جس قوم کی سیاسی جڑیں کمزور ہوں اس کے ادب کی عالمی پزیرائی نہیں ہوتی

595

نثری نظم کے معروف نوجوان شاعر زاہد امروز سے مکالمہ

زاہداِمروزاکیسویں صدی میں سامنے آنے والے چند نمایاں اُردو شاعروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ ستمبر1986ءکو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ 2009ءمیں اُن کی نظموں کا پہلا مجموعہ ” خودکشی کے موسم میں “ شائع ہوا جسے حکومت کی طرف سے نیشنل ایوارڈدیا گیا۔ ”کائناتی گرد میں عریاں شام“ اُن کی نظموں کا دوسرامجموعہ ہے۔وہ عالمی ادب سے تراجم بھی کرتے رہتے ہیں۔2012ءمیں پابلو نیرودا کی نظموں کا ترجمہ ”محبت کی نظمیں اور بے بسی کا گیت“ شائع ہوا۔ اُن کی نظمیں سندھی اور دوسری علاقائی زبانوں میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہوتی رہتی ہیں۔ قائد ِ اعظم یو نیو رسٹی سے فزکس میں ایم ایس سی اور ایم فل کرنے کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔ وہ نیوکلیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤاورعالمی امن کے موضوعات پر بھی کام کرتے ہیں۔اس نوجوان شاعرسے ہونے والا ایک دلچسپ مکالمہ پیشِ خدمت ہے:

تجزیات:ایسے کیا تجربات تھے جنہوں نے شاعری کی طرف مائل کیا؟

زاہداِمروز:میرے نزدیک شاعری کی طرف کوئی خاص چیز آپ کو مائل نہیں کر سکتی۔ شاعرآپ ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ بس کسی لمحے آپ یہ جان جاتے ہیں کہ آپ کو اپنا اظہار کیسے کرنا ہے۔

تجزیات:آپ کا شعری کرافٹ بالکل غیر روایتی اورمنفرد ہے، اچھی اور بری شاعری میں کیا فرق سمجھتے ہیں ؟

زاہداِمروز:ہر شخص اپنا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ اپنے ہونے کا جواز چاہتا ہے۔ اس کے لیے وہ کوئی ذریعہ اپناتا ہے۔ جس کی کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے۔ پینٹنگ، شعر، کہانی وغیرہ یا پھر عام گفتگو جو کسی فارمل ساخت کا حصہ تصور نہیں کی جاتی۔ حالانکہ اس عام بول چال کی بھی ایک ساخت ضرور ہوتی ہے۔ اب ہر ساخت میں بات کرنے کا مخصوس انداز ہے جو کہیں بھی حتمی نہیں۔ لیکن ایک سمجھ آنے والاڈھانچہ ضرور موجود ہونا چاہیے ۔ جو شخص اپنی بات کے اظہار کے لیے شعوری یا لاشعوری طور پر کسی میڈیم کاانتخاب کرتا ہے ، وہ میڈیم کس حد تک مکمل ہے اوراس کے تمام لوازمات باہمی طور پر کتنے ہم آہنگ ہیں ، اسی پر منحصر ہے۔

تجزیات: آپ کی نظموں میں ایک ایسی کیفیت نظر آتی ہے جو حقیقت پسندی کے قریب ہوتے ہوئے بھی بہت الگ او رسُریل ہے۔ کیا کہتے ہیں؟

زاہداِمروز:اِس کی کوئی خاص وجہ مجھے نہیں معلوم۔ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو شاید یہ اُن تجربات اور مشاہدات کے سبب ہے جو لاشعوری طورپر ہماری زندگی کا حصہ بنتے ہیں۔ لکھتے ہوئے یا لکھنے کے بعد کے عمل میں بھی پوری طرح ہم یہ نہیں جان پاتے کہ کوئی بات کہاں سے اور کیوں آرہی ہے۔ ا سے شعوری طورپر کنٹرول کرنا آرٹ کی impulse کو دبا دیتا ہے۔ بہت سا عمل تو خود بہ خود ہی ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کبھی یہ سوچ کر نہیں سوتے کہ آج میں نے خواب میں کیا دیکھنا ہے۔

تجزیات:کیا اس creative impulse کو اپنی شاعری کا اصل ماخذ تصور کرتے ہیں؟

زاہداِمروز:جو کچھ بھی ہم تخلیقی سطح پر کہنا چاہتے ہیں اس کی حتمی شکل کیا ہو گی اس کا کبھی علم نہیں ہوتا۔ یہ ایک عمارت تعمیر کرنے کی طرح نہیں ہے کہ آپ کے پاس ایک بنا بنایا نقشہ ہے جسے آپ نے پوری نقالی اور پیمائش کے مطابق تعمیر کرنا ہے۔ ہاں البتہ اس کا کرافٹ ایسا ہی ہے کہ آپ کو ایک وحدت نظر آئے۔ کوئی جھول نہ ہواور تخلیقی جنونیت کا دیو آپ کی گرفت میں بھی ہو اور آپ پر حاوی بھی ہو۔

تجزیات:آپ کی شاعری کے استعارے، امیجزاور تشبیہات میں بہت نیا پن ہے ، یہ سب کہاں سے آتے ہیں؟

زاہداِمروز:کہیں سے نہیں آتے۔ جہاں میں ہوتا ہوں خود بہ خود وہیں سے آجاتے ہیں۔ جب مجھے کچھ کہنا ہوتا ہے۔ کوئی بات، کوئی خیال، کوئی منظر ، کچھ بہت معمولی چیزمحرک بنتی ہے۔ اور میرے ارد گرد جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کیفیت میں میرے ساتھ بہنے لگتا ہے۔ وہیں سے اس کی ہیئت بھی جنم لیتی ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے ہر خیال کے اندر ایک مقناطیسی قوت ہوتی ہے جو اپنے اطراف سے ہم فطرت چیز وںکو کشش کر لیتی ہے۔ یہیں سے اس کی ہیئت بھی تشکیل پاتی ہے اور کرافٹ بھی۔

تجزیات:یعنی ”کائناتی گرد میں عریاں شام“ میں شامل نظموں کےگرد و نواح کا ماحول ہے؟

زاہداِمروز:یقینا ۔ کیونکہ جس مٹی پر آپ پاؤں رکھتے ہیں۔ جن لوگوں کی اچھی بری چیزیں آپ سنتے ہیں۔ جن باتوں سے آپ خوش یا دُکھی ہوتے ہیں۔ شاعری انہیں جذبوں کے ذریعے اپنا اظہار کرتی ہے۔

 

تجزیات: تو شاعری کے آفاقی موضوعات کے لیے اظہار کا کون سا راستہ ہے؟

زاہداِمروز: یہی راستہ ہے۔ دیکھئے شاعری وہی survive کرتی ہے جو آفاقی ہو۔ اور دنیا کا کون سا موضوع آفاقی نہیں؟ انسان جہاں کا بھی ہو، زمین کے بنیادی مسائل مشترکہ ہیں۔ زندگی کی جبلی شکل ہر جگہ ایک جیسی ہے۔ بڑی شاعری انہیں جبلی جذبوں کا اظہار ہوتی ہے۔ تبھی تو ہمارا اجتماعی لاشعور ہمیں ایک عالم گیر انسانیت کا تصور دیتا ہے کہ ہم بنا کسی کوشش کے ایک دوسرے سے communicate کر سکتے ہیں۔

تجزیات: آپ کے شعری موضوعات اور تشبیہات ایسی ہیں جن پر اس معاشرے میں بات کرنا ممنوع تصور کیا جاتا ہے۔ اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟

زاہداِمروز:معاشرہ آپ کی نظر میں کیا ہوتا ہے؟ اور معاشرتی قدریں کو ئی ٹھوس حد بندیاں نہیں ہوتیں۔ ایک ارتقائی عمل انہیں ہمیشہ متحرک اور زندہ رکھتا ہے ۔ آرٹسٹ کوئی تماشہ گر نہیں کہ وہ کوئی ایسی چیز پیش کر دے جسے آپ دیکھ کر محض لطف اٹھائیں اور تالیاں پیٹ کر خوشی خوشی گھر چلے جائیں۔ آرٹ تو ایک subversion ہے۔ یہ قائم کو منہدم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس انہدام سے کوئی نئی قدر پیدا کرتا ہے۔ معاشرے میں جو کچھ مردہ ہو چکا ہوتا ہے اوروہ معاشرے کی صحت مندی کے لیے خطرہ اور بوجھ بن جاتا ہے، آرٹ اسے منہدم کرتا ہے۔ یہ عمل اکثر باآسانی قابل ِ قبول نہیں ہوتا۔ آرٹ کبھی کسی طاقت کے تابع نہیں ہوتا بل کہ یہ تو ایک آسیب ہے، ایک ایسادیو ہے جو آپ کے بدن میں داخل ہو جاتا ہے اور آپ کی منافقتوں اور کمینگیوںکو تباہ کر دیتا ہے۔

تو ہمارا اجتماعی لاشعور ہمیں ایک عالم گیر انسانیت کا تصور دیتا ہے کہ ہم بنا کسی کوشش کے ایک دوسرے سے communicate کر سکتے ہیں۔ 

تجزیات: اگر ہم آپ کی شاعری پڑھیں تو معاصر لکھنے والوں میں ایک الگ انداز سے لکھتے ہیں۔ آ پ کا محاورہ، استعارے، تشبیہات اور موضوعات اردو زبان کی روایت کے لحا ظ سے عام نہیں ہیں۔ اپنے کام کو کس روایت میں دیکھتے ہیں؟

زاہداِمروز:روایت کا تصور کوئی جامد شے نہیں ۔ بیک وقت بہت سی روایات موجود ہوتی ہیں۔ جب اقبال لکھ رہے تھے تو میرا جی اُن کے ہم عصر ہوتے ہوئے کوئی اور ہی دنیا تشکیل دے رہے تھے۔ جب ن م راشد اور دوسرے شعرا نے آزاد نظم کہنا شروع کی تب یہ ہماری ہیئت اردو شاعری کے لیے بالکل اجنبی تھی لیکن آج آزاد نظم ہی نمائندہ اردو شاعری ہے۔یہی معاملہ نثری نظم کے ساتھ ہوا ۔ آج ہم ان ہیئتوں میں کتنی ہی اہم نظمیں آسانی سے منتخب کر سکتے ہیں۔ روایت سازی اور روایت پرستی دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔

تجزیات:آپ کی نظموں کے بولڈ امیجزکچھ پڑھنے والوں کو جنسی لگتے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

زاہداِمروز:بھئی جن کو لگتے ہیں، یہ آپ ان سے پوچھئے کہ کیوں لگتے ہیں؟ میرے نزدیک تو یہ ایسے نہیں ہیں۔ اور اگر کسی کو لگتے بھی ہیں تو اِس پر اتنی شرمندگی اور معذرت خواہانہ رویہ کیوں ہو؟ کیا یہ ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں ہے؟ یہ بندشیں اور اظہار کی گھٹن ہمارے ہاں کسی اچھائی کا باعث بنی ہے ؟ ذہنی الجھنوں ، منافقتوں اور مسخ شدہ شخصیتوں کا ایک سیلاب ہے جو ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ اور اس اندھیرے میں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم بلی ہیں یا بند آنکھوں والے کبوتر؟

معاشرے میں جو کچھ مردہ ہو چکا ہوتا ہے اوروہ معاشرے کی صحت مندی کے لیے خطرہ اور بوجھ بن جاتا ہے، آرٹ اسے منہدم کرتا ہے۔ یہ عمل اکثر باآسانی قابل ِ قبول نہیں ہوتا۔ آرٹ کبھی کسی طاقت کے تابع نہیں ہوتا بل کہ یہ تو ایک آسیب ہے، ایک ایسادیو ہے جو آپ کے بدن میں داخل ہو جاتا ہے اور آپ کی منافقتوں اور کمینگیوںکو تباہ کر دیتا ہے۔

تجزیات:تو آپ اپنی بات ان استعاروں کے ذریعے کیوں کہتے ہیں؟

زاہداِمروز:اور بہت سی باتیں ہیں جو میں ان استعاروں کے ذریعے نہیں کہتا۔ میرے نزدیک تو یہ زندگی کا ایک پہلو ہے۔ اور جو کچھ زندگی میں موجود ہے وہ میری شاعری میں بھی موجود ہے۔ جنہیں آپ جنسی استعارے کہتے ہیں، بہت سے لوگوں کے نزدیک وہ سیاسی ہیں۔ مجھے اِس سے غرض نہیں کہ کسی کویہ شاعری کیسی لگتی ہے۔ زندگی مجھے جس طرح ملتی ہے میں اسے اسی طرح ملنا چاہتا ہوں۔

تجزیات: کچھ عرصہ سے مجید امجد پر بہت کام سامنے آرہا ہے۔ مجید امجد کو کیسا شاعر سمجھتے ہیں؟

زاہداِمروز:نظم کے جن شعراءکو ہم جدید نظم کے معمار سمجھتے ہیں، جن میں راشد، میرا جی، مجید امجدسب سے نمایاں ہیں اور اگر ہم اقبال اور فیض صاحب کی نظم کو بھی شامل کرلیں تو میرے نزدیک مجید امجد کے آخری دور کی نظمیں اس صدی کے شعری اظہار زیادہ کے قریب ہیں۔ یہ ایک تسلسل ہے جن میں اقبال اورراشد کے تخیل اور شعری کرافٹ کا جدید نظم میں بڑا اہم کردار ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کے انسان کی فکری اور جذباتی الجھنوں کا حل اقبال کے پاس نہیں۔ راشد خیال کی سطح پر اسےsubvert کرتا ہے لیکن اس کی زبان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتی جارہی ہے جو واپس نہیں آسکتی۔ البتہ مجید امجد کا rationale being اور اس کا وجودی کرب اس دور کے عدم اطمینان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی لیے لسانی سطح پر بھی اور جذباتی طور پر بھی نظم کا سنجیدہ قاری خود کو مجید امجد کے زیادہ قریب محسوس کرتا ہے۔

تجزیات:آج کل جو بہت سے شاعرہیں جو غزل اور نظم لکھ رہے ہیں ۔ اکثر کے ہاں ہمیں ایک ہی طرح کے خیالات اور تکنیک نظر آتی ہے۔ کیا شاعری صرف شعر لکھ لینے کا نام ہے؟

زاہداِمروز:ہر دور میں اور ہر وقت ایسا ہی ہوتا ہے۔ بری شاعری بھی توکو ئی چیز ہے بھئی۔ لیکن بہت سے لوگ اچھا بھی تو لکھ رہے ہیں۔ افسانے میں کچھ نام ہیں۔ کچھ بہت نئے اور منفرد ناول لکھے جا رہے ہیں۔ اسی طرح شاعری میں بھی چند واضح نظر آنے والی نئی آوازیں موجود ہیں۔

تجزیات: اکثرسمجھا جاتا ہے کہ اگر شعری لوازمات کو پورا کر لیا جائے تو شاعری ہو جاتی ہے۔کیا محض تکنیکی ضروریات کو پورا کرنا ہی شاعری ہے؟

زاہداِمروز:یہ تو محض ایک پہلو ہے۔ شاعری ہو یا کوئی بھی اور صنف، بڑاا ٓرٹ اِن سب سے ماروا ہوتا ہے۔ آرٹسٹ کی تخلیقی لہر کے سامنے تکنیک ثانوی ہو جاتی ہے۔ اس میں کچھ un-quantifiable ہوتا ہے۔ تکنیک تو محض ایک لباس ہے۔آرٹ میں’ آرٹ‘ تو کہیں اور ہی سے آتا ہے ۔ وہ آرٹسٹ کی ایک طرح کی madness creative ہے۔ ہم جتنے بھی بڑے لکھاریوں کو دیکھیں، منٹو ہو، میر ہو یا غالب، انہیں منٹو، میر اور غالب کسی اکیڈمی نے نہیں بنایا۔ آرٹسٹ تو بس ہوتا ہے اور جو کسی خود کو لمحے دریافت کر لیتا ہے۔

تجزیات: عالمی منظر نامے میں اردو شاعری کہاں کھڑی ہے؟ اس آرٹ اور شاعری کا قاری کہاں ہے؟

زاہداِمروز:جہاں اُردو زبان اور اس کے بولنے والی دنیا کھڑی ہے۔

 

تجزیات: اس عالمگیر دنیا میں کیا ایسا اُردو ادب لکھا جا رہا ہے جو انگریزی ادب یا دوسری زبانوں کا مقابلہ کر سکے؟

زاہداِمروز:یہ سوال تومعاشی منڈی کے قایم کردہ معیارات سے جنم لیتا ہے جس کے پیچھے کچھ اس طرح کی سوچ ہوتی ہے کہ جو زیادہ بکتا ہے وہ زیادہ اچھا ہے۔ ادب کی اہم اور غیر اہم ہونے کا معیار کبھی بھی معاشی منڈی یا مخصوص زبان نہیں ہوتی۔ ادب کی میکانیات اور اس کے اچھے برے کے معیارات مختلف ہیں۔

ذہنی الجھنوں ، منافقتوں اور مسخ شدہ شخصیتوں کا ایک سیلاب ہے جو ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ اور اس اندھیرے میں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم بلی ہیں یا بند آنکھوں والے کبوتر؟

تجزیات: لیکن ہم اردو ادب کو عالمی سطح پر کہیں نہیں دیکھتے۔اس کی کیا وجہ ہے؟

زاہداِمروز:اس کی ایک وجہ تو زبان بولنے والوں کی محدودیت ہے اور دوسری سیاسی کم تری۔ جس قوم کی سیاسی جڑیں کمزور ہوتی ہیں اس کا ادب بھی عالمی سطح پر غائب ہوتا ہے۔کوئی اردو سے کیوں رجوع کرے گا؟ ایسا نہیں ہے کہ اردو میں اچھا نہیں لکھا جا رہا اس لیے یہ کہیں نظر نہیں آتی۔ ہر زبان میں ہمہ وقت اچھا اور برا لکھا جا رہا ہوتا ہے۔ لیکن ہر دور میں چند ہی لوگ اچھا لکھنے والے اور رجحان ساز ہوتے ہیں۔ باقی سب زبانوں کی طرح اردو میں بھی کچھ چیزیں تویقیناً بہت اچھی لکھی جا رہی ہیں۔ اور بہت سارا trash بھی ہے۔

 

تجزیات: اگر یہ ادب اچھا ہے تو اسے عالمی سطح پر جگہ کیوں نہیں ملتی؟

زاہداِمروز:ادب کا عالمی ہونا اور مقامی ہونا اب ایک اضافی اصطلاح ہے۔ دنیا اب Globalized ہے۔ ہر چیز کا فیصلہ تو منڈی کرتی ہے کہ کون بکاؤ ہے اور کون نہیں۔ اس لیے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے بہت سے دوسرے سماجی اور سیاسی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ جس بات کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں اس کی اور وجوہات ہوتی ہیں ۔ اردو زبان ایک ترقی پذیر زبان ہے نہ کہ زوال پذیر۔ ہاں یہ درست ہے کہ انگریزی کے مقابلے میں اردو بہت محدود ہے لیکن اِس کی وجہ ہمارا معاشرتی اور سیاسی سطح پر کم ترقی یافتہ ہونا بھی ہے۔ جو بات آپ پوچھ رہے ہیں اس کو کسی اور انداز سے کرنا چاہئے۔ کمرشل آرٹ اور سنجیدہ آرٹ کی تقسیم مختلف بنیادوں پر ہے۔ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی زبان ہو، بڑا آرٹ کبھی فوراًسے عام نہیں ہوتا اور مارکیٹ کی پراڈکٹ نہیں بنتا۔ بڑا آرٹسٹ اپنی مقامیت میں رہتے ہوئے عالمی انسان کا عکاس ہوتا ہے لیکن وہ اس عالمی منڈی میں commodify نہیں ہو پاتا۔

 

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...