پولیس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ عوام میں اشتعال کو ہوا دے رہا ہے

99

حال ہی میں دو معصوم بچیوں کے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے دردناک واقعات کو اگرچہ معاشرے کے مجموعی اخلاقی زوال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے لیکن فی الحقیقت ان انسانیت سوز جرائم کے ڈانڈے ہمارے قانونی نظام کی زبوں حالی سے جا ملتے ہیں، اب تو بڑھتے ہوئے سماجی جرائم کے خلاف پولیس کا کمزور ردعمل ایسے اشتعال انگیز عوامی ردعمل کا محرک بن رہا ہے جو بالآخر باغیانہ جذبات کو ہوا دیکر ریاست کی آئینی بنیادوں کو کمزور کر دے گا۔

15 مئی کو پہلا واقعہ وفاقی دارلحکومت کے مضافاتی علاقہ چک شہزاد میں پیش آیا جہاں مہمند ایجنسی کے غریب خاندان کی دس سالہ بچی فرشتہ کو کسی سفاک شخص نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا، دوسرا کیس 20 مئی کو ضلع بونیر کے گاوں ایلئی مشوانی میں رونما ہوا جس میں انیس سالہ صنم علی الصبح مدرسہ کے لیے گھر سے نکلی لیکن دوپہر کو قریبی جنگل سے اسکی مسخ شدہ نعش ملی۔ملک بھر میں عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتیوں میں روزافزوں اضافہ فوجداری نظام کی شکست و ریخت کا غماض ہے، کیونکہ کریمنل جسٹس سسٹم کی ابتداء ایف آئی آر کے درست اندراج اورمقدمہ کا انجام تفتیشی افسر کی صلاحیتوں سے معلق رہتا ہے، اسی لئے پولیس کی غفلت و نااہلی ہی فوجداری نظام انصاف کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا سبب بنتی ہے، چنانچہ جزاو سزا کے اسی قانونی عمل کی ناکامی کے بعد ہی یہاں انسانیت کے خلاف ہولناک جرائم کا سیلاب امڈ آیا۔

بچوں کے حقوق پہ کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ”ساحل“ کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سنہ دوہزارسترہ کی نسبت دوہزار اٹھارہ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں گیارہ فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ ساحل کی رپوٹ میں بتایا گیا ”جنوری سے دسمبر دوہزارسترہ تک چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر بچوں سے زیادتی کے 3445 مقدمات رپوٹ ہوئے لیکن گیارہ فیصد اضافہ کے ساتھ سنہ دوہزار اٹھارہ میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 3832  کیس ریکارڈ پہ لائے گئے۔ تاہم ریلیز کردہ رپوٹ میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے ان واقعات کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں ہماری سماجی اقدار کے پیش نظر پولیس ریکارڈ پہ نہیں لایا جاتا۔ ساحل رپوٹ کے آخری تجزیہ میں بتایا گیا کہ پاکستانی معاشرہ میں ہر سال بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مجموئی طور پہ 33 فیصد اضافہ ہو رہاہے۔ عموماً پانچ سے لیکر اٹھارہ سال کی لڑکیاں اورچھ سے پندرہ سال کے لڑکے جنسی درندوں کا آسان ہدف بنتے ہیں“۔

ہولناک جرائم صرف بچوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وسیع پیمانہ پہ قانون سازی اور کرائم فائٹنگ فورس کو غیرمعمولی مرعات اور لامحدود اختیارات تفویض کرنے کے باوجود عورتوں کے خلاف جنسی تشدد،اغواء برائے تاوان، ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنلگ کے علاوہ پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں  ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملا۔اگر پوری مراعات لینے کے باوجود  بھی متعلقہ ادارے شہریوں کے جان و مال اور آبروکے تحفظ کی ذمہ داری نہ نباہ سکے تو ریاست بہت جلد شہریوں کا اعتماد کھو بیٹھے گی۔

قانون کی جبریت کا انداز دیکھئے کہ عام سائلین کو تو چھوڑیں، اب تو اس قسم کے معاملات میں ڈپٹی کمشنر کی مداخلت کو بھی پولیس آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے

رائٹ ٹو سروسزز کمشن خیبر پختون خوا کے چیف کمشنر مشتاق جدون کہتے ہیں ”سرکاری ادارے صرف ہائی پروفائل مقدمات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پہ کاروائی کرتے ہیں۔ اگر سیاسی مدد اور میڈیا کی توجہ نہ ملے تو سنگین ترین کیس کو معمول کے مقدمہ جتنی اہمیت بھی نہیں ملتی کیونکہ اب ادارے صرف اس وقت متحرک ہوتے ہیں، جب عدالت عالیہ، وزیراعظم یا وزیراعلی کیس کا نوٹس لیں۔ افسوس کہ جن مقدمات کو میڈیا پہ اچھالا جاتا ہے وہ بھی کچھ دن بعد خاموشی کی دبیزدھند میں ڈوب جاتے ہیں۔ مانسہرہ اور حویلیاں میں زیادہ کے بعد قتل کیسیز کا کیا بنا؟ پچھلے دسمبر میں مانسہرہ میں ایک نابالغ افغان بچی کو زیادتی کے بعد جوہڑ میں پھینک دیا گیا لیکن عوامی ردعمل اور میڈیا کا دباؤنہ ہونے کے باعث کیس پہ معمولی پیش رفت بھی نہ ہو سکی۔ اکثر مقدمات میں تو پولیس عوامی دباؤ کو کم کرنے کی خاطر بے گناہوں کو پکڑ لیتی ہے، جنہیں بعد میں ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث عدالتیں بری کر دیتی ہیں (جیسے ہری پور میں 15 سالہ عبداللہ کے قتل کیس میں ہوا)۔ سماج کی ریاستی اداروں سے وابستہ امیدیں ٹوٹ رہی ہیں، بدقسمتی سے ہم ہر روز اسی قسم کے مقدمات سے جڑی بریکنگ نیوز کے ساتھ زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں لیکن ان میں سے بہت کم ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی منطقی انجام دیکھ پاتے ہیں“۔

کوئی بھی زندہ ضمیر شخص جس میں رتی برابر شرف آدمیت موجود ہو گا وہ دس سالہ فرشتہ کا درد کئی دہائیوں تک اپنی روح میں محسوس کرتا رہے گا۔ ذرا تصور کریں اس باپ کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی اور اس خاندان کا اجتماعی دکھ کیسا عمیق ہو گا، جنہوں نے ناگہاں اپنی عزیزترین متاع کھو دی ہو، لیکن جب وہ فریاد لے کر تھانہ پہنچیں تو محافظ انہیں زبردستی پولیس اسٹیشن کی صفائی پہ لگا دیں۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس جواب دہی کے ہر احساس سے عاری ایک ایسی مطلق العنان فورس بن چکی ہے جو لامحدود اختیارات اور غیر معمولی مراعات وصول کرنا تو اپنا حق سمجھتی ہے لیکن فرض کی ادائیگی کے تصور سے ناواقف ہے۔ قانون کی جبریت کا انداز دیکھئے کہ عام سائلین کو تو چھوڑیں، اب تو اس قسم کے معاملات میں ڈپٹی کمشنر کی مداخلت کو بھی پولیس آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اسلام آباد میں یہ آرڈیننس لاگو نہیں تھا اس لیے  یہ ممکن ہوا کہ انتظامیہ نے آگے بڑھ کے مظلوموں کی اشک شوئی کر کے ریاست کے خلاف نفرت اور غصہ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، ورنہ پورے ملک میں تو سماج کو بھڑکانے والے اس قسم کے واقعات میں میئر،ناظم،ممبران اسمبلی یا ڈپٹی کمشنر پولیس سے بات تک نہیں کر سکتا۔

سماجی جرائم سے قطع نظر کراچی میں نقیب اللہ محسود، انتظار حسین، ڈاو میڈیکل کالج کی طالبہ نمرہ اور دس سالہ ایمل عمر کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت جیسے کئی دلخراش سانحات نے ریاست کے خلاف نفرتوں کے بیج بوئے۔ ساہیوال میں سی ٹی ڈی پولیس کی فائرنگ سے چار بیگناہوں کا قتل اورلاہور میں مبینہ مقابلہ میں ڈالفن فورس کے ہاتھوں نوجوان کی دردناک موت نے بائیس کروڑ لوگوں کو تڑپا کے رکھ دیا لیکن سماج کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے چاروں صوبوں کے پولیس افسران پھر اکھٹے ہو کر پولیس کو سیاسی مداخلت(جواب دہی کے ہر عمل) سے آزاد بلکہ خود مختیار ادارہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس قسم کے سانحات میں پولیس کے خلاف انکوائریز کا نتیجہ بھی سب کو معلوم ہے، آخرکار محرر سطح کے کسی اہلکار کو تنخواہ میں ایک یا دو سالانہ اضافوں سے محروم کر کے معاملہ کو نمٹا دیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے پچھلے دور حکومت کے آغاز میں اس وقت کے آئی جی پی نے خفیہ پیغام کے ذریعے تمام اضلاع کے ڈی پی اوز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنے ضلع میں ”بدعنوانی“ میں ملوث ستّر سے اسّی پولیس کانسٹیبلز، تیس سے چالیس ہیڈکانسٹیبلز اور دس سے بارہ اے ایس آئیز اور ایس آئیز کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائریز شروع کرائیں تاکہ کمانڈ، حکومت اور عوام کو یہ تاثر دے سکے کہ پولیس سے تمام بُرے لوگوں کو نکال دیا گیا۔ اس تراشیدہ مہم کے دوران مجموعی طور پہ جن چھ ہزار اہلکاروں کو برخواستگی، تنزلی اور معطلی کی”سزائیں“دی گئیں ان میں سے 99 فیصد دوبارہ اپنی ملازمتوں پہ بحال ہو چکے ہیں، کیونکہ یہ مصنوعی مہم پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں بلکہ حقیقی احتساب سے بچنے کی طویل المدت منصوبہ بندی تھی، پولیس کا یہی طرز عمل سماج کے اندر ریاست کے خلاف نفرت و عداوت کی زہریلی فصل کاشت کررہاہے، اگر سویلین فورس کو قانونی جوابدہی کے موثر نظام کے اندر نہ لایا گیا تو بہت جلد معاشرہ بکھر جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...