وفاقی بجٹ: حکومت اور عوام، کس کا احتساب ضروری ہے؟

363

وفاقی بجٹ 2019-20 پیش کر دیا گیا ہے۔ وفاقی بجٹ کی ملکی معیشت میں بہت اہمیت ہوتی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف حکومتی ترجیحات کا پتا چلتا ہے بلکہ انویسٹرز کے لئے بھی یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ حکومتی پالیسیز کی سمت کیا ہو گی۔ موجودہ بجٹ گزشتہ ادوار میں پیش کئے گئے بجٹ کی طرح ایک بے سمت اور غیر ترقیاتی اعلامیہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا مقصد کاروباروں میں فروغ، مارکیٹ میں اصلاحات اور شہریوں کی سہولیات میں اضافہ کی بجائے ٹیکس کے نام پر لوٹ کھسوٹ، شہریوں کو ٹیکس کے نام پر دھمکانا اور ٹیکس کی رقم سے ریاستی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ہے۔

موجودہ بجٹ گزشتہ بجٹس کی نسبت زیادہ دھندلا، زیادہ بے سمت اور زیادہ جابرانہ و استحصالانہ ہے۔ یہ اور سابقہ بجٹ، پاکستان اکنامک سروے اور پاکستان میں کئے گئے دیگر دوسرے سروے چند بنیادی چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو میری رائے میں درج ذیل ہیں:

اوّل: پولیٹیکل اکانومی کا لٹریچر بتاتا ہے کہ ٹیکسز دراصل ان خدمات کی قیمت ہوتی ہے جو حکومتیں اپنے شہریوں کو فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ تین گھنٹے سینما میں بیٹھیں، مزے دار اے سی کے مزے لیں اور اچھی فلم سے لطف اندوز ہوں۔ اگر سینما مطلوبہ سروسز مہیا نہیں کرے گا تو اسے ٹکٹ کی صورت میں قیمت وصول کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔۔۔ حکومت کے ذمے بھی کچھ خاص کام ہیں جن کی بجا آوری کے لئے ریاست نام کا ادارہ وجود میں آتا ہے ان کاموں میں یہ تین کام بنیادی سمجھے جاتے ہیں۔ شہریوں کی جان کی حفاظت، شہریوں کے مال یعنی حق ملکیت (پراپرٹی رائٹس ) کی حفاظت، شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت۔ اگر حکومت یہ بنیادی امور سر انجام نہیں دیتی تو شہری ٹیکس دینے سے انکار کا حق رکھتے ہیں۔ پاکستان میں نہ شہریوں کی جان محفوظ ہے اور نہ مال۔ ان کے بنیادی حقوق نہ صرف سلب کئے جا رہے ہیں بلکہ شہریوں کی طرف سے ان کا مطالبہ بھی غداری کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ اس صورت میں حکومت کس اخلاقی حیثیت سے ٹیکس وصولی اور اس میں اضافہ کی اپیل کرسکتی ہے؟

پولیٹیکل اکانومی کا لٹریچر یہ بھی بتاتا ہے کہ ٹیکسز دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک، وہ ٹیکس جو شہری اپنی رضامندی اور خوشی سے ادا کرتے ہیں ویسے ہی جیسے وہ اپنی خوشی سے سینما کے ٹکٹ ادا کرتے ہیں یا ان دوسری خدمات کی قیمت ادا کرتے ہیں جن سے وہ افادہ (Utility) حاصل کرتے ہیں- دوم، جب حکومت مختلف جابرانہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے ٹیکس ایسے وصول کرتی ہے جیسے کوئی بدمعاش بندوق کے زور پر راہ گیروں سے ان کے بٹوے اور موبائل فون چھینتا ہے۔ ٹیکس کی اس صورت کو پولیٹکل اکنامکس میں چوری (tax is a theft ) سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ان ڈائریکٹ (Indirect ) ٹیکسز اس کی بدترین قسم ہے۔ ٹیکس کی اس قسم میں حکومتیں جتنا چھین سکتی ہیں اتنا ہی ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے- پاکستان میں حکومتوں کا بنیادی ذریعہ ٹیکس یہی دوسرا ہے۔ جب تک حکومت جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بناتی، شہریوں کے بنیادی حقوق کے مطالبہ کو غداری سمجھنے کے بجائے انہیں تحفظ نہیں دیتی اور شہریوں کی مرضی و منشاء (ووٹ) کو عزت و تکریم نہیں دیتی اس وقت تک اس کا مطالبہ ٹیکس بے معنی ہے۔ پولیٹیکل اکانومی کا لٹریچر یہ بتاتا ہے کہ دوسری صورت میں لوگوں میں ٹیکس کی ادائیگی سے بے زاری بڑھتی ہے۔ یوں حکومت جابرانہ ذرائع استعمال کر کے ٹیکس میں کچھ اضافہ تو شاید حاصل کر لے مگر وہ ٹارگٹس جن کا وعدہ اس بجٹ میں کیا گیا ہے ان کا حصول ناممکنات میں سے ہے۔

دوم: موجودہ بجٹ میں انکم ٹیکس ہر سطح پر بڑھایا گیا ہے- اکنامکس کا لٹریچر ہمیں یہ بتایا ہے کہ ٹیکسز کی شرح میں اضافے کا معیشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے جس سے اکنامک گروتھ کم ہوتی ہے۔ اس کا بزنسز اور کنزیومر دونوں کی سطح پر منفی اثر ہے۔ بزنسز میں انویسٹمنٹ کی شرح کم ہوتی ہے یوں قومی پیداوار کم ہوتی ہے۔ کنزیومر کی سطح پر اس طرح کہ اس سے قوت خرید بھی کم ہوتی ہے اور بچت (سیونگ ) کی شرح بھی۔ بچت کی زیادہ شرح ترقی پزیر ممالک کے لئے ویسے ہی ضروری ہے جیسے کنزیومر کے لئے روٹی پانی۔ ترقی پزیر ممالک میں اگر سیونگ کی شرح کم ہو گی تو چھوٹے و بڑے بزنس پروجیکٹس کے لئے سرمایہ کی قلت ہو گی جس سے انویسٹمنٹ میں مزید کمی آئے گی اور اکنامک گروتھ سکڑے گی۔ اس سب کچھ کا مجموعی اثر بے روزگاری میں اضافہ اور شہریوں کے معیار زندگی میں کمی ہے۔

حکومت جابرانہ ذرائع استعمال کر کے ٹیکس میں کچھ اضافہ تو شاید حاصل کر لے مگر وہ ٹارگٹس جن کا وعدہ اس بجٹ میں کیا گیا ہے ان کا حصول ناممکنات میں سے ہے

سوم: اکنامکس کا لٹریچر ہمیں بتاتا ہے کہ ٹیکسز کی شرح میں اضافے سے مارکیٹ فارمل سے ’’ان فارمل“ یعنی undocumented کی طرف کھینچی چلی جاتی ہے کیونکہ چھوٹے و درمیانے بزنسز اور تنخواہ دار طبقہ کے لوگوں کے لئے ٹیکسز کی ادائیگی سے انحراف کی ترغیب (Incentive ) میں اضافہ ہوتا ہے- پاکستان میں پہلے ہی معیشت کا غالب حصہ undocumented ہے، موجودہ بجٹ اور ٹیکس پالیسیز اس میں مزید اضافہ لائیں گی۔ اسے اس مثال سے سمجھیں کہ جب بنک کے زریعے سے ٹرانزکشنز (لین دین ) پر withholding ٹیکس نہیں تھا تو لوگ بنکوں کو زیادہ استعمال کرتے تھے بنسبت اس وقت کے جب ان ٹرانزکشنز پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ نتیجے میں معیشت بذریعہ کیش لین دین کی طرف منتقل ہوئی ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں واضح مثالیں ہیں۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ ٹیکسز کی شرح کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ آیا حکومتی سطح پر ٹیکسز کیسے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں ریاست کی ٹیکسز کے استعمال کے ضمن میں کریڈیبلٹی تقریبا صفر ہے۔ پاکستان میں ریاستی اشرافیہ ٹیکسز کی لوٹ کو آپس میں بندر بانٹ طرز میں تقسیم کرتی ہے۔ اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں، مئی 28، 2019 دی نیشن کی خبر ہے “حکومت نے 62 ارب روپے ٹیکسٹائل سیکٹر کو فراہم کئے”- یاد رہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر بالکل بھی کوئی ٹیکس نہیں دیتا کیونکہ اسے زیرو ٹیکسیشن میں رکھا گیا ہے- خبر ہے کہ “گزشتہ ماہ، بجٹ کے اعلان سے بھی پہلے شوگر ملوں کو 21.44 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی”- “مئی 31، 2019 …حکومت نے 20 ارب روپے سٹاک ایکسچینج کے بروکرز کو مہیا کئے” تاکہ وہ حالیہ گراوٹ کا سامنا کر سکیں۔

دوسری طرف اعلی تعلیم کے بجٹ میں 71 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے- پورے سال کے لئے اعلی تعلیم پر مختص رقم اب 87 ارب روپے ہے- جب ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ سے پوچھا گیا کہ آپ اتنی کم رقم سے کیسے خرچ پورے کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ ہم اساتذہ کی بھرتیاں کم کریں گے، کچھ تعلیمی پروگرامز بند کریں گے وغیرہ وغیرہ- دنیا بہت تیزی سے علم کی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے- آنے والا دور چوتھے صنعتی انقلاب کا ہے- تعلیم میں اعلی درجے کی تحقیقات، ایجادات اور دریافتوں کے بغیر مستقبل کی معیشت میں آگے بڑھنا ناممکن ہے- تعلیم پر اتنے کم بجٹ کا یہ بھی مطلب ہے کہ اعلی تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں- یاد رہے کہ تعلیم و صحت پر حکومتی اخراجات کو حکومتوں کی شہریوں کے لئے خیر خواہی (Social Spending ) کا سب سے بڑا اشاریہ (Indicator ) سمجھا جاتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان بار بار میڈیا پر یہ فرما رہے ہیں کہ عوام ٹیکس نہیں دیتی، عوام ٹیکس دے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام ٹیکس نہیں دیتی تو پھر یہ 5228.00 ارب روپے کیسے اکٹھے ہو گئے ہیں؟ اس سے بھی بڑا سوال جس کا حکومت وقت سے جواب آنا ضروری ہے کہ ٹیکسز کو کہاں کہاں خرچ کیا جا رہا ہے؟ وزیراعظم کو پوری تاریخ میں جانے کی ضرورت نہیں صرف یہ بتا دیں کہ ان کی حکومت کے گزشتہ نو دس ماہ میں ٹیکسز کہاں کہاں اور کیوں خرچ ہوئے؟ اس سارے خرچ میں عوام کی تعلیم و صحت اور دیگر ضرورتوں پر کتنا خرچ ہوئے؟ ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان عوام کو قصور وار قرار دینے پہلے، اس ریاست جس کے وہ آئینی طور پر چیف ایگزیکٹو ہیں کے گریبان میں تو جھانک کر دیکھیں کہ ریاستی ادارے کیا عوام کو وہ سروسز مہیا کر رہے ہیں جس کی اجرت کا وہ (وزیراعظم) بزور طاقت مطالبہ کر رہے ہیں؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...