خواتین کے لئے آسان سفری سہولیات کیوں ضروری ہیں؟

ضویا ناظر

244

خواتین کے لئے آسان سفری سہولیات کی فراہمی کسی بھی ملک اور معاشرے کے لئے معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور اضافے کا باعث ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں خواتین کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال ایک سنگین مشکل مرحلہ ہوتا ہے وہاں اس کا اہتمام بہت ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں ریاستی حکومت  کے ایک فیصلے نے میڈیا کی توجہ حاصل کی جس کے مطابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ شہر میں رہنے والی خواتین کے لئے سٹی بس سروس اور دلی میٹرو میں مفت سفر کی سہولت کا علان کرتے ہیں۔ اس فیصلے کے مقاصد دو تھے، پہلا یہ کہ جو خواتین مالی مشکلات کے سبب سفر نہیں کرسکتیں انہیں سہولت پہنچائی جائے تاکہ وہ سفر کرسکیں اور یوں اپنے گھر والوں کے لئے معاونت کا سبب بنیں اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر شہر کے پبلک مقامات میں خواتین کی رسائی بڑھائی جائے گی تو اس طرح ان کے  لئے شہر کو مزید محفوظ بنایا جاسکے گا۔ دلی ریاست کی حکومت کے اس فیصلے پر سالانہ 700 کروڑ بھارتی روپے اخراجات آئیں گے۔ مرکز میں موجود بی جے پی نے اروند کیجریوال کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کی ایک بڑی وجہ سیاسی رقابت ہے کیونکہ کیجریوال بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی حریف عام آدمی پارٹی کے رہنما اور وزیر اعظم مودی کے بڑے مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اوبر کے اشتراک سے چلنے والا پِنک رکشہ

تاہم گوگل کے ذریعے کی جانے والی ایک گہری تحقیق سے نتائج سامنے آئے ہیں کہ دلی شہر کی مقامی حکومت کے پاس نہ صرف سرپلس بجٹ موجود ہے کہ وہ ان اخراجات کو برداشت کرسکتی ہے بلکہ شہر میں چلنے والی میٹرو بس سروس میں بھی اتنی گنجائش موجود ہے کہ خواتین کے لئے مفت سفر کی سہولت کو ممکن بنا سکتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے اندرون شہر میں چلنے والی سرکاری میٹرو بس سروس پر دی گئی سبسڈی میں کمی کرتے ہوئے اس کے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ (خبریں آرہی ہیں کہ حکومت شائد اس فیصلے پر تنقید کے بعد اسے واپس لے لیگی)

ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے خاتمے کے لئے یہ لازم ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنا کردار با آسانی ادا کریں

صاف ظاہر ہے کہ حکومت کے اس فیصلے میں عام شہریوں خاص طور پر خواتین کے لئے آسان اور محفوظ سفری سہولیات کی دستیابی اور آسائش کا خیال نہیں رکھا گیا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں خواتین ہماری ثقافتی بندشوں اور سماجی روایات کے سبب پہلے ہی گھروں سے باہر نکلنے میں مشکل محسوس کرتی ہیں وہاں بہت سی خواتین کے لئے سفری اخراجات اور آئے روز ان میں اضافہ بھی آسان سفری سہولیات میں ایک رکاوٹ تھا۔ ایسے گھرانے جن کے روزمرہ اخراجات کی ذمہ داری خواتین پہ ہے ان کے لئے سفری اخراجات میں کمی اور سہولت کے سبب روزگار کے مواقع آسان ہوتے ہیں اور وہ روزگار، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی آسانی سے کرلیتی ہیں۔ اسی لئے جب سال 2015 میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس کی سہولت مہیا کی تو بہت سی ورکنگ وومن جنہیں میں ذاتی طور پر جانتی ہوں انہوں نے مجھے بتایا کہ اس سہولت سے ان کے لئے روزگار اور کام کاج کی جگہوں پر جانا بہت آسان ہوگیاہے۔ ہمارے گھر پر مددگار خاتون نے مجھے بتایا کہ میٹرو بس چلنے سے پہلے ویگنوں پر سفر بہت مشکل تھا۔ مرد وں کے بیچ سفر کرنا بھی مشکل تھا اور آئے روز کرایوں کے بڑھنے کے سبب بھی بہت پریشانی رہتی تھی۔ بہت سی ویگنوں والے اپنے روٹ پہ چکر پورا نہیں کرتے تھے اور رستے میں اتار دیتے تھے۔ کوئی شکایت کرتا تو بدتمیزی سے پیش آتے تھے۔ میٹرو بس چلنے سے سفر کے اخراجات میں بھی کمی آئی تھی اور یہ بھی اطمینان تھا کہ یہ ایک طے شدہ کرایہ ہے۔ اس کےساتھ ساتھ سفر محفوظ اور آرام دی بھی تھا  اگر حکومت نے کرایہ بڑھایا تو غریب آدمی کے لئے بہت مشکل ہوگا۔

رواں سال اقوام متحدہ نے جاپانی حکومت کے تعاون سے مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کے لئے مختص پِنک بسیں چلانے کا پراجیکٹ شروع کیا  ہے۔ اس طرح کی سفری سہولیات فراہم کرنے سے بہت سی خواتین اپنے ضروری کاموں کے لئے آسانی سے گھر سے نکل سکیں گی۔

مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کے لیے شروع کی گئی پِنک بس سروس

اگرچہ کریم اور اوبر جیسی کار سروس کے اجرا کے بعد ملک بھر کے بڑے شہروں میں متوسط اور امیر طبقے کی خواتین کے لئے کار بُک کرکےسفر کرنا آسان ہوگیا تاہم ہماری ثقافت اور روایات کے سبب اس سہولت سے مستفید ہونے والی خواتین کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ البتہ ان کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ خواتین کو مزید بااختیار بنانے کے لیے آسان سہولیات کا اہتمام کریں تاکہ وہ خواتین جنہیں ڈیجیٹل سہولیات میسر نہیں ہیں اور جو ذاتی طور پر کار بُک کر کے سفر کرنے کے اخراجات نہیں رکھتیں انہیں بھی محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات مل سکیں۔ خواتین کے لیے آسان سفری سہولیات حکومت اور سماج دونوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور اب اسے ممکن بنانا لازم ہے۔ گذشتہ سال اوبر نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والی 100 خواتین کے لئے آسان اقساط پہ پنک رکشے مہیا کرنے کی اسکیم متعارف کروائی تھی اور اس کے لئے انہیں ڈیجیٹل میڈیم استعمال کرنے کی تربیت  بھی فراہم کی گئی تھی۔ لیکن ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سلسلے کو صرف اس ایک اسکیم تک نہیں رکنا چاہیئے تھا۔

ہماری حکومت اور معاشرے دونوں کو چاہیئے کہ خواتین اور لڑکیوں کےلئے آسان سفری سہولیات یقینی بنائیں کیونکہ یہ موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے خاتمے کے لئے یہ لازم ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنا کردار با آسانی ادا کریں اور اسی صورت ممکن ہوگا جب خواتین کے لئے سفر کرنا اور پبلک مقامات تک رسائی آسان ہوگی۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ: دی نیشن

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...