پشتون تحفظ تحریک کے مسئلہ میں پارلیمنٹ کی لاتعلقی نقصان دہ ہے

413

آج میرانشاہ میں دتہ خیل کے قریب سکیورٹی اہلکاروں اور پشتون تحفظ تحریک کے کارکنوں کے مابین جھڑپ ہوئی جس کے نتیجہ میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور بعض کو حراست میں لیاگیا ہے۔

فائرنگ کے ذمہ داروں کے حوالے سے متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ یہ اقدام کس کی جانب سے کیا گیا، یہ واقعہ تحریک کے قضیہ میں نیا موڑ ہے جس کے نتائج یقینا ناپسندیدہ ہوں گے۔ اس موقع پر پارلیمنٹ اور سیاسی عناصر کے کردار کی بہت زیادہ ضرورت ہے، جو اس مسئلہ کے شروع سے ہی غائب نظر آتا ہے۔ سینٹ اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے پی ٹی ایم سے مذاکرات کے لیے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک عملا کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

حکومت اور دیگر سیاسی جماعتیں اس مسئلہ کو ویسے نہیں دیکھتیں جس طرح کہ اسے عمومی طور پہ پیش کیا جاتا ہے. اور وہ اس کا پرامن حل چاہتی ہیں۔ سیاسی حلقوں کی طرف سے کسی نے بھی اب تک پشتون تحفظ تحریک پر تنقید نہیں کی اور نہ انہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔ حتی کہ حکومتی جماعت بھی یہ موقف نہیں رکھتی۔ جب سکیورٹی اداروں کی طرف سے تحریک کے خلاف قانونی کاروائی کا اعلان کیا گیا تھا تو اس سے اگلے روز وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے اعلان کردہ پالیسی کی سیاسی حکام کی جانب سے وضاحت کی جائے گی۔ لیکن ایسا ابھی تک نہیں ہو پایا اور پارلیمنٹ کا متفقہ موقف سامنے نہیں آسکا، حالانکہ یہ قضیہ معمولی نہیں تھا۔

پارلیمنٹ کے خود کو اس مسئلہ سے لاتعلق رکھنے کی وجہ سے اس کی شکل مختلف ہوگئی ہے۔ ملک کے اندر طبقات میں ایکدوسرے کے لیے نفرت اور تقسیم کے احساست مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ لہذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتیں ہمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اس مسئلہ کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...