مرزا غالب: ایک بے مثال نثر نگار

334

مرزا غالب کا شمار ان معدودے چند شان دار ادبی شخصیات میں ہوتا ہے جن کی ادبی اور ذاتی شخصیت کو بیک وقت خاص و عام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ اپنی ادبی شخصیت میں جیسے پُربہار ہیں اپنی ذاتی شخصیت میں بھی ویسی ہی رنگینی اور جاذبیت رکھتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آپ کی نثر اور شاعری کے حوالے میں بھی ہے۔ شاعری میں غالب کا جو مقام و مرتبہ ہے، وہ اظہر من الشمس ہے۔ لیکن نثر میں بھی آپ کی حیثیت کسی طور کم نہیں ہے۔ اردو میں نثر کے فروغ میں آپ کو وہی درجہ حاصل ہے جو سرسید کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ سرسید کو جدید اردو نثر کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ غالب ہی وہ شخص تھے جنھوں نے جدید نثر کے بنیادی خدوخال اپنے خطوط میں واضح کیے۔ انھوں نے اپنے خطوط کو محض خطوط ہی نہیں رہنے دیا، اردو نثر میں تجربات اور جدید نثر کی بنیاد گزاری کا ایک وسیلہ بنادیا۔ سرسید نے انہیں کے قائم کردہ خطوط پر کام جاری رکھا اور نثر کے قافلے کو آگے بڑھایا۔ غالب کے خطوط دو مجموعوں میں عُود ہندی اور اردُوئے معلی کے عنوانات سے شائع ہوئے۔

ان خطوط میں شعوری طورپر آپ نے اپنی نثر کی ایک واضح اور ٹھوس عمارت کی بنیادیں رکھیں اور پھر ان بنیادوں پر عمارت استوار کی۔ یا اس عمار ت کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا۔ جب کہ اس عمارت کی تعمیر اور تزئین و آرائش کے لیے آپ نے مختلف اردو ادب ہی سے نہیں فارسی ادب کی اصناف سے بھی تفصیلی استفادے کیے۔

آپ کے دور میں جو نثر لکھی جاتی تھی، اس میں الفاظ اور محاوروں کی شان و شکوہ پر خاص زور دیا جاتا تھا اور اسے مسجع اور مقفع بنانے کی شعوری کوشش کی جاتی تھی۔ نیز وہ درباری زبان کے قریب تر تھی۔ نثر میں بھی قافیہ پیمائی کی جاتی تھی۔ اور نہایت پرتکلف پیرایہ اظہار استعمال کیا جاتا تھا۔ کسی کی علمیت اور زبان دانی کی مثال قائم ہوتی تھی اگر وہ مشکل پیرایے میں اظہار مدعا کرنے کا فن جانتا ہو، اور نثر کو شعریت سے سجائے اور اس میں قافیہ پیمائی کرے، کہ وہ سنور جائے۔ غالب نے اپنی دوربین نگاہ سے صاف دیکھ لیا کہ یہ اس نثر کا زمانہ اب لد چکا ہے اور نئے دور کی نثر اس سے بہت مختلف ہوگی۔ آپ نے اس نثر کے اجزائے ترکیبی کو شناخت کیا اور ان کی نشان دہی کی۔ آپ نے آئندہ آنے والوں کے لیے نثر میں اصول اور نمونے وضع کردیے۔ جب آپ یہ مبادیات قائم کر رہے تھے، تو اس وقت آپ کے سامنے اردو میں تو ایسی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ فارسی کی مثال سے البتہ آپ کماحقہ آگاہ ہوں گے۔ اسی سے اخذ و استفادہ کیا گیا۔

قدیم پرتکلف نثر کے بجائے مرزا غالب نے سادہ اور عام محاورہ پر مبنی نثر کے استعمال کو اپنے خطوط میں برتا۔ انداز ایسا کہ جیسا عام بول چال میں برتا جاتا ہے۔ اور رنگ بھی نہایت بے تکلفانہ۔ انشاء پردازی ہے لیکن اس کی صورت غالب کی بنائی ہوئی ہے۔ مثلاً 3 جنوری 1867 کو لکھے گئے اپنے ایک خط کا آغاز یوں کرتے ہیں،”منشی صاحب، وہی جہان، وہی زمین، وہی آسمان، وہی صورت بمبئی، وہی دلی، وہی نواب میر غلام بابا خاں، وہی سیف الحق سیاح، وہی غالب نیم جان۔ انگریزی ڈاک جاری، ہرکاروں کو ریل کی سواری۔“

آپ اس مکالمے سے یوں لطف اٹھاتے ہیں جیسے کسی تھیئٹر میں بیٹھے ناٹک دیکھ رہے ہوں، یا دو لوگ آپ کے سامنے بیٹھے بات چیت کر رہے ہوں

اور 3 نومبر 1858 کو مرزا تفتہ کے نام ایک خط کا آغاز یوں کرتے ہیں، ”کیوں صاحب، کیا یہ آئین جاری ہوا ہے کہ سکندر آباد کے رہنے والے دلی کے خاک نشینوں کو خط نہ لکھیں؟ بھلا اگر یہ حکم ہوا ہوتا تو یہاں بھی تو اشتہار ہوجاتا کہ زنہار کوئی خط سکندر آباد کو یہاں کی ڈاک میں نہ جائے۔“

خطوط میں مکالمے کے انداز کے لیے آپ نے ڈرامے کی صنف سے جو اس دور میں بہت عروج پر تھی، استفادہ کیا اور اسی طرح سے بات چیت کرنے کا انداز اپنایا جس سے یوں احساس ہوتا ہے کہ جس سے وہ خطاب کر رہے ہیں، وہ سامنے ہی بیٹھا ہے، اور انھیں براہ راست سن رہا ہے۔ خط کیا ہیں بے تکلفی اور خلوص کے نامے ہیں، جن سے محبت چھلکتی ہے۔ جن کو خط لکھے جاتے تھے، انھیں تو یہ تحریریں پڑھ کر بالمشافہ ملاقات کے برابر ہی لطف ملتا ہوگا۔ یہ اقتباس دیکھئے جون 1861 میں میرن صاحب کو ایک خط یوں لکھتے ہیں:

”حضرت، آداب“

”کہو صاحب، آج اجازت ہے میری مہدی کے حط کا جواب لکھنے کی؟“

”حضور میں کیا منع کیا کرتا ہوں۔ میں نے تو یہ عرض کیا تھا کہ اب وہ تندرست ہوگئے ہیں۔ بخار جاتا رہا ہے۔ صرف پیچش باقی ہے، وہ بھی رفع ہوجائے گی۔ میں اپنے ہر خط میں آ کی طرف سے دعا لکھ دیتا ہوں، آپ پھر کیوں تکلیف کریں۔“

”نہیں، میرن صاحب۔ اس کے خط کو آئے ہوئے بہت دن ہوئے ہیں۔ وہ خفا ہوا ہوگا۔ جواب لکھنا ضرور ہے۔“

”بھائی آخر کوئی وجہ تو بتاؤ کہ تم مجھے خط لکھنے سے کیوں باز رکھتے ہو۔؟؟

”سبجان اللہ۔ اے لو حضرت۔ آپ تو خط نہیں لکھتے اور مجھے فرماتے ہیں کہ تو باز رکھتا ہے۔“

”اچھا تم باز نہیں رکھتے مگر یہ تو کہو کہ تم کیوں نہیں چاہتے کہ میں میر مہدی کو خط لکھوں؟“

”کیا عرض کروں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب آپ کا خط جاتا اور وہ پڑھا جاتا تو میں سنتا اور حظ اٹھاتا۔ اب جو میں وہاں نہیں ہوں تو نہیں چاہتا کہ تمھارا خط جاوے۔ میں اب پنجشنبہ کو روانہ ہوتا ہوں۔ میری روانگی کے تین دن کے بعد آپ خط شوق سے لکھیے گا۔“

غرض کہ سارا خط اسی انداز میں آگے بڑھتا ہے اور آپ اس مکالمے سے یوں لطف اٹھاتے ہیں جیسے کسی تھیئٹر میں بیٹھے ناٹک دیکھ رہے ہوں، یا دو لوگ آپ کے سامنے بیٹھے بات چیت کر رہے ہوں۔

یہ انداز بے تکلفی کا خطوں میں یوں ہے کہ آپ خود کو ان میں شامل ایک کردار محسوس کرتے ہیں جیسے غالب آپ سے بھی مخاطب ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان خطوط کو لکھتے ہوئے جسے خط لکھا جا رہا تھا، اس کے علاوہ ایک قاری بھی مرزا غالب کے پیش نظر ہوتا تھا۔ آپ کو اس بات کا واضح احساس تھا کہ آپ کے خطوط مستقبل میں نثر کے نمونوں کے طور پر پڑھے جائیں گے اور یہ کہ یہ محض خطوط نہیں ہیں، ادب پارے ہیں۔ اسی لیے شاعری ہی کی طرح انھوں نے ان کی ساخت و پرداخت میں دلچسپی لی۔

میرن صاحب ہی کو لکھے گئے خط میں انشاپردازی کا یہ نمونہ قابل ذکر ہے، ملاحظہ فرمائیے۔

”آؤ میاں سید زادہ آزادہ، دلی کے عاشق دال دادہ۔ ڈھے ہوئے اردو بازار کے رہنے والے، حسد سے لکھنؤ کو برا کہنے والے، نہ دل میں مہر و آزرم، نہ آنکھ میں حیا و شرم، نظام الدین ممنوں، ہاں، ذوق کہاں، مومن خاں کہاں۔ ایک آزردہ سو خاموش، دوسرا غالب، وہ بے خود و مدہوش، نہ سخن وری رہی، نہ سخن دانی، کس برتے پر تتا پانی، ہائے دی، وائے دلی، بھاڑمیں جائے دلی۔“

کہیں منظر نگاری کے جوہر دکھائے ہیں، کہیں کردار کا سراپا کھینچا ہے اور کہیں کوئی جذبے اور کیفیت بیان کی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک نثر نگار ہی نہیں ماہر فکشن نگار ہے، کوئی داستان گو ہے کہ جو لفظوں سے جادو جگا رہا ہے۔ مثلاً جون 1861 میں لکھے گئے ایک خط میں یہ پیراگراف ایک منظرنامے کو بیان کرنے کے لیے لکھا گیا، ملاحظہ کیجئے۔

”یاد کرو، مرزا گوہر کے باغیچے کے اس جانب کو کئی بانس نشیب تھا، اب وہ باغیچہ صحن کے برابر ہوگیا۔ یہاں تک کہ راج گھاٹ کا دروازہ بند ہوگیا۔ صفیل کے کنگورے کھلے رہے ہیں، باقی سب اٹ گیا۔ کشمیری دروازہ کا حال تم دیکھ گئے ہو، اب آہنی سڑک کے واسطے کلکتہ دروازہ سے کابلی دروازہ تک میدان ہوگیا۔ پنجابی کٹرہ، دھوبی کٹرہ، رام جی داس کاگنج، سعادت خاں کا کٹرہ، جرنیل کی بی بی کی حویلی، رام جی داس گودام والے کے مکانات، صاحب رام کا باغ، حویلی، ان میں سے کسی کا پتا نہیں ملتا۔ قصہ مختصر شہر صحرا ہوگیا تھا، اب جو کنویں جاتے رہے اور پانی گوہر نایاب ہوگیا تو یہ صحرا صحرائے کربلا ہوجائے گا۔ اللہ اللہ دلی نہ رہی اور دلی والے اب تک یہاں کی زبان کو اچھا کہے جاتے ہیں۔ وارہ رے حسن اعتقاد، ارے بندہ خدا، اردو بازار نہ رہا، اردو کہاں؟ دلی کہاں؟ واللہ اب شہر نہیں ہے، کنپ ہے، چھاؤنی ہے، نہ قلعہ، نہ چہر نہ بازر، نہ نہر۔“

26ستمبر 1862 کے ایک خط میں اپنے گھر کی خستگی کا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”برسات کا حال نہ پوچھو، خدا کا قہر ہے۔ قاسم خاں کی گلی سعادت خاں کی نہر ہے۔ میں جس مکان میں رہتا ہوں، عالم بیگ خاں کا کٹرہ کی طرف کا دروازہ گرگیا، سیڑھیاں گرا چاہتی ہیں۔ صبح کے بیٹھنے کا حجرہ جھک رہا ہے، چھتیں چھلنی ہوگئی ہیں، مینہ گھڑی بھر برسے تو چھت گھنٹہ بھر برسے۔ کتابیں قلم دان سب توشہ خانہ میں۔ فرش پر کہیں لگن رکھا ہوا، کہیں چلمچی دھری ہوئی، خط کہاں بیٹھ کر لکھوں؟“۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...