’’یہ دنیا میں جہنم ہے‘‘ وہ جیل جہاں محمد مرسی کو رکھا گیا تھا

142

کئی عرب ممالک میں طویل عرصہ تک بادشاہتیں قائم رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ بادشاہت اور آمریت کے سائے میں بہت کم ہی انسانی حقوق  کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس لیے عرب دنیا اس حوالے سے اچھا تعارف نہیں رکھتی۔ وہاں اختلاف رائے رکھنے والوں، خصوصا سیاسی مخالفین کو عبرت کی مثال بنادینے کی پوری ایک تاریخ ہے۔

گوانتا ناموبے بدنام زمانہ جیل ہے، لیکن عرب دنیا کی کچھ جیلیں اسے مات دیدیتی ہیں۔ مصر میں ایک جیل ہے، اس کا نام ہے ماوراء الشمس، یعنی سورج کے پار۔ یہاں جو لوگ منتقل کیے جاتے ہیں کم ہی واپس آتے ہیں۔ جمال عبدالناصر کے دور میں یہاں اخوانیوں اور سیاسی مخالفین رکھا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 9\11 کے بعد ایسے مسلم دہشت گرد جو امریکہ کی تحویل میں تھے ان میں میں سے کئی ایک کو خصوصی طور پہ عرب ممالک کی جیلوں میں منتقل کیا گیا، کیونکہ امریکہ میں ان پر اُس نوع کا تشدد نہیں کیا جاسکتا تھا جو یہاں ممکن تھا، یہ خدشہ موجود تھا کہ اگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو علم ہوا تو امریکہ کی بدنامی ہوگی۔

محمد مرسی کو جس جیل میں قید کیا گیا اس کا  نام ہے برج العرب۔ یہ اسکندریہ شہر کے صحرائی علاقے میں واقع ہے۔ یہ جیل سابق صدر حسنی مبارک نے 2004 میں بنوائی تھی۔ اس کے قریب ہی انہوں نے اپنے لیے ایک محل بھی تعمیر کرایا تھا جہاں وہ کبھی کبھار چھٹی گزارنے آتے تھے۔  یہ جیل ماوراء الشمس کی طرح سیاسی مخالفین اور اخوانیوں کے لیے مختص ہے۔ محمد مرسی کی معزولی کے بعد سے اب تک یہاں 20 ہزار ایسے لوگوں کو لایا جاچکا ہے جن پر اس جماعت سے تعلق کا شبہ تھا۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ جیل بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مشہور ہے۔ یہاں قیدیوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے جاتے اور تشدد کے نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔ جیل کے ایک کمرے میں بیس لوگ رکھے جاتے ہیں، اس کمرے کا سائز چار مربع میٹر ہوتا ہے۔ روشنی کی ہلکی سی کرن اندر آتی ہے جس سے رات یا دن کا پتہ لگ جاتا ہے۔ قضائے حاجت کے لیے  کونے میں ایک ڈبہ رکھا  ہوتا ہے۔ دن میں ایک بار مختصر وقت کے لیے قیدیوں کو باہر میدان میں لایا جاتا ہے۔ قیدیوں سے ملاقات کے لیے جانے والے لواحقین کہتے ہیں کہ ملاقات یا تو ممکن نہیں، اگر اجازت مل بھی جائے تو دس منٹ کے حصول کے لیے گھنٹوں لائن میں رکھا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں “یہ جیل دنیا میں جہنم ہے”۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بعض اوقات جیل کی راہداریوں میں آنسو گیس چھوڑ دی جاتی ہے جس سے بعض افراد دم گھٹنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ ایک شخص کی آنکھوں میں سرخ مرچوں والاپانی ڈالا گیا جس سے وہ دماغی توازن کھو بیٹھا۔ پینے کے لیے گدلا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ قاہرہ میں انسانی حقوق کی ایک پرائیویٹ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس جیل میں قید تقریبا تمام لوگوں کو گردے کی بیماریاں لاحق ہیں اور سب کو پتھری ہے۔جیل کے اندر ہسپتال ہے لیکن وہاں علاج نہیں ہوتا۔ کیونکہ نہ دوائیاں دستیاب ہیں، نہ ڈاکٹرز اور نہ چیک اپ کے لیے مشینوں کی سہولت۔

2016 میں ہیومن رائٹس واچ نے خبر دار کیا تھا کہ جیل برج العرب میں انسانیت کے خلاف سخت جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کی وجہ سے ملک میں “برج العرب کے قیدیوں کو بچاؤ” کے ہیش ٹیگ کے ساتھ کئی بار سوشل میڈیا پر کیمپین بھی چلائی جا چکی ہے۔ لیکن حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ معزول صدر اور اخوان المسلمین کے رہنما محمد مرسی کو اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔ انہیں علاج  کی ضرورت تھی لیکن اس کی پروا نہیں کی گئی۔ آخر کار احاطہ عدالت میں ان کی وفات ہوگئی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...