پہلے نارمل سماج بنیں

190

15 مئی کو چک شہزاد اسلام آباد سے ایک دس سالہ بچی کو گلی میں کھیلتے ہوئے اٹھایا گیا۔ چار دن تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کا والد تھانے میں ایف آئی آر  درج کرانے کی کوشش کرتا رہا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ 19 مئی کو بچی کی نعش ملی جسے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔

پاکستان میں ہر روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 12 واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان میں سے خبر صرف وہی بنتی ہے جس میں زیادتی کے بعد قتل بھی کردیا گیا ہو۔ ایسی خبریں بھی اب کبھی کبھار کی نہیں رہیں بلکہ ہر ماہ اس طرح کے ایک دو واقعات سامنے آرہے ہیں۔ حکومت نے اس مئلہ سے نمٹنے کے لیے قوانین تو بنا رکھے ہیں لیکن یہ قضیہ جس طرح کی حساسیت اختیار کرتا جا رہا ہے اس کے لیے بالا سطح پر انتظامی کاوش کافی نہیں ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ الگ سے ایک ادارہ بنایا جائے جو مسئلہ کا ہمہ جہت جائزہ لینے کے بعد ایسا لائحہ عمل وضع کرے جس میں گلی محلہ کے عام لوگوں، مذہبی طبقے، اساتذہ اور والدین کو بھی شامل کیا جائے جو اس کے لیے کردار ادا کریں۔

جنسی زیادتی کے واقعات کے پس پردہ کوئی ایک غلطی کار فرما نہیں ہے جس پر توجہ دینے سے یہ مسئلہ حل کرلیا جائے۔ متعدد خلا ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سماجی اخلاقیات، تعلیم، رہن سہن اور معاشرت کے ساتھ ہے۔ یہ وہ امور ہیں جنہیں سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، حالانکہ ان سے معاشرے کی ساخت تشکیل پاتی ہے، اور دیگر انتظامی، سیاسی اور معاشی امور جنہیں ہم زیادہ توجہ دیتے ہیں، ان کی صحت اور بہتری بھی انہی معاملات کے ساتھ مربوط ہے۔

عظمت و فضیلت طاقت کے ساتھ نہیں جڑی ہوتی بلکہ صحت مند رویوں کے ساتھ متعلق ہوتی ہے۔ امن اور خوشی کسی شے کی انتظامی تنفیذ سے نہیں آتے، اس کے ساتھ سماجی معاہدے کو محترم بنانا ضروری ہوتا ہے۔ ہم ایکدوسرے پر اعتماد نہیں کرپاتے۔ ہمارے بچے گلی محلے میں بلاخوف کھیل نہیں سکتے۔ لین دین میں سو فیصد شک کرتے ہیں۔ ہر فرد ہر لمحہ شک اور غیریقینی کے پہاڑ سر پہ اٹھائے پھرتا ہے۔ معاشرے کی پوری ہیئت ہی نارمل نہیں رہی۔ معیشت، کاروبار، سیاسی جوڑ توڑ اور مذہبی مباحث کو بھی وقت دیا جائے اور عظیم قوم بھی بنا جائے اگر یہی اس کا راستہ ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ پہلے نارمل سماج بنیں، جہاں کم ازکم بچے تو محفوظ ہوں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...