نیکی اور پاکستان میں بڑھتی غربت

91

قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ”تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ اس سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے”۔ اللہ تعالیٰ نے ”پسند و محبوب” کی شرط لگا کر ہمیں یہ بات سمجھا دی ہے کہ اعلیٰ مقاصد کے حصول اور آخرت میں جنت اور رضائے الٰہی پانے کے لیے ہر وہ خرچ کرنا پڑے گا جسے خرچ کرنے کے لیے تمہیں تمہارا نفس روکے اور تمہاری عقل تمہیں ضرب و تفریق کی فکر میں ڈال دے۔ قرآن مجید نے مال کمانے کی ممانعت نہیں کی، بلکہ مال جمع کرنے کو ناپسند فرمایا۔ قرآن مجید اخلاقی خرابیوں کے پیدا ہونے کی وجہ مال کا جمع کرنا قراردیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ذات الٰہی اور یوم آخرت پہ بھی ایمان نہیں رہتا۔

اسلام اپنے ماننے والوں کے گھروں، معاشروں اور خاندانوں میں “انفاق” کا کلچر پیدا کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ سب سے زیادہ تاکید خرچ کرنے کی کرتا ہے۔ فقط تاکید نہیں بلکہ اس کی تفصیل بھی بیان کر تا ہے۔ صدقہ و خیرات، زکوٰةو فطرانہ وغیرہ۔ جن پہ خرچ کرنا ہے ان کی تفصیل بھی بیان کر دی ہے۔ رشتہ دار، یتامیٰ، مساکین، مسافر، سائل، قیدی، غلام ،مقروض اور فقراء۔ اس تفصیل کا مقصد یہ نہیں ہے معاشرے پہ غربت کا راج رہے اور امراء کا طبقہ سالانہ زکوٰة دے۔ مندرجہ بالا افراد میں چند سکے تقسیم کرتے رہیں بلکہ ریاست و معاشرہ کو مل کر غربت و افلاس کے خاتمے کے لئے اپنے وسائل کے منہ کھول دینے چاہئیں۔ اپنی مرضی کے چند سکے خرچ کر دینے سے رب راضی نہیں ہوتا اور نہ جنت کا راستہ آسان ہوتا ہے۔ نیکی کو حاصل کرنے کے لئے بڑا کام کرنا ہوتا ہے اور بڑی قربانی دینی ہوتی ہے۔

اسلام اپنے ماننے والوں کے گھروں، معاشروں اور خاندانوں میں “انفاق” کا کلچر پیدا کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ سب سے زیادہ تاکید خرچ کرنے کی کرتا ہے

اگر معاشرے میں بھوک مفلسی دیکھ کر ہمیں دکھ نہیں ہوتا، ننگے غربت زدہ بچوں کی موجودگی میں ہم بیش قیمت لباس خریدتے ہیں۔ سڑکوں اور محلوں میں بھیک مانگتے لوگ دیکھ کر ہمیں کچھ فرق نہیں پڑتا توہمیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ اگر ہمیں اپنے ہمسائے کی خبر نہیں یا خبر ہے تو پرواہ نہیں ہے تو اِسے ایمان کی علامت نہیں ظلم کی علامت کہتے ہیں۔ کفر کے معاشرے قائم رہتے ہیں ظلم کے معاشرے مٹا دیے جاتے ہیں خواہ ان معاشروں میں بہت نمازیں ادا کی جارہی ہوں، روزے رکھے جا رہے ہوں اور حاجیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو۔ پاکستان میں بڑھتی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھی دی ہے۔ غربت و افلاس میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے۔ اخراجات کے مطابق آمدن نہ ہونے کے باعث تنخواہ دار طبقہ بہت مشکل میں ہے۔ وہ خاندان جو پانچ افراد پہ مشتمل ہے اس کا سربراہ مسائل، مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔

ہر سال خود کشی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سفید پوش طبقہ اپنی سفید پوشی کے بھرم کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے لیکن وہ اب سفید پوش نہیں رہا، غرباء و فقراء میں شامل ہو چکا ہے۔ ایسے مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی آگے بڑھنا چاہیے جن کے پاس مالی وسائل ہیں، جن کے اخراجات لاکھوں کروڑوں میں ہیں، جو پُر تعیش اور آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں چاہیے اپنے طرز زندگی کو سادہ بنائیں۔ دوسروں کا خیال رکھیں۔ اگر وہ اپنے ملازمین و وابستگان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیں کہ وہ بھی سہولت سے زندگی گزار سکیں، تو یہ بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ حکومت و ریاست کو ایسی معاشی پالیسی بنانی چاہیے کہ جن کے پاس حد درجہ وسائل ہیں، ان سے کسی پالیسی کے تحت وصول کر کے ملک کے غریب عوام کے معاشی مسائل کو حل کیا جائے۔ تعلیم ،صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

حکومت، ریاست اور مالدار افراد کو پاکستان کے موجودہ حالات پہ فکر مندی کے ساتھ کام کرنا چاہیے ورنہ یہ حالات ہمیں انتشار و افتراق کی طرف لے کر جا رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو غریب کا ہاتھ ہو اور امراء کے گریبان۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...