عیدالفطر کے موقع کی دلچسپ بلتی رسوم و روایات

بلتستان ماضی میں تبت خورد سے موسوم تھا۔ بہت عرصہ تک یہ خطہ لداخ و تبت کے ساتھ منسلک رہا۔ جس کے باعث یہاں کے رہن سہن اور رسوم و رواج اور روایات پر تبتی اثرات نمایاں ہیں۔ سولہویں صدی عیسوی میں یہاں اسلام ایرانی مبلغین جو کشمیر سے یہاں وارد ہوئے تھے، کے ہاتھوں آیا تو یہاں کی طرز زندگی ہی نہیں بلکہ بود و باش حتی کہ تعمیرات پر بھی ایرانی و کشمیری نقوش نمایاں ہونے لگے۔ بلتستان میں منائے جانے والے دیگر تہواروں کی طرح عید الفطر کے حوالے سے بھی یہاں منفرد روایات مروج  ہیں۔ عید الفطر یوں تو ایک اسلامی تہوار ہے۔ دین اسلام میں اس عید کی بڑی اہمیت و فضیلت ہے۔ جس کی روشنی میں اس روز نماز عید اور فطرانے کی ادائیگی سے لے کر دیگر بہت ساری عبادتیں ہیں جو لوگ باقاعدگی سے انجام دیتے ہیں لیکن بہت سی رسوم ایسی ہیں جو اس عید پر خاص طور پر بلتستان کا خاصہ ہیں۔

رمضان المبارک کی 29 تاریخ کو ہی لوگوں میں عید الفطر کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس روز ایک طرف عید کی تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں تو دوسری جانب لوگ چاند دیکھنے کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ حکومتی سطح پر زونل اور ضلعی سطح پر رویت ہلال کے لیے انتظامات کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے لیکن لوگ اپنے طور پر چاند دیکھنے کے لیے صدیوں سے خاص اہتمام کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے لوگ کسی بلندی پر واقع گاؤں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں سے بہ آسانی چاند دیکھا جاسکتا ہو۔ چاند نظر آنے کی صورت میں جگہ جگہ سے محمد ﷺ اور اُن کی آل پر درود و سلام اور نعت و قصائد پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو اگلے روز عید کے اختتام تک جاری رہتا ہے۔ عید کے روز لوگوں کے دن کا آغاز فجر کی نماز کے بعد اپنے عزیزوں کی قبور کی زیارات سے ہوتا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں قبرستانوں کا رُخ کرتے ہیں اور اپنے مرحوم عزیزوں کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ لوگ اپنے ہمراہ طرح طرح کی ڈشز بنا کر لے جاتے ہیں اور اپنے عزیزوں کے نام سے قبرستا ن میں تقسیم کرتے ہیں۔

بلتستان میں خاص طور پر ایک روایت یہ ہے کہ جن کے گھروں میں سال کے دوران کوئی فوتگی ہوتی ہے اس سال اس گھر میں عید پر خوشیاں نہیں منائی جاتیں۔ ان کے گھر میں فاتحہ خوانی کا اہتمام ہوتا ہے۔ اُس گھر کے سارے مکین گھر میں سوگوار بیٹھے رہتے ہیں۔ جملہ رشتہ دار اور اہل محلہ ابھی ان کے گھر جمع ہوتے ہیں اور وصال پا جانے والے شخص کے لیے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ فاتحہ خوانی سے فارغ ہوکر لوگ  نئے کپڑے زیب تن کیے عید گاہوں، خانقاہوں اور مساجد کا رُخ کرتے ہیں جہاں نماز عید ادا کی جاتی ہے اور صدقہِ فطر کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھر میں موجود رہتے ہیں تاکہ اپنے گھر آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا جاسکے۔  بلتستان میں ماضی میں تمام لوگ سب سے پہلے علاقے کے راجہ کو سلام کرنے اس کے محل جاتے جہاں عید کی محفل بھی ہوتی۔ لوگ قصائد سناتے، نامور شعرا نعت اور منقبت پر مشتمل اپنا تازہ کلام وہاں محفل میں پیش کرتے اور راجہ سے انعام و اکرام پاتے۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد لوگ اپنے عزیزوں سے عید ملنے جاتے۔ اب بھی مقامی راجہ اور علاقے کے بڑے عالم دین کو سلام کرنے اور عید کی مبارک باد دینے اُن کے گھروں میں جانے کی روایت برقرار ہے۔ اس کے بعد اپنے عزیزوں سے عید ملنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

بلتستان میں اب تو بڑے شہروں کی طرح عید پر طرح طرح کے پکوان تیار کیےجاتے ہیں، لیکن قدیم زمانے سے جوپکوان  تیار کئے جاتے رہے ہیں وہ آج بھی عید الفطر کا لازمی جزو ہیں۔ جن میں کلچہ میٹھا اور نمکین، ازوق اور زدیر چوُنگ شامل ہیں۔ ان کے ساتھ سبز قہوہ اور سبز نمکین چائے کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ عید الفطر پر بیٹیاں اپنے والدین کو سلام کے لئے جاتے وقت خاوند کے گھر سے خاص طور پر تیار کردہ کلچے بڑی تعداد میں لے کر جاتی ہیں۔ رات کے کھانے پر سسرال میں داماد کو فیملی سمیت دعوت دی جاتی ہے۔ عید کے روز رات کے کھانے پر بیاہ کرگئی ہوئی تمام بیٹیاں بچوں سمیت والدین کے گھر جمع ہوتی ہیں۔ جن گھروں میں بیٹیوں کی منگنی یا نکاح ہوا ہوتا ہے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہوتی تو اس کےمنگیتر کے لئے حسب اسطاعت قیمتی جوڑا اور گھروں میں بنے ہوئے کلچے بھیجے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ شادی ہونے تک ہر عید پر جاری رہتا ہے۔ عید الفطر پر دوست احباب مل کر خصوصی طور پر تفریحی مقامات پر نکل جاتے ہیں جہاں انواع اقسام کے کھانے وغیرہ تیار رکھ کے دوستوں کی تواضع کی جاتی ہے۔

یہ بلتستان کی بعض قدیم خوبصورت روایات ہیں جنہیں زندہ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ  مشینی دور کی الجھنوں سے باہر نکل کر کچھ لمحے زمین سے جڑی روایات کے ساتھ گزار سکیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...