بجٹ 2019، ایک سرسری جائزہ

115

کچھ عرصہ پہلے تک وفاقی بجٹ سال میں ایک بار پیش ہوتا تھا۔ لیکن اب تو یہ حالت ہے کہ جب چاہے حکومتیں بجلی و گیس کی قیمت میں  اضافہ کر دیتی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر مہینے بڑھتی ہیں۔ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ اب محض ایک رسمی کاروائی ہے۔ اس میں کوشش کی جاتی ہے کہ مختلف ثانوی نوعیت کے اعداد و شمار کو موضوع بنا کے اصل میکرو اکنامک معاملات کو چھپا کر رکھا جائے۔ پاکستان کی دو تہائی سے زیادہ معیشت ویسے ہی غیر دستاویزی ہے ایسی معیشت کا بجٹ کتنی درستی سے تیار کیا جا سکتا ہے اس کا اندازہ قارئین خود لگا سکتے ہیں۔

موجودہ  بجٹ پر اگر مختصر بات کی جائے تو یہ بجٹ آپ کو تضادات کا مجموعہ نظر آئے گا۔ جس میں ایک طرف غربا  کی حالت بدلنے کا دعوی کیا گیا ہے  وہیں دوسری طرف  بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

سابقہ حکومتوں کی  طرح موجودہ حکومت بھی امرا اور شرفا کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں ناکام رہی ہے اور اس کا ٹارگٹ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے  والا طبقہ  خصوصا تنخواہ دار لوگ ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ جسے دس فی صد تنخواہوں میں اضافے کا جو لالی پاپ دیا گیا گیا ہے، ان کی تنخواہوں میں اضافہ نئی ٹیکس سلیبوں کی ہیر پھیر اور مہنگائیکی نذر ہو کے صفر ہو جائے گا یا منفی میں چلا جائے گا۔ کم از کم قابلِ ٹیکس آمدن کی حد 12 لاکھ سے کم کر کے تنخواہ دار طبقے کے لیے چھ لاکھ اور دیگر غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے چار لاکھ مقرر کر دی گئی ہے۔ انکم ٹیکس کے تعین کے لئے موجود سلیبوں کی تعداد بھی بڑھا کے 12 کر دی گئی ہے، جس سے درمیانے طبقے پر مزید بوجھ پڑے گا کیونکہ بالواسطہ ٹیکسوں کے ساتھ براہِ راست ٹیکس میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

اسی طرح بنیادی یا کم از کم اجرت کا معاملہ ہے جو 10 فیصد اضافے کے ساتھ 17500 روپے کر دی گئی ہے۔ اس اجرت میں ایک خاندان تو کجا ایک انسان کا گزارہ بھی ممکن نہیں ہے۔ لیکن پاکستان میں محنت کشوں کی اکثریت کو اتنی اجرت بھی نہیں مل پاتی ہے۔ یہ شرمناک حد تک کم اجرت اس نظام کی حکومتوں کی محنت کش طبقے کے بارے میں بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

معیشت کو دستاویزی بنانا چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف بینکوں سے پانچ لاکھ اور اس سے زائد رقم والے لوگوں کا ڈیٹا ان کے شناختی کارڈز سمیت مانگا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کا بینکوں سے بھی اعتماد  ختم ہو جائے

بجٹ کا کْل تخمینہ 7022 ارب روپے ہے جو پچھلے سال سے 30 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات مجموعی طور پر 6717 ارب روپے ہوں گے جو پچھلے سال سے 19 فیصد زیادہ ہیں۔ ایف بی آر نے اس سال ٹیکس وصولی کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا ہے۔ بجٹ خسارے کا ہدف 3560 ارب روپے ہے جبکہ مجموعی مالیاتی خسارہ تقریباً 3137 بلین روپے ہو گا۔ لیکن یہ خسارے ان اہداف سے کہیں زیادہ بڑھ جانے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف سراسر غیر حقیقی ہے۔ خدشہ یہی ہے کہ حکومت یہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے گی اور رواں برس کئی مزید منی بجٹ  آئیں گے۔

ختم ہونے والے مالی سال کے دوران حکومتی آمدن میں اضافہ صفر رہا ہے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں ہدف سے کئی سو ارب روپے کم رہی ہیں۔ نوٹوں کی مسلسل چھپائی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیوں اور عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کی یلغار کے باوجود مالیاتی خسارہ بدستور جی ڈی پی کے 5.5 فیصد پہ کھڑا ہے۔ آئندہ مالی سال یہ 7.5 فیصد (تقریباً چار ہزار ارب روپے) سے اوپر جا سکتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرضوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو گا۔ قرضوں اور شرح سود میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے میں سود کی ادائیگی حکومتی آمدن کے 41 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو موجودہ حکومت سے قبل 33 فیصد تھی۔

غیر سرکاری مبصرین کے مطابق موجودہ حکومت اپنے پہلے تقریباً ایک سال کے دوران قرضوں میں پانچ ہزار ارب روپے کا اضافہ کر چکی ہے۔ جبکہ خود حکومت کے مطابق بھی یہ اضافہ ساڑھے تین ہزار ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔ تقریباً دس ارب ڈالر کا قرضہ سعودی عرب اور چین وغیرہ سے لیا گیا۔ ابھی آئی ایم ایف سے قرضہ لینا ہے۔ داخلی قرضوں کا حجم اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

صحت اور تعلیم کے شعبوں کو صوبوں کے حوالے کر کے ویسے ہی گول کر دیا گیا ہے۔ صوبوں کے لئے جو 3255 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ان کا بڑا حصہ پھر جاری اخراجات اور بد عنوانیوں کی نذر ہو جائے گا۔ صحت اور تعلیم کے اخراجات جو پہلے ہی جی ڈی پی کے ڈیڑھ دو فیصد کے درمیان جھولتے رہتے ہیں، مزید کم ہی ہوں گے۔ یوں “صحت کا  انصاف” اور “تعلیم کا انصاٖف” جیسے کھوکلے نعرے اس بجٹ میں ہوا میں اڑ گئے۔

اسی طرح بجٹ کے مطابق معیشت صرف 2.4 فیصد کی شرح سے نمو پائے گی۔ معیشت میں اتنی سست روی 2008-09ء کے بحرانی عرصے میں بھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی، جب شرح نمو 2.6 فیصد تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں ہر سال محنت کی منڈی میں داخل ہونے والے پندرہ سے بیس لاکھ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے کم از کم 8 فیصد کی شرح نمو درکار ہے، جو کہ فی الحال نہیں ہے اور مستقبل قریب میں اس کے پیدا ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔

2.4 فیصد کی انتہائی کم شرح نمو کو بلند افراطِ زر (مہنگائی) کے ساتھ ملا کے دیکھیں تو یہ ‘سٹیگفلیشن‘ کی انتہائی گھمبیر صورتحال بنتی ہے، جس سے غربت اور بیروزگاری میں بے حد اضافہ ہی ہو گا۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ عملی طور پہ معیشت نمو یعنی بڑھوتری کی بجائے سکڑاؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ معیشت کی سستی بیروزگاری کو جنم دے گی اور خدشہ ہے کہ لاکھوں لوگ بیروزگاری کی بھینٹ چڑھ جایئں گے اور پانچ سال میں ایک  کروڑ نئی نوکریوں کی بجائے ایک کروڑ لوگوں  کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ ہے۔

موجودہ حکومت کا ایک دعوی پچاس لاکھ نئے گھر تعمیر کرنے کا ہے اور حالت یہ ہے کہ سیمنٹ اور سریا جیسی اشیا جو مکان بنانے کا اہم حصہ ہے وہ مہنگی کردی گئی ہیں۔ ٹیکس قوانین سخت کرنے کا دعوی ہے اور دوسری طرف نان ٹیکس فائلرز کو نئی جائیداد بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسی طرح سے معیشت کو دستاویزی بنانا چاہتے ہیں دوسری طرف بینکوں سے پانچ لاکھ اور اس سے زائد رقم والے لوگوں کا ڈیٹا ان کے شناختی کارڈز سمیت مانگا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کا بینکوں سے بھی اعتماد  ختم ہو جائے اور وہ پیسے بینکوں سے باہر رکھنا شروع کر دیں۔

عمومی اندازہ یہہی  ہے کہ اس بجٹ سے آنے والے دنوں میں بحران بڑھے گا اور عوام پر اس کے بوجھ میں اضافہ ہی ہو گا۔ خدشہ ہے کہ  یہ معاشی بحران ملک میں عدم استحکام کا باعث نہ بن جائے۔ سویت یونین کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ یاد رکھئے گا کہ صرف ایک مستحکم معیشت ہی کسی ملک کو مضبوط اور اکٹھا رکھ سکتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...