پیمانِ فطرت اور عیدالفطر

انسان جب اللہ کی خاطر روزے رکھتا ہے، بھوک اور پیاس کی شدت سے گزرتا ہے، عبادت ومناجات میں ایک ماہ بسر کرتا ہے، آسمانی صحیفے کی تلاوت کرتا ہے اور تزکیہ نفس کے مراحلے طے کرتا ہے تو اس کا آئینہ دل مصفّٰی ہوجاتا ہے۔ نفس کی پاکیزگی اورطہارت کا حصول اس ریاضت کے ذریعے آسان ہو جاتا ہے۔ اللہ پر ایمان ، اس کی قربت کی تمنا اور اس کی رضائوں کے حصول کی آرزو لے کر اپنے آپ کو خوش دلی سے بعض مادی ضروریات سے روک دینا ایک نہایت خوشگوار تجربہ ہے۔
جب انسان اس حقیقت کو جان لیتا ہے کہ ساری کائنات کا خالق و مالک وہی ایک خدا ہے، اسی نے انسان کو شرف و تکریم بخشی ہے، سب انسانوں کو اُس نے اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے تو دوسرے انسانوں کے درد وغم کو وہ اپنا درد و غم سمجھنے لگتا ہے۔ اپنی بھوک اور پیاس کی شدت سے وہ دوسرے بھوکے انسان کی گرسنگی کی شدت کو گویا دیکھ لیتا ہے اور دوسروں کی تشنگی کا احساس اس کے اپنے وجود کو چھو لیتا ہے۔ ان منازل فکر و عمل سے گزر کر وہ گویا پھر سے اپنی فطرت انسانی پر پلٹ آتا ہے۔ وہی فطرت جو ممکن ہے عدم توجہ، غفلت اور امور دنیا میں سال بھر کی مشغولیت کی وجہ سے کسی اوٹ میں چلی گئی ہو۔ ممکن ہے آئینہ فطرت پر گرد غفلت کی تہ بیٹھ گئی ہو، پرِ پرواز انسانی غبار آلود ہو گئے ہوں، پھر ایک ماہ کی مسلسل توجہ اور کوشش سے آئینہ فطرت صاف اور پر پرواز سبک ہو گئے ہوں. یوں لگتا ہے کہ ”عیدالفطر” کا عنوان اسی امید اور توقع کی بنیاد پر اختیار کیا گیا ہے۔ روزے کی فرضیت کی پہلی آیت یہاں پر اختتام پذیر ہوتی ہے: لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ، شاید کہ تم پرہیزگار ہوجائو۔
روزے کا تمام تر فلسفہ اس مختصر سے جملے میں سمو دیا گیا ہے۔ اسی امید اور توقع پر روزے کا فریضہ عائد ہوا ہے۔ اگر کسی باایمان شخص نے اس فلسفے کے ملحوظ نظر رکھ کر ماہ مبارک رمضان گزارا ہے تو اُس نے گویا ”عیدالفطر” کو پا لیاہے۔
”عید” لوٹ آنے کے معنی میں ہے۔ اردو کا لفظ ”اعادہ”، دہرانا اور پلٹنا اسی مادے سے ہے۔ ”عود” کر آنا یعنی پلٹ کرآنا۔ یعنی واپسی۔ دوسری طرف ”فطر” ہی سے ”فطرت” ہے یعنی ایک خاص طرح کی بے مثال تخلیق۔ انسان کو اس خاص طرح کی خلقت سے نوازا گیا ہے جو اپنی اصل میں پائیدار ہے۔ ”عیدالفطر” گویا اپنی فطرت پر لوٹ آنے کا دن ہے۔ یہ دن روزوں کے بعد آتا ہے۔ گویا یہ نام، اس کا معنی اور اس کا مقصد روزوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس کا فلسفہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قرآن کی زبان میں ” لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ” ہے۔

ہمارے اپنے عزیزوں، ہمسایوں، دوستوں اور جاننے والوں میں ایسے بہت سے افراد ہوتے ہیں جوضرورت مند ہوتے ہیں لیکن زبان احتیاج نہیں کھولتے۔ ان سے نیکی کیجیے، شفقت بھری نیکی، احساسِ گرم والی نیکی اور پیمان فطرت والی نیکی

یہ بات توجہ طلب ہے کہ عیدالفطر پر نماز عید فرض یا واجب نہیں جب کہ ”فطرانہ” کی ادائیگی اپنی شرائط کے ساتھ فرض ہے۔ ”فطرانہ” کا لفظ بھی ”فطرت” ہی سے ہے۔ پاک فطرت انسان اپنے ہم نوع انسانوں سے غافل نہیں ہو سکتے۔ وہی انسان قرآن جنھیں گاہے ”بنی آدم” کے عنوان سے یاد کرتا ہے یعنی آدم کے بیٹے، آدم کی اولاد۔ خاص طور پر قرآن کی زبان میں ”عالم ذر” میں جہاں تمام بنی آدم سے ایک الٰہی پیمان لیا گیا اور جس کا ذکر قرآن حکیم کی سورہ مبارکہ الاعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے، یہ عنوان بہت معنی خیز ہے۔ گویا تمام انسان آپس میں بھائی ہیں کیونکہ ایک باپ کی اولاد ہیں۔ اس اعتبار سے انسان ہونے میں بھی مساوی ہیں، پیمان الٰہی باندھنے کے اعتبار سے بھی مساوی ہیں اور ایک باپ کی اولاد ہونے کے اعتبار سے باہمی محبت و انس بھی ان کی فطرت میں گوندھ دیا گیا ہے۔ اسی فطرت کا تقاضا ”فطرانہ” ہے۔ عید کے موقع پر اپنے معاشرے کے پچھڑے ہوئے محروم انسانوں اور ضرورت مندوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا گویا بیدار اور پاک و مصفّٰی فطرت کا تقاضا اور علامت ہے۔ قرآن حکیم کی یہ آیت اسی ایک اور الٰہی فطرت کی طرف نشاندہی کرتی ہے:فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا، اللہ کی فطرت کہ جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ یہاں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ اس انسانی بھائی چارے کو قرآن مجید نے مختلف مقامات پر انتہائی خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے، یہاں تک کہ کئی ایک انبیاء کرامؑ کا ذکر کرتے ہوئے انھیں اُن کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔
 ہمیں اپنے اردگرد نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں پر ایک نظر، اپنے ہمسایوں پر ایک نگاہ، اپنے جاننے والوں اور دوستوں پر نظر التفات، بیماروں اورمعذوروں پر ایک نگاہ شفقت سے لمحات عید کا آغاز کرنا چاہیے۔ کیسا ایمان افروز حَسین آغاز ہے۔ اس کے لیے اعلان نہیں بلکہ رضائے الٰہی کی طرف میلان کی ضرورت ہے۔ اس طرح سے کسی ستمدیدہ اور محروم کا انتخاب کیا جائے کہ جس سے اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو، پھر احسان نہ جتلایا جائے۔ زخموں پر مرہم رکھنا اور احسان جتلانا دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ یاد رہے کہ طلوع ہلال سے پہلے بھی فطرانہ کی ادئیگی کی صورت علماء نے بتا رکھی ہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ”فطرانہ” کو فقط ”شرعی” حدود کا پابند بنانا ضروری نہیں۔ یہ تو ادا کرنا ہی ہے۔ اپنی توفیق، استطاعت اور جذبۂ ایثار کو دوسروں کی ضرورت کے پیمانے سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
اس ساری گفتگو کو سمیٹا نہیں جاسکتا جب تک ہم پیشہ ور گداگروں پر بھی ایک نظر نہ ڈال لیں۔ فطرانے کی فرضیت کی تکمیل اور غریب پروری کے احساس کی تسکین پیشہ ور گداگروں پر”نوازشات” سے نہیں ہو سکتی۔ روزوں اور عید کے ایام میں گداگروں کی فوج ظفر موج ہمیں ہر طرف سے گھیر لیتی ہے۔ یہ لوگ بری طرح چمٹ جاتے ہیں۔ ان کی مدد عام طور پر ضرورت مندوں کو محروم کرنے کا باعث بنتی ہے اور ان گداگروں کی حوصلہ افزائی کا بھی ۔ قرآن حکیم نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ ان چمٹ جانے والوں کے بجائے ان سفید پوشوں کی طرف توجہ دیں جو اپنی عزت نفس کی حفاظت کے لیے اپنی ضرورت کو عموماً بیان بھی نہیں کر پاتے۔
ہمارے اپنے عزیزوں، ہمسایوں، دوستوں اور جاننے والوں میں ایسے بہت سے افراد ہوتے ہیں جوضرورت مند ہوتے ہیں لیکن زبان احتیاج نہیں کھولتے۔ ان سے نیکی کیجیے، شفقت بھری نیکی، احساسِ گرم والی نیکی اور پیمان فطرت والی نیکی. والدین، اقرباء، مسافر، بیمار اور ہمسائے ہماری ایک نگاہ عنایت کا سب سے بڑھ کر حق رکھتے ہیں۔ آئیے پیمان فطرت کو پورا کرتے ہیں اور عیدالفطر مناتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...