شمالی وزیر ستان میں عسکریت پسندوں کی واپسی

168

گو کہ 2016 کے وسط سے شمالی وزیرستان کے طول وعرض میں نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے شروع ہوتے ہی تشدد اور دہشتگردی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ مگر رواں سال ان واقعات میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ غیر مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق ایک سال کے عرصے میں گھات لگا کر قتل کرنے کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس دوران 100 کے قریب افراد نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

تشدد کے ان واقعات سے خوفزدہ لوگوں کی پریشانیوں میں اُس وقت اضافہ ہوا جب کالعدم شدت پسند تنظیم شوریٰ اتحاد المجاہدین کی جانب سے میران شاہ اور نواحی علاقوں میں شب ناموں کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہاتھ سے لکھے گئے ان شب ناموں میں حافظ گل بہادر کی تنظیم کے جانب سے دھمکی آمیز پیغامات تھے جن میں حکومت کے حامی قبائلیوں اور پولیس اہلکاروں کو سرزنش کی گئی تھی۔ پولیس اہلکاروں کو کہا گیا ہے کہ وہ علاقے میں باوردی گھومنے پھرنے اور گشت کرنے سے گریز کریں۔ اس شب نامے میں غیر سرکاری اداروں اور سرکاری اداروں کے ذریعے خواتین میں راشن تقسیم کرنے، لڑکیوں کے اسکولوں جانے، تعلیم حاصل کرنے، بچوں کو پولیوں مرض کے قطرے پلوانے، موٹر سائیکل پر خواتین کو ساتھ بٹھانے، شادی بیا ہ کی محفلوں میں خواجہ سراوں کے ناچ گانے اورفوج و پولیس اوردیگر سیکورٹی اداروں میں بھرتی ہونے یا ان کے ساتھ کام پر پابندی کا مطالبہ کیاگیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدام اُٹھانے کی دھمکی دی گئی۔ اسی طرح مالکان جائیداد کو فوجی تعمیرات کے لیے جگہیں نہ فراہم کی بھی ہدایت کی گئی۔ اس پمفلٹ میں بالخصوص قبائلی رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ سرکاری اداروں کے افسران اور اہلکاروں کے ساتھ مراسم بڑھانے سے گریز کریں بصورت دیگر نتائج کے خود ذمہ دار ہونگے۔

تشدد کے ان واقعات سے پیدا ہونے والی صورتحال نے حکومت اوربالخصوص سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے خاتمے کو یقینی بنائے۔ اب شمالی وزیرستان سمیت تمام تر نئے قبائلی اضلاع میں امن وامان قائم رکھنا خیبر پختونخوا حکومت ہی کی ذمہ داری ہے

حافظ گل بہادر اپنے قریبی رشتہ داروں، اہم ساتھیوں اور جنگجووں سمیت جون 2014 میں فوجی کاروائی ضرب عضب کے شروع ہوتے ہی سرحد پار افغانستان فرار ہوئے تھے اور ابھی تک روپوش ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اب افغانستان کے سرحدی صوبے خوست سے ملحقہ سنگلاخ اور گھنے جنگلات پر مشتمل سرحدی علاقے میں واپس آئے ہیں۔ 2015 سےلے کر 2018 تک حکومتی اداروں نے بعض قبائلی رہنماؤں اور علما کے ذریعے حافظ گل بہادر کے ساتھ مصالحت کی کافی کوششیں کی تھی مگر یہ کاوشیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔ ان کے بعض وفادار جنگجو اب اپنے قبائلی علاقوں میں واپس آچکے ہیں۔ جبکہ 2014 کے وسط میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کاروائی کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں میں سے 15 ہزار سے زائد خاندانوں کی ابھی تک واپسی نہیں ہوئی ہے جن میں سے تین ہزار سے زیادہ سرحد پار افغانستا ن کے صوبہ خوست میں کسمپرسی کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

شمالی وزیرستان 2006 سے جون 2014 تک ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ جون 2014  کے وسط میں فوجی آپریشن ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد تمام تر عسکریت پسندوں کو علاقہ چھوڑ نے پرمجبور کردیا گیا۔ تاہم 2016-17 میں نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے شروع ہونے کے بعد دہشت گردی کے واقعات شروع ہوگئے ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران سو سے زیادہ افراد گھات لگا کر فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ قتل کیے جانے والوں میں قبائلی رہنما، سرکاری ملازمین اور عہدیدار، اعلی سول اور سیکورٹی اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس دوران رونما ہونے والے تشد د کے زیادہ ترواقعات کی ذمہ داری ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

تشدد کے تازہ ترین واقعات میں شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ میں ایک پولیس اہلکار کو گزشتہ جمعرات کی شام نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں ماکر ہلاک کردیا، عین اُسی وقت دتہ خیل تحصیل کے گاؤں دیگان میں نامعلوم حملہ آور وں نے فائرنگ کرکے مولوی خان دراز کو قتل کیا۔ دونوں وارداتوں میں ملوث حملہ آور افرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے تشدد کے ان دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم مقامی لوگ اسے دہشت گردی کی واردات قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ سرکاری سطح پر دونوں واقعات کے بارے میں کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قومی اسمبلی  کامران وزیر نے اس صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ لوگ توقع کررہے تھے کہ حکومت امن وامان قائم کر کے ان کی زندگیوں کو محفوظ بنائے گی مگر ایسا نہ ہوسکا جس کی وجہ سے عام لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دہشتگرد تو اب بھی بعض علاقوں میں موجود ہیں، وہ واردات کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ حکومت اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرکے دہشت گردوں کے خاتمے کو یقینی بنائے۔

تشدد کے ان واقعات سے پیدا ہونے والی صورتحال نے حکومت اوربالخصوص سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے خاتمے کو یقینی بنائے۔ اب شمالی وزیرستان سمیت تمام تر نئے قبائلی اضلاع میں امن وامان قائم رکھنا خیبر پختونخوا حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...