پاکستان میں شہرکاری کا بڑھتا رجحان اور مسائل

انگاسیو ارتزا

52

شہرکاری کے عمل میں اضافے کے اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیا کے ممالک میں سرفہرست ہے۔ 2017 کی مردم شماری کے ریکارڈ کے مطابق ملک کی 36.4 فیصد آبادی شہری علاقوں میں بستی ہے۔ اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈوژن کا اندازہ ہے کہ 2025 تک پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ شہروں میں قیام پذیر ہوگا۔ شہرکاری کے عمل اور اقتصادی ترقی کی شرح نمو کے مابین گہرا ربط ہوتا ہے۔ عالمی تخمینوں کے حساب سے گلوبل جی ڈی پی کے 80 فیصد حصے کی پیداوار شہروں کے ساتھ وابستہ ہے۔ ایسے علاقے جن میں شہرکاری کا عمل زیادہ ہوتا ہے وہاں فی کس آمدنی کا تناسب اور ملازمتوں میں مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس عمل کے ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ایجادات اور معاشی ترقی کے حوالے سے بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پہ پاکستان کی کُل جی ڈی پی کے 55 فیصد کی پیداوار شہروں سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ 95 فیصد فیڈرل ٹیکس ریوینیو  ملک کے 10 شہروں سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ صرف کراچی کا پاکستان کی کل جی ڈی پی میں حصہ 12.15 فیصد ہے، یوں ملک کے مجموعی فیڈرل ٹیکس ریوینیو کا55 فیصد وہاں سے آتا ہے۔ دس میں سے سات اہم شہروں میں فی کس آمدنی کا حجم اوسط آمدنی سے بہت زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مجموعی طور پہ شہروں میں غربت کم ہے۔ (شہری علاقوں میں کثیرالجہت غربت کا تناسب دیہی علاقوں کے مقابلہ میں اس کا چھٹا حصہ ہے)۔

لیکن نئی تحقیق اور سروے سے ثابت ہوا ہے کہ شہرکاری کے عمل اور ترقی کے مابین خودکار تعلق باقی نہیں رہا۔ کئی ترقی پذیر ممالک میں شہرکاری اقتصادی نمو، ملازمتوں میں مواقع اور تخلیقی عمل میں اضافے کے بغیر ہو رہی ہے۔ غیر منصوبہ بند اور بے قاعدہ شہری کاری نے اُلٹا جھگی محلوں، ماحولیاتی تباہی، غربت اور عدم مساوات کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کو بھی ان مسائل کا شدید سامنا ہے۔

ایسے تمام شہر جنہوں نے عالمی سطح پر ترقی کا اعلیٰ مظاہرہ کیا ہے ان کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گورننس کا بہترین اور مثالی ڈھانچہ رکھتے ہیں

پاکستان میں رہائشی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تقریبا 10 ملین سے زائد گھروں کی تعمیر درکار ہے۔ ملک کی شہری آبادی میں  اضافے اور رہائشی ضرورت و مکانات کی مساوی فراہمی کے درمیان تناسب اور برابری کو ملحوظ خاطر ہی نہیں رکھا گیا۔ نتیجہ میں لوگوں کو رہنے کے لیے چھتوں کی قلت کا سامنا ہے۔ شہروں میں رہائشی ضرورت کے مسائل نے کئی چیلنج کھڑے کر دیے ہیں۔ بے ڈھنگی شہرکاری کے عمل نے زرخیز زرعی زمینوں کو بھی نگل لیا ہے۔ ہوسکتا ہے عمودی نظام رہائش کے فروغ کے لیے حکومت کی حالیہ پالیسی اور اٹھائے جانے والے اقدامات مفید ثابت ہوں۔ تاہم پاکستان کو لاحق زلزلے اور قدرتی آفات کے خطرات کے پیش نظر حکومت کو عمودی رہائش اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے مؤثر ضوابط بنانے کے ساتھ ان پر عمل کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ تعمیراتی اصلاحات میں مکانات کےعمدہ نظم کو سامنے رکھا جائے اور تمام ضروریات کا لحاظ ہونا چاہیے تاکہ انسانی صلاحیت وانرجی کو ضائع ہونے سے  بچایا جاسکے۔ مثال کے طور بلند و بالا عمارت میں مناسب پارکنگ کی سہولیات کا مسئلہ ایسا ہے جسے ضرور اہمیت دینی چاہیے۔

ایسے تمام شہر جنہوں نے عالمی سطح پر ترقی کا اعلیٰ مظاہرہ کیا ہے ان کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گورننس کا بہترین اور مثالی ڈھانچہ رکھتے ہیں۔ کسی شہر کی ایسی حکومت جو بااختیار ہو۔ بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل ہو اور بلدیاتی ودیگر انتظامی ضروریات ومسائل سے بھرپور انداز میں نبرد آما ہوسکتی ہو، اس کی یہ خصوصیت تیز رفتار معاشی وسماجی ترفی کا ہدف حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان کو ابھی منظم اور مالی طور پہ مستحکم بلدیاتی نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اسلام آباد میں اسٹڈی سروے کیا تو پتہ چلا کہ شہر کی انتظامیہ صرف پارکنگ فیس کی مد میں 15.3 بلین کی آمدنی جمع کرسکتی ہے۔

شہر اقتصادی سرگرمیوں کے مراکز ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ کاربن کے اخراج کا بھی بڑا سبب ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق شہر سالانہ 2.1 بلین ٹن کچرا اور فضلہ پیدا کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی کلین اینڈ گرین کیمپین اور 10 ارب درختوں کا سونامی جیسے اقدامات کو عالمی پذیرائی مل رہی ہے۔ اور ان کو اپنایا جا رہا ہے۔ یہ کوششیں قابل تعریف ہیں لیکن اس کے ساتھ شہروں کوماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بند اقدامت کی ضرورت ہے۔ پاکستان تیزی کے ساتھ ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جسے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ یہاں واٹر ریسائکلنگ کے بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے، اس میں خصوصی طور پہ انفرادی واجتماعی سطح پر باہمی اشتراک وتعان ہونا چاہیے۔ فضائی آلودگی الگ سے ایک اور مسئلہ ہے۔

شہرکاری کے عمل سے برآمد ہونے والے فوائد کا حصول اور ان میں توسیع صرف قومی سطح پر علمی وتحقیقی پالیسیوں اور منصوبوں  کی تشکیل کے ذیعے ممکن بنائے جاسکتے ہیں۔ مالی طور پہ خودمختار شہری بلدیاتی حکومتیں جو آمدنی کے جمع وخرچ پر احتیار رکھتی ہیں، وہی معاشی ترقی ممکن بناتی اور بہتری لاتی ہیں۔ یہ عوامی بہبود کویقینی بناسکنے کے ساتھ اس میں جدید تخلیقی خدمات بھی مہیا کر سکتی ہیں۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: ایکسپریس ٹربیون

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...