قبائلی اضلاع کی سیاسی تاریخ اور مستقبل کا منظرنامہ

152

سابقہ فاٹا اور موجودہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑنے قومی اسمبلی میں قبائلی پٹی کی نشتوں کی تعداد 16 سے بڑھا کر 24 کرنے کی قرارداد جمع کرائی تھی، جس کی حکومت اوراپوزیشن نے حمایت کی، اور اس کے ساتھ ہی 26 ویں آئینی ترمیم بھی کرلی گئی۔ الیکشن کمیشن نے 2 جولائی کو 16 نشتوں پر الیکشن کرانے کااعلان کررکھاہے۔ لیکن خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آئینی ترمیم کے بعد یہ الیکشن کچھ عرصہ کیلئے ملتوی ہوں گے کیونکہ اب زائد نشستوں کی حلقہ بندیوں کے لیے وقت درکار ہوگا۔ ان انتخابات سے خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں پہلی مرتبہ قبائلی عوام کونمائندگی مل جائے گی۔ جے یوآئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کوچھوڑ کر زیادہ تر سیاسی پارٹیاں قبائلی میں مکمل سیاسی اصلاحات، ان علاقوں کوصوبہ خیبرپختواکاانتظامی حصہ بنانے اور انہیں صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کے لیے کوشاں رہی ہیں۔

آئینی ترمیم کی رو سے فاٹا انضمام کے بعد صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداداب 145 ہوجائے گی۔ فاٹا کی پختونخوا اسمبلی میں 16 جنرل، چار خواتین کی نشستیں اور ایک اقلیتی نشست ہوگی۔ اس طرح کل 21 سیٹوں کا اضافہ ہوگا۔ اگرچہ قومی اسمبلی کی نشستوں کی  موجودہ تعداد کو برقرار رکھا گیا ہے لیکن پانچ سال بعدان کی تعداد 6 کردی جائے گی جبکہ سینٹ میں فاٹا کی خصوصی نمائندگی ختم ہوجائے گی۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے۔10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق باجوڑ کو 3 حلقوں پی کے 100، 101 اور 102، مہمند ایجنسی کو 2 حلقوں پی کے 103 اور 104 ،جبکہ خیبرایجنسی کو 3 صوبائی حلقوں پی کے 105، 106 اور 107 میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فہرست کے مطابق خیبرپختونخوا میں ضم ضلع اورکزئی پی کے 110 پر مشتمل ہوگا۔ جنوبی وزیرستان کے حلقے پی کے 111 اور 112 ہوں گے، اورشمالی وزیرستان پی کے 113 اور 114 پر مشتمل ہوگا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کا حلقہ پی کے 115 نیم قبائلی علاقوں پر مشتمل ہوگا۔ اگرقومی اسمبلی سے 24 حلقوں کیلئے قانون سازی ہوتی ہے تو پھر حلقہ بندیوں میں تبدیلی کی جائے گی۔

اگرسابق فاٹا کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حیرت انگیزطورپرصوبہ خیبرپختوا سے کسی حدتک مماثلت رکھتی ہے۔ دونوں کو ایک عرصہ تک سیاسی اصلاحات اور عوامی نمائندوں کے انتخاب کے حق سے محروم رکھا گیا۔ موجودہ خیبرپختونخوا کے زیادہ ترعلاقوں اور اس کے مرکزی حصہ وادی پشاور کوبرطانوی ہند نے سکھوں سے 1840 کی دہائی میں چھین کر اس پر قبضہ کیاتھا۔ فاٹا اور مالاکنڈ کسی نہ کسی طرح سکھوں کےعمل دخل سے محفوظ رہے۔ 1900 تک پشتون پٹی کے اکثریتی علاقے کوپنجاب سے کنٹرول کیا جاتا رہا۔  1895 سے شروع ہونے والی بغاوتوں نے برطانوی ہند کوشمال مغربی سرحدی صوبہ بنانے پر مجبور کیا جوابتدا میں انتظامی طورپر 4 اضلاع (پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، بنوں اورڈیرہ اسمعیل خان) اورمالاکنڈ، خیبر، کرم، شمالی اورجنوبی وزیرستان کی ایجنسیوں پر مشتمل تھا۔ لیکن ہندوستان کے دیگر حصوں کی طرح یہاں اصلاحات نہیں کی گئیں۔ فاٹا شروع ہی انگریز سرکار کے لیےایک بفرزون رہا۔ اس نے پشتون قبائلی پٹی کو پولیٹکل ایجنٹ اورمقامی ملکان کے ذریعے سے ایک نیم خودمختارنظام کے طورپہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ کوششیں ہمیشہ چیلنج ہوتی رہیں۔ فاٹا تودرکنار، انگریزسرکار صوبہ سرحد میں بھی سیاسی اصلاحات سے ڈرتی تھی۔ ہندوستان کے دیگر صوبوں کے برعکس اس سرزمینِ بے آئین کو اصلاحات سے محروم رکھاگیا۔ جس پر کانگریس اورمسلم لیگ دونوں نے آوازیں بلند کیں۔

شمالی وزیرستان اور کسی حد تک جنوبی وزیرستان میں پشتون تحفظ مومنٹ کا اثر و رسوخ غیرمعمولی  ہے اور اس تحریک میں سرگرم افراد کے یہاں سے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں

ماضی میں یہاں بڑے نوابین اورخوانین کوغیرمنتخب اداروں میں جگہ دی گئی مگرچھوٹے خوانین کو نظرانداز کیا گیا۔ اس سے مزارعین اور چھوٹے کسان متأئر ہوئے۔ ان حالات میں برطانوی ہند کے خلاف کسانوں کی بغاوتوں نے اصلاح پسند چھوٹے خوانین کے لیے سیاسی جدوجہد کی راہیں ہموارکیں۔ یوں خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد پڑی۔ بڑی قربانیوں کے بعد 1933 میں جاکر صوبہ سرحد میں سیاسی اصلاحات کی راہ ہموارہوئی۔ لیکن تب بھی فاٹا کو ان سے محروم رکھتے ہوئے وہاں پرانا نظام برقرار رکھا گیا۔ اس نظام کوبعدازاں حکومت پاکستان نے تقسیم ہند کے بعد بھی جاری رکھا۔ قانون کی رو سے 1996 تک صرف ملک ہی ووٹ دینے کا حقدار تھے۔ سیاسی پارٹیوں کو 2011 میں اس علاقے میں آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ لیکن فوجی آپریشنوں کی وجہ سے اس پر پوری طرح عمل نہ ہوسکا۔

1988کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی سطح پر سیاست کے روایتی طورپر 3 مراکزرہے ہیں۔ سب سے اہم صدر مقام پشاور اور اس کے اردگرد کے اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن ہیں۔ دوسرا مرکزہزارہ ڈویژن ہے، اورتیسرا جنوبی اضلاع پرمشتمل خطہ ہے۔ پشاور، بنوں اور کوہاٹ تک کے علاقوں پرروایتی طورپر قوم پرست تحریک، پیپلزپارٹی کا اثر زیادہ رہاہے۔ مالاکنڈ ڈویژن میں تقسیم سے پہلے اور بعدازاں 1970 تک، اور فاٹا میں ابھی تک قوم پرست سیاسی پارٹیوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔ یہاں کے سیاسی رجحانات کی بات کریں تو مالاکنڈ میں سوات کی سیاسی صورتحال ہوا کے رخ کے تابع ہے۔ یعنی سوات میں یک طرفہ رحجان زیادہ غالب رہتاہے۔ جبکہ بونیر اور دیر میں نظریاتی اور گروہی تقسیم زیادہ اثررکھتی ہے۔ باجوڑ میں ملاجلا رحجان پایا جاتا ہے۔ مالاکنڈ خاص کر دیر اور سوات کے زیریں حصے کسان تحریکوں اورپیپلزپارٹی کے زیادہ زیراثررہے ہیں۔ لیکن اب یہاں بھی ترقی پسند سیاست کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ یہ علاقہ پاٹا کا حصہ رہا ہے۔ ہزارہ میں مسلم لیگ اور بااثر شخصیات مضبوط رہی ہیں۔ جنوبی اضلاع میں جمعیت علمائے اسلام نے 1970 کے بعد سے اپنی حیثیت منوائے رکھی ہے۔ اے این پی خیبرایجنسی میں 1980کی دہائی سے اثر رکھتی ہے۔ اب وہاں سے قومی اسمبلی کے سابق رکن اور سرمایہ دارشاہ جی گل آفریدی بھی اے این پی میں شامل ہوگئے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ نگار ضیاءالرحمن نے سابق فاٹا کے حالیہ کے دورے کے بعد بتایا کہ شمالی وزیرستان اور کسی حدتک جنوبی وزیرستان میں پشتون تحفظ مومنٹ کا اثرورسوخ غیرمعمولی  ہے اور اس تحریک میں سرگرم افراد کے یہاں سے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان کا مقابلہ یہاں جمعیت علمائے اسلام کے نمائندوں سے ہوگا۔ جبکہ باجوڑ، مہمند اور خیبر میں پی ٹی آئی کو سبقت حاصل ہوسکتی ہے۔ کرم اور اورکزئی میں پی ٹی آئی، جے یوآئی، اے این پی اور پیپلزپارٹی کا ملا جلا ووٹ بنک ہے۔ باجوڑمیں جماعت اسلامی کابھی اثرہے۔ عمران خان سابق فاٹا کے اضلاع کے مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ سالانہ 46 بلین بجٹ اس علاقہ کے لیے مختص کیے گیے ہیں۔ یوں حکومت اپنے اثرکوبڑھانے کے لیے جدوجہد کرتی نظرآتی ہے۔ دیکھیے انتخابات میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سیاست کے روایتی رجحانات اس سے متأثر ہوں اور حکومت کو نئے چیلنجز کا سامنا بھی کر نا پڑجائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...