حکومتوں میں ٹیکنو کریٹس کا کردار، اچھا یا برا؟

امجد الدھامات

192

پاکستان کی موجودہ حکومت میں چند اہم وزارتوں سمیت تقریبا 16 اہم عہدوں پر غیر منتخب ماہرین تعینات ہیں(تجزیات)

دنیا میں مختلف ممالک کی حکومتی کابینہ میں ٹیکنوکریٹس، یعنی غیرمنتخب ماہرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حتی کہ پچھلے چند سالوں کے دوران تو یورپ میں بھی مکمل ٹیکنوکریٹ حکومتوں کی مثالیں ہمارے سامنے آچکی ہیں۔ اس مسئلہ پر اگرچہ محدود سطح پر لکھا بھی گیا ہے لیکن اس حوالے سے متنوع زایوں سے بہت وسیع اور مرتب مواد دستیاب نہیں ہے۔ ٹیکنوکریٹ حکومتوں و کابینہ کی عملداری اور کردار کی حیثیت ہر جگہ الگ ہے اور اس کے اثرات ونتائج میں بھی فرق ہے۔ مختلف ممالک کے مابین اس کا تقابلی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔

ٹیکنو کریٹ کابینہ کی بہت اچھی اور آئیڈیل مثالیں دنیا میں موجود ہیں۔ جن میں چین، سنگاپور اور دبئی کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس نوع کا نظم کسی حد تک عراق جیسے ممالک میں وقتی ضرورت بھی بن جاتا ہے جو فرقہ واریت کی بھیانک جنگ سے ابھی باہر نکلنے کی کوشش میں ہے۔ وہاں عبادی اور مقتدیٰ الصدر کی زیرنگرانی پچھلے سال سے ایسی ہی کابینہ کام کر رہی ہے۔ اپنے شعبوں کے یہ ماہرین کم ازکم ان اساطیر اور نعروں کے استعمال میں تاک نہیں ہیں جو فساد بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں۔

عراق کی مذکورہ مثال کی طرح بعض اوقات استثنائی حالات میں ٹیکنوکریٹ کابینہ کی تشکیل ضرورت بن جاتی ہے۔ رواں دہائی میں اس طرح کی کئی اور مثالیں بھی سامنے آئی ہیں۔ اٹلی میں 2011 میں اقتصادی بحران کے بعد سلویو برلسکنی  کی حکومت نے استعفیٰ دیا تو اس کے بعد مختصر عرصے کے لیے پروفیسر ماریو مونٹی کی سربراہی میں ٹیکنوکریٹ کابینہ تشکیل دی گئی۔ 2012 میں اسی بحران کے سبب اور انتخابات کے ڈانوا ڈول نتائج کے بعد سیاسی جماعتوں کی حکومت سازی میں اتفاق رائے نہ ہوسکنے کے باعث یہی نظم اپنایاگیا۔ اس کابینہ میں مختلف شعبوں کے ایسے16 ماہرین  شامل تھے جو یونیورسٹیوں میں اساتذہ تھے۔ ایسے ہی تونس میں اپوزیشن لیڈر شکری بلعید کے قتل کے بعد وزیراعظم حمادی الجبالی نے نئی کابینہ بنانے کا اعلان کیا جو ٹیکنوکریٹس پر مشتمل تھی۔کچھ ممالک میں عام انتخابات سے چند ماہ قبل حکومت ٹیکنوکریٹس کو سپرد کردی جاتی ہے۔ بنگلادیش میں 2011 سے قبل تک یہی طریقہ رائج تھا۔

دنیا کی کئی اہم شخصیات سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے اصل میں ٹیکنوکریٹس ہی تھیں۔ بعد میں انہوں نے اپنی سیاسی پہچان بنائی

ٹیکنوکریٹس کی صلاحیتوں سے دنیا کی تمام حکومتیں استفادہ کرتی ہیں۔ انہیں ایسی وزارتیں اور عہدے بھی تفویض کیے جاتے ہیں جو انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ بنگلا دیش میں تو قانون ہے کہ ہر حکومت میں 10 فیصد وزارتیں ٹیکنو کریٹس کو دی جائیں گی۔ فرانس کی موجودہ حکومت میں 7 وزارتیں غیرمنتخب ماہرین کے پاس ہیں۔ موروکو کی کابینہ میں 9 وزارتیں ایسی ہی شخصیات چلا رہی ہیں جن میں وزارت داخلہ بھی شامل ہے۔ انڈونیشیا و بھارت کی حکومتی کابینہ میں کئی اہم وزارتیں ٹیکنوکریٹس کے زیرنگرانی ہیں۔

دنیا کی کئی اہم شخصیات سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے اصل میں ٹیکنوکریٹس ہی تھیں۔ بعد میں انہوں نے اپنی سیاسی پہچان بنائی۔ بھارت کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ ماہر معاشیات تھے اور ریزور بنک کے گونر کے طور پہ خدمات انجام دیتے رہے۔ چِلی کی سابق صدر مشیل باشیلے شعبہ دفاع کی ماہر خاتون کے طور پہ جانی جاتی تھیں۔ لائیبیریا کی سابق صدر ایلن جونسن امریکہ میں ورلڈ بینک میں ملازم تھیں۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براؤن ٹیکس وریوینیو کے شعبہ کے ماہر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ اینگلا مرکل کوانٹم فزکس میں پی ایچ ڈی ہیں اورر اکیڈمی آف سائنسز میں ریسرچر تھیں۔

ٹیکنوکریٹس کی منطقی وریاضیاتی ذہنیت قابل قدر صفت ہے۔ لیکن ان کے بارے عمومی رائے یہ ہے کہ ان کی ایک تعداد سیاستدانوں کو نااہل خیال کرتی ہے۔ یہ تصورغیرصحت مند ہے اور نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ خصوصا ایسے معاشروں میں جہاں جمہوری نظم کمزور ہو۔ اسی لیے جمہوریت مخالف طبقہ ان کا استعمال کرتا ہے۔ پاپولسٹ بھی ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو سیاسی پراسس کے ساتھ مضبوط ربط نہ رکھتے ہوں۔ جمہوری حکومتوں میں ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے لیکن ان کی عملداری اس حد تک رہے کہ اس کی وجہ  سے سیاست کا عوامی ڈھانچہ، آزادی اور جمہوری نظم متأثر نہ ہو۔ نہ رائے عامہ کی حد تک، اور نہ عملی طور پہ۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: روزنامہ نبا،لبنان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...