وہ جھوٹ پھیلا کر اسے تاریخ کا نام دے رہے ہیں

رومیلا تھاپر

128

بھارت کی حکمران جماعت ہندو قوم پرست نظریات کی ترویج کے لئے ملکی تاریخ کو ازسر نو مرتب کررہی ہے

سا ل دوہزار چودہ کے انتخابات میں فتح کے بعد مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی نے ہندو انتہاپسند نظریات کو آئینی شکل دینے کے لئے بھارتی تاریخ کو بدلنے کی کوششیں تیزکردیں۔ ان کوششوں کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب 1999 تا 2004 میں پہلی مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تھی۔

مودی کی حکومت اور اس کی سیاسی جماعت بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کے زیر اثر بھارتی تاریخ کو بدلنے کی کوششیں مختلف طریقوں سے مسلسل جاری ہیں۔ اس  کا ایک عمومی طریقہ سرکاری نصاب میں تبدیلیوں کا عمل ہے جس کے دوران کئی مضامین کے اسباق یا تو حذف کردیئے گئے ہیں یا ان میں ہندو انتہا پسند نظریات کے حامل پیراگراف شامل کئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں ہندوستانی سماج کے ماضی میں من مانی تبدیلی کی جارہی ہے۔ بھارت کی حکمران جماعت اپنے ہم خیال میڈیا کی مدد سے تاریخی دروغ گوئی کو حقائق کے طور پر پیش کررہی ہے اور یہ جھوٹ ان سکولوں میں تاریخ کے نام پر پڑھایا جارہا ہے جنہیں راشتڑیہ سوامی سیوک سنگھ چلاتی ہے۔ یہ تحریک بھارتی حکمرا ن جماعت بی جے پی کی مادر علمی ہے جس میں وزیر اعظم مودی سالوں تک ایک رضاکار یا کارسیوک کے طور پر سرگرم رہے ہیں وہ آج بھی خود کو اس تحریک کا کارسیوک سمجھتے ہیں۔

ہندو انتہا پسند تاریخ کے درپے کیوں ہوئےہیں؟

قوم پرستوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ تاریخ کا ایسا قابل قبول نکتہ نظر گھڑتے ہیں جس کے ذریعے ایسے افراد کو سماجی قبولیت ملتی ہے جنہیں وہ قومی تعمیر کے لئے ناگزیر گردانتے ہیں۔ انتہا پسندوں کو ماضی کے واقعات کی من مانی تشریحات کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ وہ اپنے حالیہ اقدامات کو آئینی اور قانونی قرار دے سکیں۔ ہندوستانی تاریخ کو ازسر نو ترتیب دینا ہندو انتہا پسند وں کے لئے اس لئے لازم ہے کہ وہ اپنے نظریات کو عوام میں قبولیت دلوا سکیں۔

اٹھارویں صدی میں قائم ایک مسجد۔ ارکوٹ شہر جو اب بھارتی ریاست تمل ناڈو کا حصہ ہے

سیکولر کولونیل مخالف قوم پرست جماعت انڈین نیشنل کانگریس جس کی قیادت موہن داس کرم چند گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کررہے تھے، تما م ہندوستانیوں کو ہندوستانی قوم کا حصہ سمجھتی تھی اور اس جماعت نے اجتماعی کوشش سے بھارت کو برطانوی راج سے آزادی دلوائی تھی۔ کانگرس کی فکر اور جہت کو 1920 کی دہائی میں دو مخالف مگر محدود افکار نے چیلنج کیا۔ ان میں سے ایک مسلم لیگ کی سیاسی تحریک تھی جسے ہندوستان کی تعلیم یافتہ مڈل کلاس مسلم اشرافیہ چلا رہی تھی اور وہ یہ دعویٰ کرتی تھی کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ قوم پرست جماعت ہے۔ جبکہ دوسری جانب ہندو مہاسبھا تھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ ہندوؤں کی قوم پرست نمائندہ جماعت ہے۔ اس جماعت میں اونچی ذات کے مڈل کلاس ہندو شامل تھے۔ اس تنظیم نے بعد ازاں راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ یا آر ایس ایس کا نام اختیار کرلیا۔ مسلم لیگ 1947 میں قیام پاکستان کی کوششوں میں کامیاب ہوئی۔ جبکہ آر ایس ایس اور اس کی حلیف جماعتیں ابھی تک ہندوستان کی سیکولر ریاست کو ہندو مذہبی ریاست میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے نظریات جس کے تحت وہ ہندو اکثریتی تصورات پر مبنی سیاست کرتے ہیں، کو ہندوتوا کا نام دیا جاتا ہے۔

ہندو اور مسلم قوم پرستی کے دونوں متضاد تصورات کی جڑیں برطانوی راج  کے فہم میں پوشیدہ ہیں جو وہ ہندوستان کے متعلق رکھتے تھے۔ ہندوستان کے متعلق برطانوی پالیسی ساز افراد سن اٹھارہ سو سترہ میں جیمز مل کی پر اثر کتاب دی ہسٹری آف برٹش انڈیا میں دیئے گئے دو قومی نظریئے کے تصور سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان میں ہمیشہ سے دو قومیں آباد ہیں اور یہ ہندو اور مسلمان ہیں۔ انہوں نے ان اقوام کو ایک دوسرے کی مخالف اقوام قرار دیا جو کہ مسلسل ایک دوسرے کے خلاف لڑتی رہی ہیں۔

جیمز مل نے اپنے اس تصور کے مطابق ہندوستانی تاریخ کو تین حصوں میں بیان کیا ہے، ہندو، مسلم اور برطانوی تاریخ۔ ان کے نظریات کو ابتداََ ہندوستانیوں میں قبولیت ملی مگر ان کی صداقت پر بعد ازاں مورخین نے سوالات اٹھائے اور ان تصورات کو نصف صدی قبل مسترد کردیا گیا۔ تاہم ان کے یہ نظریات ہندوتوا کے تصورات میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہندو راج کے لئے لازم ہے کہ جمہوریت کو ریاست میں ایک ایسی صورت کے ساتھ تبدیل کردیا جائے کہ جہاں ہندو اپنی اکثریت کے سبب خصوصی حیثیت کے مالک ہوں۔ ہندوتوا کے تصورات کے مطابق ایک ہندو وہ ہوتاہے جو نہ صرف آبائی طور پر ہندو مذہب سے تعلق رکھتا ہو بلکہ اس کے آباؤ اجداد کی جغرافیائی بنیاد بھی اس ہندوستان میں ہو جوبرطانوی راج کے قبضے میں رہا ہے۔ ہندوتوا کی اس تشریح کے مطابق ہندو ایک بہت ہی خاص نسل قرار پاتے ہیں اور ان کے علاوہ جو یا کسی دوسر ے علاقے سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں یا وہ ہندو نہیں ہیں جیسا کہ مسلمان، مسیحی اور پارسی، وہ سب خارجی و غیر ملکی قرار پاتے ہیں۔

بریھادیسورا مندر جوکہ تھانجاور میں واقع ہے، یہ تمل ناڈو کا ایک جنوبی شہر ہے

ہندو مذہب کا آغاز اور بنیاد آرین ثقافت میں ہے۔ آرین کوئی حسب نہیں ہے بلکہ یہ زبان اور ثقافت کا نام ہے۔ مورخین کے مطابق اس کا وجود دو ہزار قبل مسیح سے ہے۔ تاہم ہندوتوا تشریحات کے مطابق یہ اس سے بھی قدیم ہیں۔ وہ وادی سندھ کی تہذیب سے بھی اس کو ایک ہزار سال قدیم بیان کرتے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب ایک مہذب اور شہری تہذیب تھی جو کہ آرین سے ایک ہزار سے پہلے ہو گزری ہے۔ آرین لفظ آریا سے نکلا ہے جس کا مطلب محترم ہوتا ہے۔ چونکہ ہندو اپنے آپ کو آرین کہتےہیں لہذا وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دیگر نسلوں سے برتر ہیں۔ ان خیالات سے نہ صرف انیسویں صدی کے یورپین نسلی تفاخر کا احسا س پیدا ہوتا ہے بلکہ انیس سو تیس کی دہائی میں جرمن اور اطالوی فسطائی تصورات کی یاددہانی بھی ہوتی ہے۔ آرایس ایس کی تشریحاتی تحریریں اور فسطائیوں کی تحریروں میں بہت مماثلت موجود ہے۔

اگرچہ مورخین اب ایک ہزار اور دو ہزار قبل  مسیح کے عہد میں موجود آبادیوں اور ثقافتوں میں باہمی ربط تلاش کررہے ہیں، تاہم ہندوتوا کے تصورات سے متاثرہ افراد کا یہ کہنا ہے کہ ہزاروں سال پہلے برصغیر میں ہندوؤں کے اجداد آرین حکمران تھے اور ان کی ایک ہی ثقافت تھی۔ دیگر تمام اقوام ان کی غلامی میں تھیں۔

حالیہ دنوں میں سائنسدانوں نے ایک نسلی حقیقت دریافت کی ہے جس کے مطابق شمالی ہند میں رہنے والے افراد کی نسلی جڑیں وسط ایشیا اور ایران میں رہنے والے لوگوں میں ہیں۔ مورخین اس حقیقت کوہندوستان کی جانب ہونے والی ہجرت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم یہ خیال ماضی کے متعلق ہندوتوا کے تصورات کے سخت منافی ہے۔ اس امر کی شہرت کے لئے ہندوستان میں اسلام سے پہلے کا عہد سنہرا تھا اس طرح کے دعوے کئے جاتے ہیں کہ 1000 قبل مسیح سے لے کر سن 1200 تک کا ہندو عہد سائنسی طور پر اس قدر شاندار تھا کہ موجودہ عہد کی سائنسی ایجادات اس دور میں پہلے ہی ہوچکی تھیں۔ سرکاری سرپرستی میں اس معاملے کی تشہیر کی جاتی ہے کہ ہوائی جہاز، پلاسٹک سرجری، خلیوں کی منتقلی اور افزائش کا عمل ہزاروں سال پہلے کیا جاتاتھا۔ ان بیانات میں ان ایجادات کا سہرا، ازمنہ قدیم کے دیوتاؤں اور انسانوں کے سر جاتا ہے۔

ایک اور دعویٰ جو متواتر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلم دور میں ہندوؤں پر ظلم کیا جاتا تھا اور وہ ہزار سال تک غلام رہے۔ جب آر ایس ایس ہندو راج کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کے پیچھے ہزار سال کی غلامی اور حق تلفی کا مداوا شامل ہوتا ہے۔ مسلم عہد یا مسلم دور حکومت کو نفرت پھیلانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اگرچہ مورخین ہندو انتہاپسندوں کے ان دعوؤں کے متعلق کوئی دلیل نہیں دیکھتے مگر ان کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلم عہد میں ہندو مسلم تنازعات نہیں تھے تاہم ان کی اہمیت اس قدر ہی ہے جس قدر اہمیت ہندو عہد میں ہندو مت اور بدھ مت کے ماننے والوں میں فسادات کی تھی۔ تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ کچھ بااثر مسلم  رہنماؤں نے ہندوؤ ں پر حملے کئے۔ ان کے مندر توڑے اور انہیں لوٹا مگر ایسے ہی اقدامات ہندو عہد میں بااثر ہندوؤں نے بدھ مت کے ماننے والوں کے خلاف بھی کئے تھے۔ ایسے واقعات میں مذہبی تعصب کو ہی وجہ سمجھنا تاریخی غلطی ہے۔ مسلم عہد میں ظلم و ستم سہنے کے جو دعویٰ جات انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے کئے جاتے ہیں ان کی حیثیت اس ظلم و ستم کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو اونچی ذات کے ہندوؤں نے ناپاک تصور کئے جانے والے چھوٹی ذات  کے شودروں پر روا رکھے ۔ ان مظالم کی تاریخ اس عہد تک پھیلی ہوئی ہے جس میں عہد کو انتہاپسند ہندو مسلم سلاطین کا ظالمانہ عہد قرار دیتے ہیں۔

یہ امر قابل غور ہے مسلم عہد کے دوران  شاندار اور نئے تصورات ہندو مذہب  میں شامل ہوئے۔ یہ روایات جن پر آج بھی ہندو عقیدت مند عمل پیرا ہیں، ان کے آغازکی تاریخ مختلف ہندو فرقوں میں مسلم عہد کے دوران شروع ہوئی۔ تاہم اب ان تاریخی حقائق کو نظرانداز کیا جارہاہے۔ ہندو کلاسیکل موسیقی میں آج بھی وہ کلام پوری عقیدت سے پڑھا جاتا ہے جسے مسلم شعرائے کرام نے لکھا اور ان کی موسیقی بھی مسلم موسیقاروں نے ترتیب دی تھی۔ اس حقیقت کو بھی نظرانداز کیا جارہا ہے کہ مسلم عہد میں شاہی دربار کے اعلیٰ عہدوں پر اونچی ذات کے ہندو ہی فائز رہے ہیں۔

بھارت کی سیکولر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لئے ملک کے پہلے وزیراعظم اور کولونیل ازم کے بڑے مخالف جواہر لعل نہرو کو ایک باقاعدہ عمل کے ذریعے بدنام کیا جارہا ہے کیونکہ وہ ہندوستان کے لئے سیکولراز م کی اہمیت کے بڑے داعی تھے۔ وزیر اعظم نہرو کی خدمات اور ان کے کارناموں کو دبانے کی کوشش آر ایس ایس کے فلسفے اور ماضی کے سبب ہے کیونکہ اس تنظیم نے ہندوستان کی آزادی میں کوئی کردار ادانہیں کیا۔

ہندوستانی سماج میں ہندوتوا کے نظریات پر ماضی کو نافذ کرنے کا نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ عملی تاریخ اور ماضی کے اس پہلو کے درمیان تفریق بڑھ رہی ہے جو ہندو اکثریت کے تصورات پر مبنی  ہے۔ موخر الذکر کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے، مالی وسائل دستیاب ہیں اور اسے مختلف ذرائع استعمال کرکے شہرت دی جارہی ہے۔ تاریخی حقائق کو جھٹلانے کی اس باقاعدہ مہم کے دوران  ہندوتوا کےنظریات کے ناقدین کو ملک بھر میں وطن دشمن  بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔

مترجم:شوذب عسکری، بشکریہ:نیویارک ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...