ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے انخلا ممکن ہے؟

خلیق کیانی

تکنیکی اقدامات کے علاوہ آئندہ چار ہفتوں کے دوران پاکستان کو ان تھک سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ وہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے انخلا کے لیے تنظیم کے رکن ممالک سے درکار حمایت حاصل کرسکے۔ (یہ تنظیم عالمی سطح پر دہشتگردی کی مالی معاونت کی نگرانی اور انسداد کے لئے اقدامات کرتی ہے)

اعلیٰ سطح کے ایک حکومتی اہلکار نے راقم کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کا آئندہ ورکنگ گروپ اجلاس اورلاندو فلوریڈا میں 16 جون سے 21 جون تک منعقد ہورہا ہے۔ اس اجلاس کے دوران اس امر کا تعین کیا جائے گا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے خارج کیا جاتا ہے یا اسے ناکافی اقدامات کے سبب بلیک لسٹ کیا جائے گا۔ اس صورت میں پاکستان کو شدید معاشی مشکلات جیسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اورلاندو (امریکہ) میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے مستقبل کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ اگرچہ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان اس سے اگلی ملاقات جو کہ اکتوبر 16 تا 23 کو پیرس میں ہوگی، وہاں کیا جائے گا۔ پاکستان اس حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے عائد شرائط کی مکمل پاسداری کررہا ہے۔

یہ حکومتی اہلکار جس سے راقم نے گفتگو کی، حکومت پاکستان کے اس وفد کا حصہ تھے جس نے گزشتہ ہفتے چین کے شہر گوانزو میں ایشیا  پیسفک گروپ سے براہ راست ملاقات کی۔ ایشیا پیسفک گروپ ایف اے ٹی ایف کا علاقائی معاون ہے جو اس معاملے پر دہشتگردی کی مالی معاونت کے انسداد کے عالمی ادارے کی تکنیکی معاونت کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی ورکنگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس پاکستان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے گزشتہ دو ماہ کے دوران حکومت پاکستان نے بہت سے اقدامات اٹھائے جن کا تعق فنانشل ریگولیشن اور مانیٹرنگ کے نظام سے ہے اور اس کا آئینی نظام  بھی اب عالمی تقاضوں کے ہم آہنگ ہورہا ہے ماسوائے چند ترامیم کے جو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں کی جانی ہیں۔ یہ ترامیم بھی قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے زیر غور ہیں۔  ان کے الفاظ تھے: ’’میں پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ ہم نے تکنیکی لحاظ کے تمام اقدامات کردیئے ہیں جیسا کہ آئینی اور انتظامی اقدامات کئے گئے ہیں۔ نگرانی ، نفاذ ،اداروں کے مابین رابطہ کاری اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک نظام سے منسلک کرنا وغیرہ شامل ہے۔  اب ضرورت ہے کہ مخالفین کی کوششیں روکنے کے لئے موثر سفارتی کوشش کی جائے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ توقع کی جارہی تھی کہ پیر کے روز وزیر اعظم عمران خان کو چین کے شہر گوانزو میں ہونے والی ایشیا پیسفک گروپ اور پاکستانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے مندرجات سے آگاہ کیا جائے گا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ممکنہ طور پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کریں گے اور عالمی سطح پر موجود مشکل سفارتی ماحول میں موثر سفارتی حکمت عملی ترتیب دیں گے کیونکہ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں امریکی اور بھارتی لابنگ بہت مضبوط ہے اور ان کے ہم نوا ممالک کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے غیر جانبدار ارکان کے متعلق بھی یہی خدشات ہیں کہ وہ پاکستان سے متعلق ہونے والی رائے شماری کے دوران غیر حاضر رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے انخلا کے لئے 15 سے 16 ووٹ اور بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لئے تین ووٹ اپنی حمایت میں درکار ہوں گے۔ اس وقت ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک کی تعداد چھتیس ہے جو کہ رائے شماری میں حصہ لیتے ہیں اور دو ایسی علاقائی تنظیمیں بھی اس کا حصہ ہیں جس میں دنیا کے اہم معاشی مراکز شامل ہیں۔

سیکرٹری خزانہ و ریوینیو محمد یونس پاکستان کی طرف سے ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مذاکرات کی سربراہی کر رہے تھے،انہیں حال ہی میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے

ایف اے ٹی ایف کی ورکنگ کونسل نے جون 2018 میں پاکستان کا نام دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کے لئے ناکافی اقدامات کی تادیب کے نتیجے میں گرے لسٹ میں  شامل کیا تھا۔ اس میٹنگ میں پاکستان اپنے دوست ممالک کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا تھا کہ وہ دہشتگردی کی مالی معاونت بشمول منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لیے اپنی عالمی  ذمہ داریاں پوری کررہا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کے خلاف ووٹ دینا ایف اے ٹی ایف میں ان کے  اپنے سیاسی مفادات کے پیش نظر تھا۔ چین آئندہ سال ایف اے ٹی ایف کی صدارت کا خواہشمند ہے جبکہ سعودی عرب خلیج تعاون تنظیم (جس کا وہ سرگرم اور بانی رکن ہے) کو ایف اے ٹی ایف کا مکمل رکن بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ، یورپ، برطانیہ اور بھارت کی جانب سے پاکستان کی مخالفت میں بھرپور سفارتی کوششوں کے باوجود ترکی نے پاکستان کی حمایت میں ووٹ دیا تھا (اگرچہ ترکی پاکستان کی حمایت میں ووٹ دینے والا واحد رکن تھا)۔

ایشیا پیسفک گروپ سے اپنی حالیہ ملاقات میں پاکستانی وفد نے اپنا مقدمہ مضبوطی سے پیش کیا اور دہشتگرد عناصر کی منی لانڈرنگ اور دیگر ذرائع سے مالی معاونت روکنے کے لئے اپنے دس نکاتی منصوبے کو بیان کیا۔ اس دوران اے پی جی کے وفد میں شامل بعض ارکان نے کئی تلخ سوال پوچھے مگر پاکستانی وفد نے خوش اسلوبی سے تمام سوالات کے جوابات دیئے۔ مبصرین کے مطابق اس ملاقات کے بعد  اے پی جی وفد کے ارکان پاکستانی اقدامات سے بظاہر مطمئن نظر آئے۔ اگرچہ اس ملاقات میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ اجلاس میں پاکستان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تاہم آئندہ ماہ اس کے اجلاس میں  گوانزو میں ہوئی اے پی جی کے ساتھ پاکستانی وفد کی حالیہ ملاقات کے نتائج، اس کے وفد کی آرا اور پاکستان سے کیے گئے سوال و جواب کی روشنی میں ہی یہ ادارہ پاکستان کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرے گا۔

پاکستانی وفد نے اے پی جی ارکان کو بتایا کہ کس طرح پاکستان نے کرنسی اسمگلنگ، کالعدم جماعتوں اور فنانشل اینڈ کوآپریٹو اداروں کے درمیان ترسیل زر کے عمل کی نگرانی کو مزید سخت کیا ہے۔ اس دوران یہ بتایا گیا کہ کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ملک بھر میں ان کے دفاتر کو سیل کر دیا گیا ہے۔ ان جماعتوں کے ساتھ وابستہ کئی ذیلی تنظیموں کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیاہے۔ ایسے تمام اداروں کے اثاثے منجمد کر دیئے گئے ہیں۔ ماہرین کی رائے میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دہشتگرد عناصر کی مالی معاونت روکنے کے لئے درکار لازمی شرائط کا سنگ میل یا تو عبور کر لیا ہے یا اس کے قریب ہے۔ حکومت نے حال ہی میں قومی سطح پر کوآپریٹو سیکٹر سے لاحق خطرات کی جانچ کے معیار کا دوبارہ جائزہ لیا ہے۔ ملک بھر میں ترسیل زر کے نظام کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ مشکوک طرز کے مزید 9 ادارے کالعدم قرار دیئے گئے ہیں۔ داخلی سطح پر بنکوں اور دیگر مالیاتی اداروں پر حکومتی اختیارات مزید سخت کئے گئے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج اور انشونش کمپنیوں کو دہشتگردی کی مالی معاونت میں استعمال ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ نئے پبلک اکاؤنٹس کھلوانے کے لئے پہلے سے رائج نگرانی کا طریقہ کار مزید سخت کیا گیاہے۔ پہلے سے موجود پبلک اکاؤنٹس کو بائیو میٹرک نطام کے ساتھ جوڑ اگیا ہے۔

پاکستان نے اندورن اور بیرون ملک ترسیل زر کے لئے ایک خاص نظام وضع کیا ہے جو اس طرح کے معاملات کا مکمل ریکارڈ رکھے گا۔ اس نطام کے تحت ہر دو ہفتے بعد اندرون اور بیرون ملک ہونے والی بنکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے رقوم کی منتقلی کے مکمل  کا مکمل ریکارڈ جانچا جائے گا۔ ہر مہینے یا کسی بھی ہنگامی نوعیت میں ایف بی آر جب بھی چاہے گا اس ریکارڈ کی چھان بین کرسکے گا۔ ان معلومات کا فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ساتھ  تبادلہ کیا جائے گا۔ اس نوعیت کی اہم معلومات کا تبادلہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کیا جائے گا۔

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ: ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...