ڈرامہ سیریل”مقاماتِ عشق”: خلیج میں وہابی اسلام سے صوفی اسلام کی طرف واپسی

140

رمضان میں عرب میڈیا پر جس چیز کی سب سے زیادہ بازگشت سنائی دیتی ہے وہ رمضان کے لیے تیار کیے گئے خصوصی ڈرامے ہیں۔ ہر سال رمضا ن سے قبل ہی مختلف چینلز اپنے تیار کردہ ڈراموں کی ایسی تشہیر کرتے ہیں کہ عرب ناظرین کے لیے بسا اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف چینلز پر چلنے والے ان ڈراموں میں سے  کون سا ڈرامہ پرائم  ٹائم میں دیکھا جائے اور  کسے نشر مکرر میں ملاحظہ کیا جائے۔

عرب دنیا میں ٹی وی پر ماضی کی طرح اس سال بھی رمضان میں متعدد نئے ڈرامے ٹیلی کاسٹ کیے جارہے ہیں جن کی تعداد ستر تک پہنچتی ہے۔ امارات ٹی وی سے نشر ہونے والے “مقامات عشق”، سی ایم بی سی کے “زلزال”، الجزائر کے ” مشاعر” اور لبنان کے “آخر اللیل” کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ  شہرت کی بلندیوں کو چھونے والا ترک ڈرامہ “ارطغرل” بھی عربی ڈبنگ کے ساتھ ٹاپ ریٹنگ پر جا رہا ہے۔ پاکستان میں یہ ڈرامہ “غازی” کے نام سے چینل ایچ- ناؤ (H- now) پر نشر کیا جا رہا ہے۔

مقامات عشق کو محمد البطوش نے تحریر کیا ہے، گذشتہ برس رمضان میں انہیں کے تحریر کردہ ڈرامے “سمرقند” نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑے تھے۔ معروف شامی اداکارہ نسرین طافش اس میں قصہ گو کا کردار ادا کر رہی ہیں اور سیریل کے شروع میں ابن عربی کے اشعار کی گائیکی بھی انہیں کی ہے جسے موسیقار طاہر ماملی نے کمپوز کیا ہے۔ اس سیریل میں عرب دنیا کی معروف صوفی بزرگ شیخ ابن عربی کی زندگی، ان کا فلسفہ اور تصوف پیش کیا گیا ہے، سلطان العارفین ابن عربی کو الشیخ الاکبر کے لقب سے یاد کیا جاتا  ہے۔ محمد البطوش نے تین سال تک الشیخ الاکبر ابن عربی کی تصانیف کا مطالعہ کر کے ان کی زندگی اور فلسفے پر “مقامات عشق” کے نام سے یہ سیریل تیار کیا ہے اور یہ ایسے وقت میں امارات ٹی وی سے ٹیلی کاسٹ کیا جا رہا ہے جب امارات میں سال 2019 کو رواداری کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس سیریل کا مقصد بھی عوام میں ابن عربی کے فلسفہ محبت و عشق کو پیش کر کے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

یہ ایسے وقت میں امارات ٹی وی سے ٹیلی کاسٹ کیا جا رہا ہے جب امارات میں سال 2019 کو رواداری کے سال کے طور پر منایا جا رہا ہے

اس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ عرب ممالک ایک عرصہ تک  وہابی اسلام کو فروغ دینے کے بعد اب اس سے دستبردار ہو رہے ہیں اور صوفی اسلام کی ترویج کے لیے ہر فورم استعمال کر رہے ہیں۔ سید قطب و مولانا مودودی جیسے مفکرین جنہیں ان کی دینی خدمات پر پہلے اسلامی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ سے نوازا گیا حال ہی میں رجعت قہقری اختیار کرتے ہوئے انہیں دہشتگرد قرار دے کر ان کی تصنیفات پر پابندیعائد کر دی گئی ہے۔ اور ان کی بجائے ابن عربی کے فلسفے کو فروغ دیا جا رہا ہے جنہیں عرب علما ایک مدت تک زندیق اور گمراہ قرار دیتے رہے۔ اس موقع پر مجھے اپنے چچا بزرگوار کاوہ قول بھی یاد آ رہا ہے جسے وہ اپنی عمر کا بیشتر حصہ خلیجی ملک میں گزارنے کے بعد اکثر و بیشتر دہراتے رہتے ہیں کہ: “عرب علماء کا اسلام ان کے حکمرانوں کے تابع ہے، حکمران ایک پالیسی طے کرتے ہیں اور پھر عرب علماء اس کو مذہب سے جوڑ کر اس کی پیروی کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہیں۔”

ایسا نہیں ہے کہ عرب میڈیا رمضان میں دینی پروگرام نشر نہیں کرتا، بلکہ اس باب میں بھی متعدد پروگرام ٹیلی کاسٹ کیے جاتے ہیں اور سب سے مقبول دینی پروگرام “المرتل” ہے جس میں قرآن کریم کو ترتیل سے پڑھنے کا مقابلہ ہوتا ہے اور دنیا بھر سے خوش الحانی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ المرتل کے ججوں میں معروف کویتی قاری شیخ مشاری العفاسی بھی شامل ہیں۔ اس پروگرام کے ناظرین کی تعداد کسی بھی مقبول ڈرامے سے کہیں بڑھ کر ہے جس سے عربوں کا قرآن مجید سے لگاؤ عیاں ہوتا ہے۔

عام زندگی میں بھی یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اہل عرب اپنے گھروں میں قرآن کریم کے ساتھ خاصا وقت گزارتے ہیں، یہاں بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے کے لیے مسجد یا مدرسہ کا اس طرح کا نظام نہیں ہے جیسا کہ ہمارے ہاں برصغیر میں پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ بچوں کے والدین انہیں ازخود دینی تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر دینی پروگرام بھی بڑے مقبول ہیں جن میں علماء کرام اور سکالرز قرآن، احادیث، سیرت اور دیگر واقعات کو آج کے سماج  پر منطبق کر کے ان کی عملی شکل بتاتے ہیں کہ ہمارے آج کے فلاں سماجی مسئلے کا آج کے دور کے مطابق شرعی حل کیا ہے؟ مثال کے طور پر ڈاکٹر عمرو خالد کے پروگرام ’’کنوز رمضانیہ‘‘ کا نام لیا جاسکتا ہے۔

بہرحال، عربوں کا رمضان میں ڈراموں کی طرف خصوصی رجحان بھی امر واقعہ ہے اور ناظرین پورا وقت اپنے محبوب ڈرامے کے ساتھ گزار تے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ ایسا روزہ گزارنے کے لیے کرتے ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب دنیا میں جس پائے کے ڈرامے رمضان میں نشر ہوتے ہیں سال بھر اس طرح کے ڈرامے کم ہی ملتے ہیں۔ رمضان میں ٹیلی کاسٹ ہونے والے ڈرامے عموما تاریخ اور مقصدیت کو اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں اور ہر ڈرامہ  سماج  کو ایک خاص رخ پر  ڈھالنے پر مرتکز ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ ڈرامے اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں لیکن ان کے اثر سے انکار ممکن نہیں۔

عرب دنیا کے ٹی وی چینلز اس بات پر داد کے مستحق ہیں کہ ان کے پروگرام ہماری طرح بے ہنگم نہیں ہوتے کہ کچھ پتا ہی نہ چل رہا ہو کہ ڈرامے کا مقصد کیا ہے؟ اور اگر کوئی مقصد ہے بھی تو اتنا معمولی یا سطحی کہ جو اس قدر سرمائے اور وقت کا بالکل بھی مستحق نہیں  ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا میڈیا بھی اس باب میں عرب میڈیا سے کچھ سیکھے۔ اگر اس پائے کے پروگرام خود نہیں تیار کر سکتا تو مذکورہ سیریل جیسے مفید پروگراموں کا ترجمہ کروا کر ان کی ڈبنگ  نشر کرے۔ ترجمہ اور ڈبنگ کے لیے اسلامی یونیورسٹی، گجرات یونیورسٹی اور نمل یونیورسٹی  کے ٹرانسلیشن ڈیپارٹمنٹ کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...