مشکل گھڑی آن پہنچی ہے

خلیق کیانی

فروری 2013 میں ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کے بطور وفاقی وزیرِ خزانہ استعفیٰ دینے سے چند روز قبل کسی صحافی نے ان کے دورِ وزارت کی کسی نمایاں کامیابی کی بابت ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواباً سوال کرتے ہوئے کہا ’’آپ نہیں سمجھتے کہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں پڑے کسی مریض کا خیال رکھنا بھی ایک بڑی کامیابی ہے؟‘‘ ان دنوں وہ اصلاحاتی  جنرل سیلز ٹیکس اور تباہ شدہ کارپوریٹ سیکٹر میں اصلاحات کی وجہ سے شدید  داخلی دباؤ کا سامنا کررہے تھے، اس لیے عالمی مالیاتی ادارےآئی ایم ایف کے ساتھ مزید تعاون جاری رکھنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود رازدارانہ طور پر انہوں نے ایک سال تک آئی ایم ایف کے ساتھ’ربط وتعاون‘ جاری رکھا تاکہ تجارتی منڈی کسی بھی ناگہانی صورتِ حال سے محفوظ رہے۔

باوجود اس کے کہ ان کے والد عبدل نبی شیخ پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں سے تھے، لیکن انہیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں باہر سے لایا گیا مہمان قرار دیا جاتا رہا۔تاہم وہ کئی نامور ماہرینِ معیشت پر مشتمل ایک عمدہ معاشی ٹیم بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر ندیم الحق، شاہد کاردار، عبد الماجد رانا، ڈاکٹر وقار مقصود اور سلمان صدیق شامل رہے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سات برس بعد ایک بار پھر خود انہی کے الفاظ میں انتہائی نگہداشت کےشعبے میں پڑے مریض کی دیکھ بھال کے لیے آچکے ہیں جبکہ اس وقت بھی مریض کی حالت بعینہ وہی ہے جو فروری 2013 میں تھی۔ اب جبکہ پاکستان آئی ایم ایف کا 22 واں بیل آؤٹ پیکج حاصل کر چکا ہے، پاکستان کو   اس وقت گذشتہ پانچ سالوں کی نسبت بلند ترین شرح مہنگائی اور گذشتہ 9 برسوں کی نسبت کم ترین شرح نمو کا سامنا ہے۔

عبد الحفیظ شیخ ایک بار پھر اپنی معاشی ٹیم بنانے کا آغاز کر چکے ہیں اور وہ اس وقت اپنے مشرف دور کے ساتھی کابینہ رکن جہانگیر ترین کے ساتھ مل کر مختلف ماہرینِ معاشیات سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ تاہم اس بارانہوں نے اپنی گذشتہ ٹیم کے کسی دوست سے رابطہ نہیں کیا ماسوائے عبد الماجد رانا کے جو ممکنہ طور پر آئندہ کچھ دنوں میں پلاننگ کمیشن کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر رضا باقر کو ’’خودمختار بنک دولت پاکستان‘‘ کی سربراہی کے لیے آئی ایم ایف سے مستعار لے لیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے روپے کی قدر میں عدمِ استحکام کا ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے اعلان کےاگلے روزجنہوں نے بیان دیا کہ روپے کی قدر میں حالیہ کمی دراصل معاشی منڈی کی خراب صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہے۔

تمام آزاد ماہرینِ معیشت آئندہ تین برسوں کے دوران نوکریوں میں ایک ملین تک کی کمی اور اتنے ہی لوگوں کے خطِ غربت سے نیچے چلے جانے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں

بجٹ میں رواں مالی سال کے 700 بلین سے زائدتک کے خسارے کی تنظیم کے علاوہ زرِ مبادلہ کی شرح میں کمی جیسے اقدامات پہلے ہی اٹھائے جا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں 39 ماہ پر محیط مالیاتی معاہدے کی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے باقاعدہ توثیق سے پیش تر حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے دیگر اقدامات میں پالیسی ریٹ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ ماہرِ معیشت شبر زیدی کو نظامِ محصولات میں بہتری کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ تاہم ٹیکنوکریٹ ٹیم کے تمام ممبران کے بارے میں یہ بات عام ہے کہ یہ تمام اراکین پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت میں باہر سے لائے گئےہیں۔

تمام بڑے معاشی اشاریے بدقسمتی سے تنزلی کی جانب جارہے ہیں۔ ہمیں 9 ماہ پر مشتمل غیریقینیت کا خمیازہ معاشی مواقع میں کمی کی صورت بھگتنا پڑرہاہے۔ تمام پبلک سیکٹر اداروں کی صورتِ حال بالکل وہی ہے جو 2013 میں تھی اور یہ شعبہ تنِ تنہا حکومتی خزانے پر بھاری ترین بوجھ ہے۔ تمام ٹیکنوکریٹس اپنے آئندہ معاشی لائحہِ عمل میں سیاسی قیمت کو نظر انداز کرتے دکھائے دیتے ہیں۔ 39 ماہ پر مشتمل اصلاحاتی پروگرام کو درپیش یہ سب سے بڑا چیلنج  ہے۔ تمام آزاد ماہرینِ معیشت آئندہ تین برسوں کے دوران نوکریوں میں ایک ملین تک کی کمی اور اتنے ہی لوگوں کے خطِ غربت سے نیچے چلے جانے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔ یہ صورتِ حال ان دعووں کے بالکل برعکس ہے جو عمران خان نےاپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی اور اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے بارے میں کررکھے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی مدت 2023 کے آخری سہ ماہی تک اور پاکستان تحریکِ انصاف کی مدتِ حکومت اگست 2023 میں مکمل ہو گی۔ لہٰذا حکومت کے لیے 9 ماہ سے بھی کم عرصے میں عام انتخابات سے پہلے نوکریوں کا وعدہ پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ شرائط نہایت کڑی ہیں۔ پاکستان کے لیے ایک طرف جہاں  پہلے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بروقت عملدرآمد کرنا ضروری ہو گا وہاں اسے 8 بلین ڈالر کے دو طرفہ قرضہ جات کے اجرا کے لیے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات  کو اعتماد میں بھی لیے رکھنا ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اقتصادی پالیسیوں کے تتمے کے طور پر پاکستان کو ملکی ڈھانچے کے حوالے سے جرات مندانہ اصلاحاتی ایجنڈے کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ شرح نمو میں بڑھوتری اور معیارِ زندگی میں بہتری کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے وسط المیعاد پروگرام کے لیے مطلوبہ اقدامات سے مطمئن ہونے کی یقین دہانی کراتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ adjustment کی حکومتی کوششوں کی کامیابی کے لیے عالمی شراکت داروں کی جانب سے پاکستان کی مالی امداد انتہائی اہم ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ’’معاشی خسارے میں قابلِ ذکر کمی، سرمایہ کاروں اور تجارتی کمپنیوں کے اعتماد میں اضافے اور مستحکم شرح نمو کے ساتھ معیشت کو راہِ راست پر لانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ نجی شعبے میں فعالیت اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کے بھی اقدامات کرنا لازمی ہیں اور اس کے لیے یقینی طور پر پاکستان کو فیصلہ کن پالیسیوں اور دیرپا معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ خاطر خواہ بیرونی مالی امداد  کی بھی ضرورت ہوگی۔‘‘

اہم ترین بات یہ ہے کہ شعبہ توانائی اور ریاست کے زیرِ انتظام دیگر کاروباری و صنعتی اداروں میں قیمت اخراجات کی وصولی کے لیے ایک جامع لائحہِ عمل کی تنظیم و ترتیب ان حکومتی اداروں کے خسارے میں کمی یا اس کے خاتمے کے سلسلے میں سود مند ثابت ہو گی۔ ’’اس سلسلے میں تمام صوبے بھی اپنے مالی اہداف میں  وفاقی حکومت کے ساتھ مطابقت پیدا کرتے ہوئے ان کوششوں کا حصہ بننے پر آمادہ ہیں۔‘‘ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی روپے کی قدر میں کمی کے باعث ڈالر کی مد میں 8 فیصد تک کم ہو کر 1,650 ڈالر سے 1,515 ڈالر تک آگئی ہے۔ جی ڈی پی کی شکل میں معاشی حجم گذشتہ سال کی نسبت 313 بلین ڈالر سے کم ہو کر 280 بلین ڈالر تک سکڑ چکا ہے جبکہ جی ڈی پی کی شرح نمو 2010 کے بعد سے اب تک کی سب سے کم ترین شرح ہے جو اس وقت 3.29 فیصد ہے اور 2010 میں یہ شرح 2.64 فیصد تھی۔ جی ڈی پی کی موجودہ شرح نمو رواں سال کے مقررکردہ ہدف یعنی 6.2 فیصد سے انتہائی کم ہے۔

درحقیقت پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے سال میں ملک کی معاشی صورتِ حال ہر طرح سے دگرگوں اور اقتصادی شعبے کی کارکردگی بہر طور مایوس کن ہے۔ زرعی پیداوار کی شرح نمو 3.8 فیصد کے ہدف کی بجائے ایک فیصد سے بھی کم تک محدود ہے۔ صنعتی شعبے کی شرح نمو 7.6 فیصد کے مقرر کردہ ہدف کے مقابلے میں محض 1.4 فیصد ہے۔ شعبہ خدماتِ عامہ کی شرح نمو 6.5 فیصد کے مقرر کردہ ہدف کی نسبت 4.7 فیصد  ہے۔ اسی طرح حکومت سرمایہ کاری اور بچت کےاہداف کے حصول میں بھی ناکام ہوچکی ہے۔ سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کے تناسب کی شرح 17.2 فیصد کے ہدف کی بجائے 15.4 فیصد تک ہے جبکہ بچت اور جی ڈی پی کے تناسب کی شرح 19-2018 میں حکومت کے مقرر کردہ ہدف 13.1 فیصد کے مقابلے میں 11.1 فیصد ہے۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...