پاک افغان تعلقات، سُلگتا ہوا ماضی

122

پچھلے ستّر سالوں میں ہم برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ ابھرنے والی مہیب کشیدگی سے دامن چھڑا پائے نہ وقت کی آغوش میں پلنے تنازعات کو تحلیل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حالات کاجبر دیکھئے کہ1947 میں نوآزاد مملکت پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کے خلاف پڑنے والا افغانستان کا واحد ووٹ جو بظاہر اگرچہ فضول سی کاروائی نظر آتا تھا لیکن یہی معمولی سی پیش رفت دراصل ان بڑے تنازعات کی پیش خیمہ بنی جنہیں بعد میں ہماری بدنصیب آنکھوں نے دیکھا۔ بلاشبہ اس جدلیات کی جڑیں ہمیں تاریخ کے دھندلکوں میں پوشیدہ ملتی ہیں۔

1796 میں روس کی ملکہ کتھرائن نے سونے کی چڑیا کو جال میں پھنسانے کیلئے گوادر کی بندرگاہ تک رسائی پانے کا خواب دیکھا اور اسی پیش دستی کے نتیجہ میں انیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی تزویری اہمیت کا حامل، افغانستان روسی اور برطانوی سلطنتوں کے مابین سیاسی جنگ کا میدان کارزار بن گیا جو آج تک  تھمی نہیں۔ انیسویں صدی کے وسط تک برطانوی گورنمنٹ برصغیر کی تجارتی گزرگاہوں اور معاشی وسائل پہ قبضہ مکمل کرچکی تھی۔ روس کو خطرہ تھا کہ برطانیہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کی خاطر افغانستان کو لانچنگ پیڈ طور پہ استعمال کرے گا، چنانچہ وہ انہیں انڈیا، افغان بارڈر پر روکنے کا خواہشمند تھا۔ ادھر برطانیہ کو یہ خوف لاحق تھا کہ روس ہندوستان کو اپنی کالونی بنانے کے خواب کو عملی صورت دینے کی خاطر افغانستان کی سرزمین استعمال کرسکتا ہے۔ چنانچہ وہ اسے دریا آمو کے اس پار روکنے کی منصوبہ بندی کرنے لگا۔ 1838 کی فرسٹ انگلو افغان وار، 1845 کی پہلی سکھ انگریز جنگ، 1848 کی دوسری اینگلو سکھ وار اور 1878 کی دوسری اینگلو افغان جنگ اسی جدلیات کی نتیجہ تھیں۔ ادھر روسی استعمار کی خیوا، بخارا اور کندان(ازبکستان) ریاستوں پہ قبضہ کے پیچھے بھی اسی سیاسی ومعاشی کشمکش کے محرکات کارفرما تھے۔ عالمی طاقتوں کے وسیع تر سیاسی و معاشی مفادات کی جنگ نے دو سو سال سے اس بدقسمت خطہ میں پراکسی جنگوں کی کبھی نہ تھمنے والی آگ بھڑکائی، اسی جدلیات کی کوکھ سے ابھرنے والی مذہبی اور لسانی تحریکوں نے ہمیشہ اس خطہ کو وقف اضطراب رکھا۔

ہمیں پیرروشان، جمال الدین افغانی، مُلاپواندہ، فقیرایپی، خدائی خدمتگار، 1979 کا انقلاب ثور اور افغان مزاحمتی جہاد سے لے کر طالبان موومنٹ کے عقب سے عالمی طاقتوں کی یہی گریٹ گیم جھانکتی نظر آتی ہے۔ 1893 میں افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن نے برٹش تسلط سے نجات کی خاطر  ڈیورنڈ لائن معاہدہ کے ذریعے مشرقی سرحدات کا تعین کرا لیا، 1917 میں روس میں کیمونسٹ انقلاب کے بعد برٹش انڈیا نے اگست 1919میں افغان گورنمنٹ کے ساتھ سات آرٹیکلز پہ مشتمل ایک صفحہ کے اس معاہدہ کی راولپنڈی میں دوبارہ توثیق کر کے اسے عالمی طور پہ مسلمہ سرحدی معاہدہ بنا لیا۔ سرخ انقلاب کے بعد روس قیادت نے افغانستان میں پراکسی جنگووں کی آگ کو مزید بھڑکایا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے دوران وقتی طور پہ اس کشمکش میں کچھ وقفہ آیا گیا۔ عالمی جنگ نے برطانیہ اعظمی کو مضمحل کیا تو انگریزوں نے ہندوستان چھوڑ تے وقت برصغیر کو ہندو، مسلم میں تقسیم کرکے خطہ کی تزویری حیثیت تبدیل کر دی۔ اگرچہ جنگ عظیم دوم کی وجہ سے دنیا بھر میں طاقت کا توازن اور سیاسی کردار تبدیل ہو گئے مگر عالمی استعمار کے درمیان جنوبی ایشیا کے معاشی وسائل پہ تصرف کی کشمکش میں کمی نہ آئی۔ اب زارِ روس کی بوڑھی شہشاہیت کی جگہ تازہ دم کیمونسٹ انقلابیوں اور برطانوی کی دم توڑتی استعماریت کی جگہ ابھرتی ہوئی سرمایا دار قوت امریکہ نے لے لی۔ چنانچہ تخلیق پاکستان کے بعد عالمی طاقتوں کے مفادات کی جنگ نئے نعروں، نئے ہتھیاروں اور نئی سیاسی اصطلاحات کے ساتھ دوبارہ شروع ہوگئی۔

عالمی طاقتوں کے وسیع تر سیاسی و معاشی مفادات کی جنگ نے دو سو سال سے اس بدقسمت خطہ میں پراکسی جنگوں کی کبھی نہ تھمنے والی آگ بھڑکائی، اسی جدلیات کی کوکھ سے ابھرنے والی مذہبی اور لسانی تحریکوں نے ہمیشہ اس خطہ کو وقف اضطراب رکھا

نئی جدلیات کی ابتداء 1947 میں پاکستان اور ہندوستان میں شمولیت کے علاوہ تھرڈ آپشن، یعنی آزاد پشتونستان کے مطالبہ سے ہوئی، جسے برٹش گورنمنٹ نے اگرچہ ردّ کر دیا لیکن روسی حکومت کی ایماء پہ افغانستان نے ڈیوریڈ لائن کو متنازعہ بنانے اور پختون علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کے ذریعے اسے اب بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ خان غفار خان جو تقسیم ہند کے وقت خیبر پختون خوا کے ہندوستان سے الحاق کی حامی تھے، تقسیم کے بعد خیبرپختون خوا، قبائلی پٹی، بلوچستان اور جنوبی افغانستان کے پٹھانوں کو دوبارہ متحد کرنے کے نعروں کے ساتھ میدان میں آئے۔ ستمبر1947 ہی میں کابل نے افغان جھنڈے کے ساتھ آزاد پشتونستان کا جھنڈا لہرانے کے علاوہ قبائلی علاقوں میں علیحدگی کی تحریکوں کو اسلحہ اور فنڈ کی فراہمی شروع کر دی۔ افغان گورنمنٹ نے باجوڑ، وادی تیرہ، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں لشکرکشی کی درجنوں مہمات لانچ کرائیں۔ جولائی 1949 میں افغان گورنمنٹ نے کابل میں لویہ جرگہ منعقد کرکے پاکستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن سمیت تمام سرحدی معاہدات ختم کرنے کا اعلان کر دیا تاہم ان یکطرفہ اعلانات کو عالمی برادری نے مسترد کر دیا۔

1950 میں افغان بادشاہ ظاہر شاہ نے پاکستان مخالف تقریر کی جس کی وزیراعظم لیاقت علی خان نے مذمت کی، 1952 میں افغان فضائیہ نے قبائلی علاقوں میں پمفلٹ گراکے این ڈبلیو ایف پی کے علاوہ شمالی بلوچستان کے پشتون علاقوں کو افغانستان کا حصہ قرار دیا تو پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ 30 ستمبر 1950 کو افغان فورسیز نے بلوچستان میں بوگرہ پاس سے جارحیت کی، پاک فوج  کی جوابی کاروائی کے بعد افغان گورنمنٹ مسلح جارحیت کو اپنانے سے مکر گئی، واقعہ کو مقامی قبائل کی شورش قرار دے دیا۔ 1951 میں افغان شہری سیداکبر ببرک نے راولپنڈی میں وزیراعظم لیاقت علی خان کو قتل کر دیا۔ 1954 میں پاک امریکہ ملٹری پیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے افغانستان نے روس و بھارت سے اعلانیہ مدد حاصل کر لی۔

مارچ 1955 میں افغانستان نے مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنانے کے خلاف پُرتشدد مظاہرے کرا کے کابل، قندھار اور جلال آباد میں پاکستانی سفارت خانوں کو آگ لگوا دی، جواب میں پاکستان نے بارڈر بند کر کے سپلائی روک دی، افغانستان کی جانب سے پشتون علیحدگی پسندوں کی کھلی حمایت کے باعث1961 میں پاکستان نے افغانستان سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے جو 1963 میں داود کے وزارت اعظمی سے استفعی کے بعد دوبارہ بحال ہوئے۔ 1973 میں افغانستان کے خونی انقلاب میں صدر داود کی پوری فیملی ہلاک ہو گئی۔ روسی حمایت یافتہ کیمونسٹ گروپوں نے حفیظ اللہ امین کو افغانستان کا صدر بنا دیا۔ 1974 کی اسلامی کانفرنس میں افغانستان کے صدر نے شرکت نہ کی بلکہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقعہ پہ افغان وفد نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کے آزاد پشتونستان کا سودا بیچنے کی ناکام کوشش کی۔ 1970 کی دہائی میں افغانستان کے داخلی انتشار کی وجہ سے پشتون علیحدگی پسندوں کی تحریکیں کمزور ہوئیں تو قوم پرست پشتونوں نے علیحدگی کا ایجنڈا ترک کر کے خود کو پاکستان سے منسلک رکھنے میں عافیت تلاش کی تاہم پنجاب کے خلاف نفرت کی لہر برقرار رہی۔ پشتونوں کے پاکستان میں انجذاب کے ساتھ ہی انہیں سیاست اور بیورکریسی میں مناسب جگہ مل گئی۔

تاہم 1974 میں افغانستان میں کیمونسٹوں کے خلاف مذہبی گروپوں کی حمایت کے باعث پاک افغان تعلقات پھر خراب ہو گئے۔ اے این پی کے اجمل خٹک کی قیادت میں سینکڑوں علیحدگی پسند افغانستان جا پہنچے۔ 1974 میں علیحدگی پسندوں نے پشاور میں گورنر این ڈبلیو ایف پی حیات محمد خان شیرپاو کو قتل کر دیا، جس کی تفصیلات ہمیں آزاد پختونستان کی جدوجہد کے دوران بیس سال تک افغانستان میں جلاوطنی گزارنے والے جمعہ خان صوفی کی کتاب فریب ناتمام میں ملتی ہے۔ 1979 کے بعد افغان گورنمنٹ نے پشتون علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کے علاوہ بھارتی انٹیلی جنس اداروں کو بلوچستان میں کاروائیوں کی سہولت دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ تاریخ کے سینے میں پیوست یہ کچھ تلخ حقائق ہیں جو پاک افغان تعلقات کو متأثر رکھتے ہیں اور جانے کب تک کشمکش کی یہ فضا قائم رہے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...