اپوزیشن کے مابین باہمی اعتماد کا فقدان ہے؟

سوموار کی شام نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ عدالت کے فیصلے کے بعد پیپلزپارٹی کے راہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار کرلیا۔ جبکہ آج دوپہر لاہور ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت کی درخواست واپس لیے جانے کے بعد پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بھی احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جواب میں بلاول بھٹو نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے اور مریم نواز نے ان گرفتاریوں کو معاشی سروے اور بجٹ جیسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے رمضان میں اعلان کیا تھا کہ وہ عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے کا آغاز کریں گی، لیکن اس سے قبل ہی نیب نے آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا، اور آج حمزہ شہباز کو بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ اب جبکہ ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو سزا ہوگئی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ حکمران جماعت پر اس لیے بھی دباؤ زیادہ بڑھے گا کہ آج نئے سال کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے جوحکومت کی اپنی معاشی سروے رپورٹ کے مطابق یقینا حوصلہ افزا نہیں ہوگا۔ بیک وقت کئی مسائل کا انبار لگانا حکومت کی ساکھ کو مزید کمزور کرتا جائے گا۔

حکومتی اقدامات منصوبہ بند اور منظم نہیں ہیں اور اپوزیشن بھی کوئی ٹھوس موقف یا قابل عمل پالیسی نہیں رکھتی، اس کے مابین اب تک  اتفاقِ رائے کا مظاہرہ  کہیں نظر نہیں آیا۔ اپوزیشن بظاہر انتہائی مضبوط حیثیت رکھتی ہے اور تجربہ کار بھی ہے لیکن اس کے باوجود پچھلے سارے عرصہ میں جس طرح کی کارکردگی دکھائی گئی اور جیسا ردعمل دیا گیا اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ شدید کنفیوژن کا شکار ہے اور وجہ اس کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتی کہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ جبکہ حکومت کی متضاد و متزلزل پالیسیوں کا سبب یہ ہے کہ وہ فیصلہ کن اختیارات نہیں رکھتی۔ اس طرح یہ منظرنامہ زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوجاتا ہے کہ دونوں دھڑے ایک دوسرے کو زیر کرنا چاہتے ہیں اور دونوں کمزور بھی ہیں۔ دونوں ایک ایسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جو خود ہی ایک دوسرے پر مسلط کر رکھی ہے۔ پورے سیاسی نظم پر چھائی ہوئی اس دھندلاہٹ اور غیریقینی کی ملکی معیشت اور عوام کو بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سیاستدانوں کے درمیان بات چیت کا کوئی ذریعہ اور چینل بھی موجود نہیں۔ نوازشریف کے بعد آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری پر اپوزیشن کا ممکنہ سخت و جذباتی ردعمل اور حکمران جماعت کی کوئی بھی بے احتیاطی ملکی وعوامی مفادات پر ضرب ثابت ہوگی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...