خلیج فارس میں کشیدگی اور امریکا کے اہداف

202

اس وقت ایران امریکہ کشیدگی کے نتیجہ میں شط العرب اور خلیج فارس میں بڑے پیمانے پہ امریکی بحری بیڑوں اور جدیدترین جنگی مشینری کی ترسیل بظاہر کسی بڑے حادثہ کے رونما ہونے کے امکانات کو ظاہر کرتی ہے لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مغربی طاقتیں ایران پہ جنگ مسلط کر کے خطہ میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی غلطی نہیں کریں گی۔ امریکی انتظامیہ نے خلیج فارس میں جنگی ساز وسامان کی نقل و حمل کو طویل المدتی مقاصد کا شاخسانہ بتایا جو دنیا بھر کو تیل کی محفوظ ترسیل سے جڑی ہوئے ہیں۔

اس منظرنامہ میں ایک تو مغربی میڈیا کا کردار منفی سامنے آیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے کم وبیش 140 کلومیٹر جنوب کی جانب یو اے ای کے فُجائرَہ پورٹ کے قریب تیل لانے والے چار جہازوں، جن میں دو سعودی ایک اماراتی اور ایک نارویجین شپ شامل تھا، کے تارپیڈو یا آبی باردودی سرنگوں سے مبینہ سبوتاژ کے واقعہ کو مغربی میڈیا کے وار پروپگینڈہ کا ریلہ مسلح تصادم کے خطرات میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہرچند کے خود سعودی حکومت سمیت کسی ملک نے بھی آئل ٹینکرز پہ حملوں کی ذمہ داری ایران پہ عائد نہیں کی لیکن پھر بھی مغربی ذرائع ابلاغ آبی بارودی سرنگوں کو ایرانی افواج کا پسندید ہتھیار باور کراکے حقیقی اور کچھ غیر حقیقی خطرات کی نشانندہی میں سرگرداں ہیں۔ بہرحال، موجودہ کشیدگی وار ڈپلومیسی کی ایسی پیچیدہ صورت ہے جس کے حقیقی مقاصد غیر یقینی کی دھند میں مستور اور اصل اہداف کیموفلاج ہیں، ایک طرف مغربی میڈیا خلیج فارس میں جنگ کے خطرات کی پیشگوئی کے ذریعے خطہ میں خوف کی فضا قائم کر کے ایران پہ نفسیاتی دباو بڑھانا چاہتا ہے، دوسری جانب مغربی دانشوروں کا ایک طاقتور گروہ خلیج فارس میں ممکنہ جنگ کو اسرائیلی ریاست کی تباہی کے تناظر میں دیکھتے ہوئے ایران کے خلاف جارحیت کی راہ روکنے کی متضاد مساعی میں سرکھپا رہا ہے۔

ایران کے ساتھ ایٹمی تحدید کے معاہدہ میں شامل جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے علاوہ یورپی یونین کے تزویری چیف نے برسل میں امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پہ زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیتے ہوئے ایٹمی ڈیل سے لاتعلقی اختیار کرنے سے اجتناب کرے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے ایٹمی ڈیل سے نکل کے ایران پہ دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے ایک سال بعد ایرانی قیادت نے معاہدہ میں شریک ممالک کو ساٹھ دنوں میں یک طرفہ امریکی اقتصادی پابندیوں سے قطع نظر کر کے ایران کے ساتھ تیل کی تجارت بحال کرنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے بصورت دیگر ایران آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کو تیل کی ترسیل روک سکتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم کے نام اپنے نشری پیغام میں بتایا کہ”حالات عراق جنگ سے زیادہ بدتر ہیں،عراق وار میں صرف اسلحہ خریداری پہ پابندی تھی، تیل کی ترسیل سمیت باقی تجارتی سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر رواں دواں رہیں لیکن اب ہم مکمل معاشی، سیاسی اور فوجی محاصرہ میں ہیں۔

ایک ایسا حساس خطہ جہاں سے سمندر کے راستے دنیا بھر کو تیل کی دو تہائی ترسیل کی جاتی ہے اس میں وسیع پیمانے کے جنگی مظاہر عالمی معیشت پہ تباہ کن اثرات مرتب کریں گے

اس پورے تنازعہ کا پس منظر یہ ہے کہ دوہزار چار اور چھ کے درمیان ابومصعب زرقاوی کی القاعدہ تنظیم کی طرف سے عراق کی شیعہ حکومت اور اسرائیل نواز امریکی فورسز کے خلاف تباہ کن خودکش حملوں نے عالمی طاقتوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا، سنہ دوہزار چھ میں زرقاوی امریکی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا تو سنہ دو ہزار بارہ میں شام میں ابومحمد الجیولانی کی جبھتّہ النصر نے زرقاوی کے نظریہ کو فروغ دے کر قابض فورسز کے خلاف مزاحمت کی، اسی کشمکش کی کوکھ سے سنہ  2013 میں داعش کو ظہور ملا جس نے جبھۃ النصر کے ساتھ ملکر عراق سے لیکر شام، اردن، سعودی عرب اور لبنان تک پورے خطہ کو ہولناک خانہ جنگی کے جہنم میں جھونک دیا۔ ان حالات میں امریکہ سمیت خطہ کی تمام طاقتوں کو ایران کی گراونڈ فورسز کی ضرورت پڑی تو اسلامی انقلاب کے چھتیس سال بعد امریکی صدر اوباما نے ایران کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے، روس، چین، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی شراکت سے ایٹمی سرگرمیاں محدود کرنے کے بدلے ایران سے طویل اقتصادی پابندیاں اٹھانے کی ڈیل پہ دستخط کئے، اس پراسرار معاہدہ کے تحت ایران اپنی تمام ایٹمی سہولیات کو بدلنے، ری ڈیزائن اور محدود کرنے کا ایڈیشنل پروٹوکول قبول کرنے کے عوض ساری اقتصادی پابندیوں سے استثنٰی اور تیل کی تجارت سے اربوں ڈالر کمانے کے علاوہ کھربوں ڈالر کے منجمد اثاثہ جات حاصل کرنے کے قابل ہوگیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس دوران ایران نے منجمد آثاثہ جات کے حصول کے علاوہ تیل کی تجارت سے کتنا فائدہ حاصل کیا لیکن یہ منفرد معاہدہ اس وقت تک نافذ العمل رہا جب تک مغربی طاقتوں نے ایرانی فورسز کے تعاون سے القاعدہ، جبھۃ النصر اور داعش کی خونخوار مزاحمت پہ قابو پا نہیں لیا۔

جب روس، ترکی اور مغربی طاقتوں کی حمایت سے ایران کی پاسداران کور کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے عراق اور شام میں امریکی فورسیز کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہوں کا قلع قمع کر لیا تو گزشتہ سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پہ مڈل ایسٹ میں پراکسی جنگووں کو ایندھن فراہم کرنے، روس سے بلاسٹک مزائیل سسٹم خریدنے اور اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کے مبینہ الزامات عائد کرکے دوہزار پندرہ کی ایٹمی ڈیل سے خود کو الگ کرنے کے ساتھ ہی ایران پہ ساری اقتصادی پابندیاں دوبارہ بحال کردیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی قیادت کو فریب دیہی کے بعد ایران کیلئے ابنائے ہرمز کو بند کرکے پوری دنیا کو تیل کی ترسیل روکنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا۔ امریکی فورسز کی خلیج فارس تک پہنچنے کی بنیادی وجہ ابنائے ہرمز سے دنیا بھر کو جانے والی تیل کی سپلائی کا تحفظ یقینی بنانا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایران نے ابنائے ہرمز کو بند کر دیا تو پھر امریکہ کیا کرے گا؟ مغربی میڈیا کے رجحانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی اشرافیہ اور نوقدامت پسند امریکی انتظامیہ خلیج فارس میں جنگ نہیں چاہتی مگر ایک غیر مختتم کشیدگی کا دروازہ ہرآن کھولے رکھنا ان کی طویل المقاصد پالیسی کا جُزو ہے۔

تاہم مغربی دانشوروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی میڈیا میں ایران کی طرف سے مفروضہ خطرات کی مبالغہ آمیز تشہیری مہم اگر جاری رہی تو ایران کے ساتھ کشمکش کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے، اہل دانش کہتے ہیں کہ ایران پہ حملہ کو اسرائیل کے تحفظ کی ضمانت سمجھنے والے غلطی فہمی میں ہیں، خلیج فارس میں جنگ اسرائیل کی سلامتی کیلئے مہلک ثابت ہو گی۔ اور ایک ایسا حساس خطہ جہاں سے سمندر کے راستے دنیا بھر کو تیل کی دو تہائی ترسیل کی جاتی ہے اس میں وسیع پیمانے کے جنگی مظاہر عالمی معیشت پہ تباہ کن اثرات مرتب کریں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...