سماج کی تطہیر اور کامیابی کا راستہ

25

قدرت جس پہ مہربان ہوتی ہے اس کے گناہوں پہ ہی نہیں بلکہ خطاؤں پہ بھی پردہ ڈالتی ہے اور لوگوں کی توجہ ان سے ہٹی رہتی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں قدرت مہلت دیتی ہے کہ وقت اس کی تربیت کرے، وقت کے ساتھ سیکھ جائے، یا کم از کم اس شکایت کا حق نہ رکھے کہ مجھے مہلت نہ دی گئی۔ ایسی صورت حال فقط فرد کے ساتھ ہی نہیں بلکہ قوم کے ساتھ بھی ہوتی ہے بلکہ حکومت و حکمران کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔ قدرت کا طریقہ یہی ہے، وہ گرفت اس وقت کرتی ہے جب خود قوم کے اندر سے آواز اٹھتی ہے کہ واقعی ہم اس گرفت کے حقدار تھے اور یہی آواز فرد کے دل سے بھی آتی ہے۔

اگر یہ خیال کیا جائے کہ پورے معاشرے کے گناہوں کا حساب چند افراد سے لیا جائے تو معاشرے کی تطہیر ہوجاتی ہے یا معاشرے کو خوف و دہشت کے ماحول میں رکھا جائے تو بد دیانتی اور ظلم دم توڑ دیتے ہیں حالانکہ ایسی سوچ اور رویہ خود بددیانتی اور ظلم  کی علامت ہے۔ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں، جب عزت وحرمت کی پامالی، قتل و غارت، ڈاکے اور نقب زنی میں اضافہ ہوجائے تو دراصل خبردار کیا جاتا ہے کہ تمہارے مفسد کردار کے اجتماعی نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد بڑی تباہی تمہاری منتظر ہوتی ہے۔ یہ صرف ان بُرے اعمال کے جھٹکے ہوتے ہیں جو ہم دکان، دفتر، مسجد، پارلیمنٹ اور عدالت میں کرتے ہیں۔ زوال کا قرآنی فلسفہ یہی ہے کہ عمارت آہستہ آہستہ بوسیدہ ہوتی ہے اور منہدم یکدم ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں عمارت آج ہی گری ہے لہٰذا خرابی اور نقص بھی آج ہی پیدا ہوئے ہوں گے۔ زوال و عذاب زمین پہ یکدم نہیں اترتے، اس کی نشانیاں قوموں کے کردار و اعمال کے نتائج میں سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ناکامی کا الزام ایک دوسرے کو دینے اور زوال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دینے سے کبھی زوال و شکست کا خاتمہ نہیں ہوتا

ہم نے بھی اول روز سے امیدیں باندھ رکھی ہیں کہ سماج کے تمام اجتماعی گناہوں کا بوجھ چند اشخاص پہ ڈال کر انہیں سپردِ خدا کر دیا جائے۔ اس کے بعد طلوع ہونے والا سورج امن، خوشحالی اور استحکام کی کرنیں لے کر طلوع گا۔ اس امید میں خواب بھی ہیں اور عقیدت بھی، خواہشات بھی ہیں اور حیرانی بھی، کچھ پیشن گوئیاں بھی ہیں اور خوش فہمیاں بھی۔ تاریخ بتاتی ہے، ہمیں کچھ وقت گزرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے جو ہوا غلط ہوا۔

اگر زوال و عذاب سے بچنے یا نکلنے کی خواہش، قوم کے ہر فرد کا شعوری مسئلہ بن جائے، ہر فرد اس سے نکلنے کے لیے پُر عزم ہو جائے۔ اس عزم و ارادہ کو اپنے عمل و کردار میں ڈھال لے۔ کوئی فرد بھی لمحہ بھر کے لیے ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے، اس کے لئے دو کام کرنے ضروری  ہیں۔ ایک یہ کہ اجتماعی مفاد کبھی بھی فرد کے مفاد سے کمتر نہ ہو، یعنی اجتماعی مفاد قابل ترجیح قرار پائے اور کبھی ایسا نہ ہو کہ ہم صرف ”میں” کے اسیر ہو کر رہ جائیں۔ ”میں” اس لئے اہم ہے کہ اس کی تربیت کی جائے اسے اخلاق کے قالب میں ڈھالا جائے، اسے اچھے انسان کا وجود دیا جائے ”میں” تربیت کا حقدار ہے، اس کی تربیت سے ہی سماج و معاشرہ با اخلاق بنتا اور اس میں انسانیت نظر آتی ہے۔ دوسرا کام ”محنت و کوشش” ہے۔ زندگی میں فرد یا قوم محنت و کوشش کے ذریعے بڑے سے بڑے مقصد کو حاصل کر پاتی ہے۔ ناکامی کا الزام ایک دوسرے کو دینے اور زوال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دینے سے کبھی زوال و شکست کا خاتمہ نہیں ہوتا اور نہ چند لوگوں کو پھانسی چڑھانے سے مسئلہ حل ہوتا ہے۔ یہ تطہیری عمل ہے جس سے پورے سماج کو گزرنا ہے ورنہ حالات بہتر نہیں بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...