عاصم بٹ جانتا ہے

ایک بھرپور زندگی گزارنے کی خواہش، انسان کو ایک وقت میں کئی زندگیاں گزارنے پر مائل کر دیتی ہے اور زندگی کی ہر پرت اپنی جگہ مکمل ہوتی ہے۔ فرد کو اپنی پہلو در پہلو زندگی کا احساس کم ہی ہوتا ہے اور جب کبھی احساس ہو جائے تو ایک بالکل نیا تجربہ ہوتا ہے۔ جیسے وہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور چھپاتے چھپاتے اس کی زندگی گزر جاتی ہے اور وہ خود ایک بھید بن جاتا ہے۔ پاکستان کا سماج اور سیاست بھی اسی طرح بھیدوں بھری، پرت در پرت پیچیدہ ہے۔ ہر پرت ایک قالین کی طرح ہے اور اس قالین کے نیچے کیا کچھ جمع ہے اس کا ہمیں شاید کچھ اندازہ ہے لیکن مکمل خبر نہیں، لیکن لاہور میں ایک شخص ہے جو جانتا ہے کہ قالین کے نیچے کیا ہے اور فرد کی بھیدوں بھری زندگی کا راز کیا ہے۔ اس کا نام عاصم بٹ ہے۔ اسے فرد کو اس المیے کا مکمل احساس ہے جس سے وہ خود نمبرد آزما ہے اور وہ جو معاشرہ تشکیل دے رہا ہے وہ کتنا بوجھل اور ناہموار ہے۔

عاصم بٹ ایک ناول نگار ہے۔ کہانیاں بھی لکھتا ہے اور دیس دیس کی کہانیاں اردو میں متعارف بھی کرواتا ہے۔ اس کے کردار خواہ وہ ناول کے ہوں یا کہانیوں کے۔ لاہور کی گلی کوچوں میں مقید ہیں۔ ان کی زیادہ سے زیادہ دوڑ قصور اور شیخوپورہ جیسے مضافاتی شہروں تک ہے۔ بہت ہوئی تو راولپنڈی ہو آئے۔ ’’بھید‘‘ عاصم بٹ کا تیسرا ناول ہے۔ اور اس کے کردار ویسے ہی ہیں جیسے اس کے دوسرے ناولوں اور کہانیوں میں ہیں اور لاہور کے باسی ان سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ایک اکائونٹنٹ جو پہلے صحافی رہا ہے اور عام اکائونٹنٹ کی طرح اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس کا کوئی جیک پاٹ(دائو) لگ جائے۔ کہیں رستے میں نوٹوں سے بھرا بیگ مل جائے۔ اس کا دائو لگ جاتا ہے اور ایک لاری میں اسے ایک مسودہ ملتا ہے۔ اس مسودے میں وہ اپنے آپ کو تلاش کرتا ہے۔ ظاہر ہے تلاش کے اس سفر میں ایک ہیروئن بھی ہو گی جو کسی کے ساتھ بھاگنے کے لیے تیار بیٹھی ہو گی۔ ایک پیر، مداری، انقلابی، اس کی ذہین مگر زود رنج بیٹی، ایک آوارہ اپنے آپ میں گم جس کے نصیب میں ملنگ بننا لکھا ہی ہے۔ ماسٹر جس کے خواب اس کی دہلیز پار نہیں کر پاتے، ہیرو، متروک کردار اور مصنف خود۔ اس میں کوئی کردار بھی ایسا نہیں جس سے لاہور واقف نہ ہو اور لاہوریوں کے اندر نہ رہتا ہو۔ تمام کردار ایک ہی کردار کے مختلف پہلو ہیں اور عاصم بٹ کا کمال یہ ہے کہ اس نے انہیں اس ترتیب سے پرویا ہے کہ ہر کردار اپنی جگہ بھید بن گیا ہے اور یہ ناول ایک بھیدوں بھری کتاب بن گئی ہے۔

عاصم بٹ نے چیزوں کو ملفوف کرنے، پر اسرار اور پوشدہ رکھنے کے ہنر کو آگے بڑھایا ہے

کہنے کو تو یہ ایک ناول ہے اور اس کی بنت اس طریقے سے کی گئی ہے جیسے راوی کے کنارے بیٹھے سادھوں کا بارہ خانوں والا تعویذ، جس کا ہر خانہ ایک دوسرے سے ملا ہوا ہے، الگ بھی ہے اور ایک مجموعی اسرار کی فضا بھی بناتے ہیں۔ یہ تعویذ رد بلا کے لیے نہیں ہے بلکہ نئی بلائوں کو دعوت دینے کے لیے ہے۔ مثلاً ایک کردار جو خلا کی مخلوق کو چیلنج کرنے کے لیے ایک خبر اخبار میں چھپوانا چاہتا ہے اور اپنا نام بھی پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کی خبر ’’کوڈ لینگوئج‘‘ میں ہے جیسے وہ خود ہی پڑھتا ہے۔ ایلینز، ہشیار باش…آس پاس، ستیاس ناس…میں ہوں ایلینز کلر، تمہاری موت…تم جہاں بھی ہو، میں بھی وہیں ہوں۔ سائے کی طرح تمہارے پیچھے، کبھی اوپر کبھی نیچے، شیطانوں کا بے تاج بادشاہ، چڑیلوں کا ناشتہ۔ ہر جادو کاتوڑ، موکلوں کا زور، میں ہوں کون؟ موکلوں کا امیر، امیر الموکلون ایلینز ہشیار، تمہاری موت کی پکار ایک سے زائد مرتبہ اس نے یہ اشتہار لہک لہک کر پڑھا۔ مستنصر حسین تارڑ نے ’’بھید‘‘ کو اردو ادب میں بھول بھلیوں کی تکنیک والا واحد ناول قرار دیا ہے لیکن عاصم بٹ کا پہلا ناول ’’دائرہ‘‘ اور اس کی درجنوں کہانیاں بھی اسی تکنیک میں ہیں۔ جہاں بھید ہیں اور بلائیں ہیں۔ جو انہیں ایک اساطیری فضا دیتے ہیں۔

اگرچہ عاصم بٹ کے ناول اساطیری نہیں ہیں لیکن اس نے جن بھوت چڑیلوں اور بلائوں کو بے چینی، بوریت وجود کے بوجھل پن سے بدل دیا ہے۔ آج کے فرد کے لیے یہی سب کچھ خوفناک ہے جس سے وہ ڈرتا ہے اور انہیں شکست دینے کے در پے ہے۔ اس کی کہانیوں اور ناول کے بیانیے میں بے چینی، بوریت اور وجود کا بوجھل پن بھوت، پرتوں سے کم نہیں ہے۔ عاصم بٹ جانتا ہے کہ ہماری زندگیوں پر چھایا اسرار، طلسم، جادو انہی کی وجہ سے ہے۔ اگر کوئی اس طلسم کو توڑنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو اس سے ایک اور طلسم جنم لے لیتا ہے۔ جیسے اس کے اپنے ہر کردار میں سے ایک نیا کردار جنم لیتا ہے لیکن کسی بھید کا پا لینا کسی پری یا شہزادی کو جن یا دیو کی قید سے آزاد کروانے سے کم نہیں ہے لیکن مہم جوئی ہے اور اس میں جو کشش اور قوت ہے وہ ان نئی جدید بلائوں سے محفوظ رکھنے کا واحد رستہ ہے۔ عاصم بٹ نے چیزوں کو ملفوف کرنے، پر اسرار اور پوشدہ رکھنے کے ہنر کو آگے بڑھایا ہے۔ یہ عجیب ہنر ہے کہ ناول نگار اپنی کہانی کو کھولنے کے بجائے اسے میرا جی کے گولوں کی طرح، اس پر پرتیں چڑھاتا ہے۔ معروف شاعر میرا جی سگریٹ کی ڈبیا کی چمکیلی پنیوں سے گولے بناتے تھے جو انہیں بہت پسند تھے۔ میرا جی یہ گولے ہوا میں نہیں اچھالتے تھے اور نہ ہی انہیں اچھال کر غائب کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ عاصم بٹ کے پاس یہ ہنر ہے. یہ اپنے ایک کردار کو غائب کر دیتا ہے اور اس جیسا ہی ایک کردار سامنے لا کھڑا کرتا ہے کہ شائبہ بھی نہیں ہوتا کہ منظر بدل چکا ہے۔

عاصم بٹ مداری ہر گز نہیں ہے بلکہ ایک ہنرمند ناول نگار ہے جو اپنے کرداروں کو اپنی مرضی سے گھڑتا ہے سنوارتا ہے، انہیں اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دیتا۔ ایک فراریت ہے جو ’’مسودے کے آخری نوٹ‘‘ پر پہنچ کر اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ جہاں لکھاری، لکھت اور کردار ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔ عاصم بٹ جانتا ہے کہ ہمارا سماج جس فرد سے مل کر بنا ہے وہ کتنا خام، وہمی اور تشنگی کا شکار ہے کہ اس کی اکائی سے بنا سماج لایعینت کے حصار سے نکل نہیں سکتا۔ وہ جانتا ہے لیکن اعلان نہیں کرتا۔ پہیلیاں بھجواتا ہے۔

بشکریہ:روزنامہ 92

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...