بھارت پاکستان کو نظر انداز کیوں کر رہا ہے؟

177

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز  بھارتی ہم منصب نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر و دہشت گردی سمیت تمام بڑے مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ایک ہفتے کے دوران عمران خان کی طرف سے  بھیجا گیا یہ دوسرا خط ہے۔ اس سے قبل جمعرات کے دن  شاہ محمود قریشی  بھی انڈین وزیرخارجہ جے شنکر کو ایک مکتوب پیغام ارسال کرچکے ہیں جس میں انہوں نے باہمی احترام اور اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کی امید ظاہر کی۔

اگرچہ بھارتی وزیر اعظم نے حالیہ انتخابات میں پاکستان کے خلاف سخت منفی مہم چلائے رکھی اور اسے ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بنا کرپیش کیا، اس کے باوجود  پاکستانی وزیراعظم نے بذریعہ فون مودی کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور تسلسل کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف بھارت کی جانب سے مصالحت کی اس خواہش کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس ماہ کرغستان میں ہونے والے ایس سی او کے اجلاس میں دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا ، انڈیا نے اسے بھی  رد کر دیا۔

ابتر معاشی حالت اور بیرونی دباؤ کے پیش نظر اس وقت پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ  بھارت مخالف حکمت عملی جاری نہ رکھنا اس کے مفاد میں ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس کے لیے وہ کئی طرح سے اقدامات اٹھارہا ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر حافظ سعید کو اجتماع سے خطاب کی اجازت نہیں دی گئی اور ان پر جمعہ کی تقریر کرنے پہ بھی پابندی عائد رہی۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود عید کے دنوں میں بھارت  کے دورے پر تھے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کا یہ دورہ بھی پاکستان کی جانب سے بات چیت کو آگے بڑھانے کی سعی کا تسلسل ہے۔

پاکستان کی طرف سے امن و مصالحت کی کوشش خوش آئند ہے۔ لیکن بھارت ابھی تک اس پہ آمادہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حالیہ انتحابی مہم میں پاکستان کو نشانے پر رکھنے کی وجہ سے بھارتی حکومت کے لیے فوری طور پہ دوستی کی دعوت قبول کرنا مشکل ہو، کیونکہ ایسی صورت میں اسے اپوزیشن کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ یہ رویہ پاکستان بارے نئی خارجہ پالیسی کا حصہ ہو۔ پاکستانی وزیراعظم  البتہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کےخواہاں ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے کوششیں جاری رہیں تو ممکن ہے  رفتہ رفتہ تعلقات معمول پر آنا شروع ہو جائیں، جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...