ڈاکٹروں کی ہڑتالیں اور حکومتی عملداری کا فقدان

83

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے کامیاب مذاکرات کے بعد پشاور سمیت صوبے کے دیگر سرکاری ہسپتالوں میں مامور ڈاکٹروں نے آٹھ روز سے جاری احتجاج ختم کرکے جمعرات کے روز سے دوبارہ کام کرنا شروع کردیا ہے۔ مذاکرات میں حکومت نے دو کمیٹیاں بھی  تشکیل دیں۔ پہلی کمیٹی ڈاکٹرز، خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ صحت کے لوگوں پر مشتمل ہوگی جو ڈسٹرک ہیلتھ اتھارٹی اور ریجنل ہیلتھ اٹھارتی میں اصلاحات کی جانچ کرے گی، جبکہ دوسری ڈپٹی کمشنر پشاور کی سربراہی میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کی تفتیش کر کے حقائق سامنے لائے گی۔ سات یوم تک جاری رہنے والی ڈاکٹروں کی ہڑتال میں ایک جانب حکومت کی بے بسی، انا اور ضد کا مظاہرہ ہوتا رہا تو دوسری طرف ڈاکٹروں کے بے حسی نے مریضوں کو تڑپایا۔

ڈاکٹروں کی جانب سے یہ بائیکاٹ اُس وقت شروع ہوا جب 14 مئی کو پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں حکومت کی جانب سے متوقع اصلاحات بارے  ہونے والے ایک اجلاس میں خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں اصلاحات مہم کے بانی  ڈاکٹر نوشیروان برکی پر کچھ ڈاکٹروں نے انڈے پھینکے اور بدمزگی پیدا کی۔ اس کے بعد  صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کے ذاتی محافظوں کے ہاتھوں ڈاکٹر ضیاء الدین آفریدی پر تشدد کیاگیا جس کا پولیس تھانے میں مقدمہ بھی درج ہوا۔ ردعمل میں ڈاکٹروں نے 15 مئی سے صوبے بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جو 22 مئی تک جاری رہا۔ ڈآکٹروں نے اس واقعہ کو اپنے مفادات کے لئے بھرپور استعمال کیا اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اصلاحا ت کے بانی ڈاکٹر نوشیروانی برکی کی برطرفی کا مطالبہ کردیا۔ حکومت کی جانب سے متعارف کی گئی اصلاحات ریشنلائزیشن اور ڈومیسائل پالیسی کے تحت صوبے میں تقریبا 2700  ڈاکٹروں کواپنے اپنے علاقوں میں تعینانات کرنا شامل تھا۔ چونکہ  ڈاکٹرصوبے کے دوردراز علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں اس لئے حکومت چاہتی ہے کہ ڈومیسائل کی بنیاد پر تعیناتی ہو تاکہ وہاں بھی صحت کی سہولیات کی دستیابی ممکن بنائی جاسکے۔

اگر چہ صوبائی حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ان ہڑتالوں سے صوبائی حکومت کی کمزوری اور بے بسی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اس کا رویہ بھی مناسب نہیں تھا۔ مفاہمت ومصالحت کی بجائے دھمکانے سے کام لیاگیا۔ احتجاج کے دوسرے روز صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہڑتالی ڈاکٹروں کو وارننگ دی کہ وہ ڈیوٹیوں پر آجائیں ور نہ ان کے خلاف  سخت ایکشن لیا جائے گا۔ پشاور کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت کئی دیگر ہسپتالوں میں پولیس کی بھاری نفری بکتربندگاڑیوں کے ساتھ تعینات کردی گئی۔ وزیراطلاعات کی  پریس کانفرنس کے بعد اگلے دن وزیر اعظم عمران خان  نے پشاور میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈزریزنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ڈاکٹر ہسپتالوں میں اصلاحات لانے کے خلاف ہیں جس کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں وہ یہ پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ حکومت ہسپتالوں کی نجکاری کرنا چاہتی ہے۔ میں ان ڈاکٹروں کو بتانا چاہتاہوں کہ وہ جو مرضی کرلیں ہم ہر حال میں ہسپتالوں میں اصلاحات لاکر رہیں گے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ڈاکٹرز اصلاحات مہم سے سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹ اور معائنہ فیسوں میں اضافے کو جواز بنا کر احتجاج کرتے ہیں تو دوسری جانب یہی ڈاکٹر مختلف ذرائع سے غریب عوام کو لوٹنے میں مصروف آتے ہیں

خیبر پختونخوا کے دوردراز علاقوں میں صحت کی سہولیات بہت کم ہیں جس کے باعث لوگ تشویش ناک حالت میں مریضوں کو پشاور لاتے  ہیں۔ اس کے علاوہ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑی تعداد کو معمولی بیماری کے علاج کے لیے بھی پشاور کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایک ناخوشگوار واقعہ کو بنیاد بناکر ڈاکٹروں نے ناجائز مطالبے کرڈالے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے مریضوں کو نہیں بخشا۔ صرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اوسط سات ہزار مریض روزانہ آتے ہیں۔ اگر ان کا علاج نہیں ہورہا ہوگا تو وہاں کیا عالم ہوگا؟

ان ریفامز میں ایسا کیا ہے جنہیں براشت نہیں کیاگیا؟ اصلاحات کے منصوبہ کے تحت ہر ضلع میں ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی کارکردگی دیکھنے کے لیے ڈسٹرک و ریجنل ہیلتھ اٹھارتی کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو ہسپتال کے دو ڈاکٹرز، ایک نرس اور علاقے کے دو معززین پر مشتمل ہوگی اور امورِصحت کی نگرانی کرے گی۔ جبکہ ہیلتھ منسٹر براہ راست اس کمیٹی کا انچارج ہوگا، جو کسی بھی ڈاکٹر کو برطرف کرسکتا ہے۔ ان اصلاحات کا اگرچہ ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے جسے ہدف تنفید بنایاگیا اس سے ہسپتال کسی حد تک نجی تحویل میں چلے جائیں گے۔ مفت اداویات کی فراہمی کم ہوجائے گی۔ جس کے پاس صحت کارڈ ہوگا وہ فائدے میں رہے گا۔ ٹیسٹس کی فیس بڑھ جائیں گی۔ لیکن حکومت کا خیال ہے کہ اس  طرح سرکاری ہسپتال پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرح بہتر کام شروع کردیں گے۔ ڈاکٹرز ڈیوٹی مکمل  کریں گے۔ دور افتادہ علاقے کے باسیوں کو بھی صحت کی سہولیات مل جائیں گی۔ اور پسماندہ علاقوں میں لیڈی ڈاکٹرز کی تعیناتی ممکن ہوجائے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی پچھلی صوبائی حکومت دوران  پورے صوبے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ تیسری قسم میں صوبے کے دوردراز ضلعوں کو شامل کیاگیاتھا جس کے تحت  وہاں کام کرنے والے ہر ڈاکٹر کو تنخواہ ایک لاکھ چالیس ہزار دی جائے گی۔ جبکہ حصہ  بی کے ڈاکٹروں کو ایک لاکھ  اور اے میں ذمہ داریاں ادا کرنے والے ڈاکٹرو ں کو اسّی ہزار یے جا رہے ہیں۔ میڈیکل آفیسر اور ڈینٹل سرجن کیلئے الاؤنس پندرہ ہزار سے بڑھا کر حصہ اے کے لیے 52000 ہزار تک، بی کے لیے 72000 ہزار اور سی کے لیے 92000 ہزار تک کردیا گیا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود ڈاکٹرز دور دراز علاقوں میں جانے کے لیے تیار نہیں ہیں اور شہروں میں کام کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ڈاکٹرز اصلاحات مہم سے سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹ اور معائنہ فیسوں میں اضافے کو جواز بنا کر احتجاج کرتے ہیں تو دوسری جانب یہی ڈاکٹر مختلف ذرائع سے غریب عوام کو لوٹنے میں مصروف آتے ہیں۔ کمیشن کی خاطر غیرمعیاری یا غیرضروری ادویات لکھ کر دی جاتی ہیں، ادویات ساز کمپنیوں سے تحائف اور کمیشن حاصل کر کے ان کی تشہیر کی جاتی ہے۔ نجی لیبارٹریوں کے ساتھ مبینہ طور پر مک مکا کرکے غریب عوام کو مخصوص لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کرانے کا پابند بھی بنایا جاتا ہے۔ اگر سرکاری ہستپالوں کی فیس بڑھنے پر واویلا کرنے کی بجائے ڈاکٹرز اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمیشن لینا چھوڑ دیں توعوام کی مشکلات میں کافی حد تک کمی واقع ہوجائے گی۔

فی الحال حکومت نے مذاکرات کے بعد اصلاحات مہم پر عملددرآمد روک دیا ہے۔ حکومت اگرسمجھتی ہے کہ یہ اقدامات ٹھیک ہیں تو ڈاکٹروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے تحفظات دور کرنے کے کوشش ضرورکرے لیکن دباؤ میں آکر ان کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے، کیونکہ اس سے عوام بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، اور صحت کے مسائل کبھی حل نہ ہوسکیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...