کہ کونسا نظام بہتر ہے اوپر والے دو مصنوعی یا آخری والا آزاد مارکیٹ کا نظام۔ ماہرین کی اکثریت امیر ترقی یافتہ ممالک کے لئے تیسرے نظام کو سپورٹ کرتی ہے کیونکہ ان کی فنانشل مارکیٹ ایک تو well developed ہے دوسرا انکی مارکیٹ کا حجم اتنا بڑا ہے کہ سنٹرل بنک کنٹرول نہیں کر سکتا۔ چین بھی آہستہ آہستہ اپنی کرنسی مارکیٹ کی باگیں ڈھیلی کر رہا ہے جب سے اس نے تجارتی خسارے کا سامنا کرنا شروع کیا ہے۔ یو اے ای اس لئے یہ پالیسی کامیابی سے چلا رہا ہے کہ وہ تیل بیچ کر ٹھیک ٹھاک ڈالر کما لیتا ہے دوسرا اس کے پاس سرمایہ کا بہاؤ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔

ترقی پزیر یا غریب ممالک کے ضمن میں ماہرین کے درمیان اختلاف زیادہ ہے مگر اس پر سب متفق ہیں کہ ایکسچینج ریٹ میں استحکام اہم ہے وگرنہ بزنس کمیونٹی فیصلہ کرنے سے کتراتی ہے اور بے یقینی کی کیفیت میں رہتی ہے کہ اگر وہ کوئی امپورٹ آرڈر کریں جو اب دس ملین ڈالر کی پڑتی ہے اور کرنسی ریٹ سو روپے ہے۔ اگر دو ماہ بعد جب اسکی ڈیلیوری اور پیمنٹ کا وقت آیا اور کرنسی ریٹ ایک سو بیس ہوا تو ان کی ساری کیلکولیشن نہ صرف خراب ہو جائے گی بلکہ کیا پتا وہ اس وقت پیسوں کا انتظام بھی نہ کر سکیں یا مارکیٹ میں مہنگی ہونے کے سبب وہ چیز بیچ نہ سکیں وغیرہ وغیرہ۔

اب اگر حکومت اسے مصنوعی طور پر ایک ہی ریٹ پر روکے رکھتی ہے تو یہ زیادہ مدت تک ممکن نہیں کیونکہ مارکیٹ نے خود کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے مختلف اسباب جیسے امپورٹ ایکسپورٹ remittances , سرمایہ کی آمدورفت وغیرہ وغیرہ کے سبب۔ جب مارکیٹ خود کو ایڈجسٹ کرتی ہے اور سنٹرل بنک اسے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو ایک دم سے ریٹ جمپ کر جاتا ہے اور مارکیٹ میں ایکچینج ریٹ کا بحران آ جاتا ہے جو پوری اکانومی کو تقریبا ایک سال اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ پاکستان میں ہر سیاسی یا عسکری حکومت اپنے دور میں کرنسی ریٹ ہر قیمت پر چاہے اس سے معیشت کا نقصان ہی کیوں نہ ہو عارضی طور پر کنٹرول کر کے رکھتی ہے۔ جب اگلی حکومت آتی ہے وہ مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ کے آگے بے بس ہو جاتی ہے تب مارکیٹ میں بحران آتا ہے۔ مارکیٹ کی نئی ایڈجسٹمنٹ کے مطابق کرنسی ریٹ ڈویلپ ہوتا ہے مگر وہ حکومت بھی اسے مصنوعی طور پر روک لیتی ہے تاآنکہ ان سے اگلی حکومت اس عذاب کو آ کر بھگتی ہے ۔ یوں ہر ایک کو ورثے میں جو ملتا ہے وہ اگلوں کو منتقل کرتا جا رہا ہے۔

اس لئے میری رائے میں بہتر یہی ہے کہ ایکسچینج ریٹ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تاکہ اس میں کوئی بحران نہ آئے اور مارکیٹ ہی خود کو ایڈجسٹ کرتی جائے ۔ اگر کوئی بڑا شاک آ جائے جیسے ایک دم سے مارکیٹ میں سپلائی بڑھ جائے یا ایک دم سے ڈیمانڈ بڑھ جائے تو سنٹرل بنک عارضی طور پر اس میں استحکام لانے کی کوشش کرے مگر مستقل طور پر نہیں ۔ سرمایہ دار کرنسی ریٹ میں تھوڑی تھوڑی تبدیلیوں سے نہیں گھبراتا کیونکہ وہ اسے آسانی سے اپنی کاسٹ اور قیمتوں میں ایڈجسٹ کر دیتا ہے مگر ایک دم بڑی تبدیلی چاہے کرنسی ریٹ بڑھے یا کم ہو دیکھ کر اس کی جان خشک ہو جاتی ہے۔ )

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...