اسلام کی عالمگیر تعبیر اور جدید انتہا پسندی

یہ بحث اگرچہ نئی نہیں ہے کہ مسلم دنیا میں سیاسی اسلام کی تحریکات کیوں ناکام ہوئیں۔ اس کے اسباب، اس میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کی جہت اور اس کے مستقبل بارے مختلف زاویوں سے تجزیے کیے گئے۔ ان امور پر بات چیت کے لیے جو مناہج سامنے آئے وہ بھی کئی طرح کے تھے۔ ہم یہاں فرنچ مفکر اولیور رائے کے منہج ِفکر کے مطابق اس قضیہ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ مذہب کی حالیہ شکل اور اس کی تحریکات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ منہج اس سوال کے اوپر استوار ہوتا ہے کہ گلوبلائزیشن نے پوری دنیا میں مذاہب پر کیا اثرات مرتب کیے؟

اولیور رائے کے مطابق 70 اور 80 کی دہائی مسلم دنیا میں انقلابی تحریکات کی دہائی کے طور پہ جانی جاتی ہے۔ سیاسی اسلام جہاں جہاں وجود رکھتا تھا ہر جگہ اس کا بنیادی مطمح نظر اور ہدف مغربی تہذیب، جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت اور اس پر تنقید تھی۔ یہ گویا سیاسی اسلام کا محور تھا۔ لیکن 90 کی دہائی کے بعد ان تحریکات کے جوہر میں تبدیلی واقع ہونے لگی۔ اسے اولیور رائے اور آصف بیات نے مابعد سیاسی اسلام کے اصطلاح سے تعبیر کیاتھا۔ رائے کے مطابق یہ دراصل گلوبلائزیشن کا اثر تھا۔ عالمگیریت کے عمل نے تمام ادیان کو متأثر کیا۔ اس تبدیلی کا حقیقی مظہر یہ تھا کہ مذاہب ’’لامرکزیت‘‘ کی طرف سرکتے چلے گئے اور نتیجہ میں ثقافت کے ساتھ ان کا تعلق ٹوٹ گیا، یا انہوں نے اس سے دوری اختیار کرلی۔

اس مرحلہ میں باقی ادیان کی طرح اسلام بھی اپنے روایتی دائرے سے نکل آیا۔ پہلے اس کا عملی اظہار ثقافت کے ہالے میں ہوتا تھا۔ اس کے کچھ ثقافتی شعائر، رموز اور مراکز تھے جن کے ساتھ یہ متعلق تھا اور ان سے اس کے وجودی اظہاریے کا عمل انجام پاتا تھا۔ اس سب سے اس نے قطع تعلق کرلیا۔ یہ وطنیت، جغرافیے اور ہر قسم کی محدود شناختوں سے نکل کر نئی اور آزاد فضا کا حصہ بن گیا۔ اس نے فقہی مسالک اور تقلید کو خیرباد کہا اور دین کی براہ راست و آزاد تفہیم کو اختیارکیا۔ پوری دنیا میں مذاہب کے ایسے مراکز ومراجع جو کبھی بہت محترم خیال کیے جاتے تھے، اپنی اہمیت کھو بیٹھے۔ مثال کے طور پہ جامعہ ازہر جو انتہائی اثرورسوخ کا حامل تھا اچانک اس کی عملداری ختم ہوگئی۔ پاکستان کے بڑے دینی مدارس اور شخصیات جن کے فتوے اور آرا سے انحراف ممکن نہ تھا، بے وقعت ہوکر رہ گئے۔

ایرانی مفکر صادق العظیم مذہب کی اس موجودہ شکل کو ’’دینِ اضطراب‘‘ کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں

یہ ساری تبدیلی عالمگیریت کے عمل سے انسلاک کا نتیجہ تھی۔ اس تبدیلی نے لامرکزیت کی بنیاد رکھی اور مذاہب کے مخصوص ثقافتی شناختوں کے ٹیگ بھی اس کے گلے سے اتار دیے۔ ابتدائی طور پہ اس انتقال اور تغیر کو خوشگوار سمجھا گیا۔ خصوصا مسلم سماج میں نوجوانوں کی سطح پر اس کا پرتپاک استقبال ہوا۔ کیونکہ یہ انہیں زمانے اور اس کے تقاضوں کے ساتھ مربوط رکھتا تھا۔ مذہب روایتی تنگ نظری کے خول سے نکل آیا اور اب یہ ایک عالمی مارکیٹ رکھتا تھا۔ یہ گویا نوجوانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ نظر آیا۔ اسلامی جمہوریت اسلامی بینکنگ، اسلامی فیشن، اسلامی مشروبات، اسلامی ادب اور اسلامی کامیڈی، غرض ہر شعبے میں اس نے اپنا برینڈ پیش کردیا۔ یہ سب کچھ روایتی محدود شناختوں سے مبرا تھا جو آزادی کا احساس فراہم کرتا تھا اور نئے زمانے سے ہمقدم بھی کرتا۔ مذہب کا یہ رجحان خاص اصولوں کا پابند نہیں۔ یہ صرف آگے بڑھنا چاہتا ہے اور سفر جاری رکھنا اس کی ترجیح ہے۔ یہ میڈیا، آرٹ اور مارکیٹ کے چینلز وذرائع سے اپنا وجودی اظہار ممکن بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس مرحلہ میں مذہب کی انسانی و روحانی تعبیر کو خوب رواج ملا۔ اکیسویں صدی کی شروعات میں پاکستان سمیت تمام مسلم دنیا میں اس تبدیلی کو محسوس کیا گیا۔

مذہب کی عالمگیر تعبیر اس حد تک تو مسلم سماج اور مغرب کے لیے قابل قبول رہی۔ لیکن گلوبلائزیشن نے صرف مذہب کے تہذیبی پہلو کو ہی متأثر نہیں کیا۔ اس کا انتہاپسند پہلو بھی موجود تھا جس نے بالکل اول الذکر کی طرح خود کو چھوٹے خول سے آزاد کرلیا۔ شدت پسندی کے دائرے غیر محدوود ہوگئے۔ مقامی انتہاپسند تنظیمیں تحلیل ہوگئیں اور آہستہ آہستہ یا تو خود اپنے نیٹ ورک کو وسعت دی یا ان جماعتوں میں ضم ہوگئیں جو لامرکزیت کے رجحان کی حامل تھیں۔ پچھلی صدی کے آخری تین عشروں کے دوران پاکستان میں فعال رہنے والی متشدد ومسلح تنظیمیں یا تو عالمی شدت پسندی کے ونگ بن گئیں یا خود ہی’’العالمی‘‘ کے لاحقے کے ساتھ میدان میں اتریں۔

انتہاپسند جماعتیں جو بنیادی طور پہ تکثیریت اور جمہوریت کی مخالف سمجھی جاتی ہیں، یہ بھی حقیقت میں مخصوص اصولوں کی پابند نہیں ہیں اور نہ ہی کسی آئیڈیالوجی کی نمائندہ۔ یہ اگرچہ خلافت کے قیام کا نعرہ لگاتی ہیں لیکن یہ محض ایک ایسی تخیلاتی بنیاد ہے جو سفر کا جواز فراہم کرتی ہے اور جذبات کو برانگیختہ رکھتی ہے۔ ان کا طرز عمل اس کا شاہد ہے۔ لہذا یہ جماعتیں کوئی معین اہداف بھی نہیں رکھتیں اور نہ کوئی ایک اسٹریٹیجی۔ یوں یہ کسی طرح کے طے شدہ نتائج کے حصول کے لیے بھی سرگرم نہیں ہیں۔

چونکہ انہوں نے بھی خود کو محدود جغرافیے اور ثقافت سے علیحدہ کیا ہے اس لیے ان کے ہاں ’’امت‘‘ کی اصطلاح کا استعمال عام ملتا ہے۔ حتٰی کے ایسے جغرافیائی قضیے جو مذہبی ٹیگ رکھتے تھے وہ بھی ان کے ہاں اہمیت نہیں رکھتے۔ جدید انتہاپسند کشمیر و فلسطین کی بات نہیں کرتے اور نہ ان کا نام لیتے ہیں۔ رائے لکھتے ہیں کہ 2014 میں داعش کی طرف سے ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں کچھ خلیجی نوجوان اپنے پاسپورٹ جلا رہے ہیں اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم ان حدود کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم صرف مسلم اور امت ہیں۔

جدید بنیاد پرستی ایک ایسا انسان تیار کر رہی ہے جو ہر طرح کے عہد معاہدے، وفاداری اور مرکزیت سے آزاد ہے۔ حتی کہ اخلاقی قاعدوں کا پابند بھی نہیں۔ یہ لوگ اسمگلنگ میں ملوث ہوتے اور منشیات کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔ رائے کے مطابق جدید شدت پسند تنظیموں کی طرف مائل ہونے والے 50 فیصد نوجوانوں کے ماضی کا ریکارڈ مخدوش ہے۔ یہ قحبہ خانوں اور شراب خانوں میں جانا پسند کرتے ہیں اور منشیات کے عادی ہوتے یا اس کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسی تنظیمیں جو نہ اخلاقیات رکھتی ہیں اور نہ اصولوں کی پابند ہوتی ہیں اور سفاکیت کی نمائندہ ہیں، انہوں نے سماج میں اپنی جگہ کس طرح بنائی؟ رائے اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ دراصل ان کے پیچھے ایک جذبہ یا احساس کام کرتا ہے۔ اسے وہ ’’مقدس‘‘  کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا ’’جہلِ مقدس‘‘ ہے جو برانگیختہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی شے ایسی مقدس بھی ہوسکتی ہے جو علم، معرفت اور معقولیت کے عناصر نہ رکھتی ہو۔ جدید انتہاپسندی اسی نوع کا جہلِ مقدس ہے۔ اس کی مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ2003 میں میں پاکستان کے شہر لاہور میں تھا۔ وہاں دیکھا کہ ایک  مجمع میں ایک مذہبی حلیہ رکھنے والا شخص ایسی زبان میں گڑگڑا کر لوگوں سے ہمکلام تھا جو انہیں سمجھ ہی نہی آرہی تھی۔ وہ زبان صحیح عربی بھی نہیں تھی۔ صرف عربی کے الفاظ تھے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن وہ سامنے بیٹھے رو رہے تھے۔ میں حیران ہوا۔ میرے ساتھی نے مجھے نصیحت کی کہ تم خاموش رہو۔ اگر تم نے اس پہ اعتراض کیا تو مارے بھی جاسکتے ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ خطاب کرنے والا شخص بہروپیا اور دھوکہ باز تھا، بعد میں پکڑا گیا اور اس کی داڑھی مونڈ دی گئی۔ اس واقعہ سے جوبات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ علم، معرفت اور معقولیت کے عناصر کے بغیر بھی کوئی شے مقدس بنائی جاسکتی ہے۔ جیساکہ وہاں لوگ کچھ  جان نہیں پارہے تھے لیکن ایک مقدس جذبہ انہیں مہمیز دے رہا تھا اور برانگیختہ کرپارہا تھا۔ جدید انتہاپسندی تخیلاتی مقدس جذبات کے اوپر قائم ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ مارکیٹ کے تقاضوں کے عین مطابق یہ جماعتیں اپنے اندر کشش پیدا کیے رکھنے  کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی رہتی ہیں۔ ان کے ساتھ وابستہ نوجوان خود کو ہالی وڈ کی فلموں کے طاقتور کردار کی طرح محسوس کرتے ہیں۔

اس بحث کے ساتھ ایک قضیہ یہ بھی جڑا ہے کہ اس جدید انتہاپسندی کا انجام کیا ہے؟ رائے نے کچھ سال قبل یہ بھی کہا تھا کہ اس رجحان کی زندگی بہت مختصر ہے۔ القاعدہ، داعش اور ان جیسی دیگر تنظیمیں اپنی ابتدا میں بہت مقبول ہوئیں لیکن اسی تیزی کے ساتھ انہیں مسترد بھی کردیا گیا۔ سعودی عرب، پاکستان، افغانستان، سوڈان اور مصر وغیرہ جیسے مسلم ممالک جو شدت پسندوں کی جنت سمجھے جاتے رہے ہیں، وہ اب جدید انتہا پسندی سے چھٹکارا پانے کی کوشش میں ہیں۔ یہ غیرعالمگیر رجحان رکھنے والے شدت پسندوں کو تو برداشت کرتے ہیں لیکن جدید شدت پسندی کو نہیں۔

کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اس انتہا پسندی نے محض دنیا کے سماجی وسیاسی ڈھانچے کو ہی متأثر نہیں کیا بلکہ خود مذہب پر بھی کاری ضرب لگادی ہے۔ اسلام اپنی تمام شکلوں کے ساتھ غیر معتبر ہو رہا ہے۔ حتی اس کی عالمگیر تہذیبی شکل کو بھی چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کشمکش کے حتمی نتائج اور اس کا مستقبل اگرچہ ابھی تک واضح نہیں ہے لیکن فی الحال یہ نظر آرہا ہے کہ خودمسلم سماج کے اندر بھی اسلام کو کئی ایسے سوالات کا سامنا ہے جن کا تعلق اس کے مستقبل کے ساتھ ہے۔ اس کی وجہ سے عملی طور پہ مذہبی رویوں پر کیا تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، اس کے لیے مسلم دنیا میں کی جانے والی سروے رپورٹس کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے، جن سے پتہ چلتا ہے کہ مذہب کی عالمگیر شدت پسند شکل نے لوگوں میں بہت زیادہ  اضطراب کو جنم دیا ہے۔ ایرانی مفکر صادق العظیم مذہب کی اس موجودہ شکل کو ’’دینِ اضطراب‘‘ کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...