سوشل میڈیا کو محفوظ و پر امن بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں

81

اتوار کی رات دارالحکومت اسلام آباد میں ایک نوجوان بلاگر کو قتل کردیا گیا۔ ان کے قتل کی خبر پاکستان میں پچھلے چوبیس گھنٹے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ رہی، اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ ان کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔

ان کے قتل کی وجوہات کے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ سبب جو بھی ہو اس واقعہ میں سوشل میڈیا کا کردار واضح ہے۔ لہذا  اس نکتے پر غور ضروری ہے کہ پاکستان میں سماجی روابط کے ذرائع ایسا میدان کیوں بنتے جا رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو قتل تک کرنے کے لیے آمادہ بیٹھے ہیں۔ ملک میں پچھلے چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا پوسٹوں کی وجہ سے قتل کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ یہاں ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو لوگوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کا سبب بنتی ہے اور تصادم کو فروغ دیتی ہے۔

سوشل میڈیا کا غلط وغیرمجاز استعمال پوری دنیا میں ہوتا ہے لیکن اس کے سدباب کے لیے کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں سائبر کرائم قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عملدآمد نہیں ہے۔ پچھلی حکومت میں فیس بک کمپنی کے نائب سربراہ نے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی تھی اور اس پر اتفاق کیا گیا تھا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے نفرت انگیز مواد کو زائل کیا جائے گا۔ اسی طرح موجودہ حکومت نے  بھی فروری میں اصلاحات متعارف کرائی تھیں، لیکن ابھی تک عمل نہ ہوسکا۔

پاکستان میں مین اسٹریم  میڈیا بھی کچھ آئیڈیل نہیں لیکن سوشل میڈیا انتہائی غیرمحتاط ہے۔ یہاں پارلیمنٹ کے اراکین سیاستدان بھی بسااوقات نازیبا زبان استعمال کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ بن گئی ہے جہاں کسی پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ حتی کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسی 64 تنظیمیں ہیں جنہیں حکومت نے کالعدم قرار دے رکھا رہے، ان میں سے 41  جماعتیں سوشل میڈیا پر سینکڑوں پیجز رکھتی ہیں اور بہت زیادہ فعال ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تمام ممالک میں ان ذرائع کو پرامن بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور تعاون کرتی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدہ لے اور ان کے اشتراک کے ساتھ سوشل میڈیا کو محفوظ و پرامن بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...