ایران امریکا کے لیے عراق کی نسبت مشکل ثابت ہوسکتا ہے!

جان رچرڈ آئی کول

[جان رچرڈ آئی کول امریکی ماہرِ تعلیم اور تجزیہ کار ہیں۔ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ آج کل عالمی افق پر امریکا ایران جنگ کے ممکنہ خطرے کا بہت چرچا ہے اور دنیا بھر کے اخبارات اور ذرائع ابلاغ اس کے امکانات و نتائج اور اس کے مضمرات کو موضوعِ بحث بنائے ہوئے ہیں، اگرچہ ایرانی انقلاب کے بعد سے امریکا اور ایران کے مابین یہ لفظی جنگ اور سیاسی تناؤ معمول کا حصہ ہے لیکن صدر ٹرمپ کے عہدِ صدارت کے دوران اور جان بولٹن جیسے معروف ایران مخالف سفارت کار کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیے جانے کے بعد امریکا نے پہلے پہل ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے سےدستبرداری کا اعلان کیا تاکہ وہ ایران کو اپنا میزائل پروگرام معطل کرنے پر مجبور کر سکے، حال ہی میں امریکا کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہےاور امریکا خلیج فارس میں اپنے جنگی بیڑے کی تعیناتی بھی عمل میں لے آیا ہے۔ جواباً ایران نے خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی دہشت گرد قرار دیا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ طرفین کی جانب سے انتہائی سخت بیانات کے ساتھ  ان غیر معمولی اقدامات کے سامنے آنے سے برطانیہ سمیت عالمی دنیا کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کسی بھی غلط فہمی کی بنیاد پر یہ لفظی تکرار زمینی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ اسی پسِ  منظر میں امریکی تجزیہ کار جان کول اُن دس وجوہات اور اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے باعث ایران پر امریکی حملے کی صورت میں امریکا کو عراق کی نسبت عوامی و فوجی سطح پر زیادہ سخت مزاحمت کا سامنا کرنا  پڑ سکتا ہے۔]

  1. عراق کا رقبہ 168,754 مربع میل جبکہ ایران کا رقبہ 636,400 مربع میل ہے یعنی ایران عراق سے جغرافیائی طور پر تقریباً چارگنا بڑا ہے۔
  2. عراق پر امریکی حملے کے وقت عراق کی آبادی 2 کروڑ 60 لاکھ جبکہ ایران کی موجودہ آبادی 8 کروڑ اور 10 لاکھ ہے۔
  3. سابق امریکی سیکرٹری برائے جنگی امور جنرل ایرک شِنسیکی نے عراق پر امریکی حملے سےقبل  کانگریس کے روبرو بلقان ریاستوں میں امریکی تجربے کی بنیاد پر اس بات کا اقرار کیا تھا کہ عراق کی سکیورٹی کے لیے 8 لاکھ فوجی درکار ہوں گے۔ سیکرٹری دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے اس غلط فہمی کی بنیاد پر کہ ہم اپنے فوجیوں کو 6 ماہ میں واپس بلالیں گے، 1 لاکھ امریکی فوجیوں کو عراق بھیجنے پر اصرار کیا۔ بعد ازاں بش کے نمائندہ خصوصی پال بریمر نے اعتراف کیا تھا کہ عراق میں ’’ہمارے پاس فوجیوں کی تعداد ناکافی تھی۔‘‘
  4. ایران عراق سے تین گنا زیادہ گنجان آباد ہے، لہٰذا شنسیکی کے صحیح تخمینے کے مطابق امریکا کو ایران پر قبضے کے لیے 24 لاکھ فوجی درکار ہوں گے۔

    ایران کی نسلی و مسلکی آبادیاتی تقسیم اس نقشے میں دیکھی جاسکتی ہے
  5. امریکی فوجیوں کی کل تعداد 2,141,900 ہے جن میں سے 1,281,900 اس وقت مختلف محاذوں پر مصروفِ عمل ہیں جبکہ باقی ماندہ رضا کارفوجی  ہیں۔
  6. عراقی فوج ایک روایتی فوج تھی ، جو محض 4ٹینک دستوں پر مشتمل تھی جنہیں امریکی فضائیہ نے مکمل طور پر راکھ کے ڈھیر میں بدل کر رکھ دیا۔ امریکا کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب عراقیوں نے چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے اس حملے کے خلاف علمِ مزاحمت بلند کیا کیوں کہ امریکی فوج اس طرح کی گوریلا جنگ سے موثر طور پر نمٹنےکی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔
  7. ایران فوری طور 15 لاکھ نیم فوجی دستوں ’’بسیج‘‘ کو گوریلا جنگ کے لیے متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نیم فوجی دستے  ایران کی 5 لاکھ باقاعدہ فوج کے علاوہ ہیں۔
  8. عراق کی حکمرانی عموماً سنی اقلیت کے پاس رہی ہے جو عراق کی کل آبادی کا محض 17 فیصد ہے۔ جبکہ ایران پر شیعہ اکثریت حکمران ہے جو کل ایرانی آبادی کا 90 فیصد بنتی ہے۔ عراق پر اقلیتی آبادی کی حکومت کے باعث امریکا وہاں کی اکثریتی تشیعی آبادی کو اقتدار میں لاکر ان سے دوستانہ مراسم رکھنے میں کامیاب رہا۔ امریکا کے اس اقدام سے عراق کی سنی آبادی قومی دھارے سے کٹ کر رہ گئی اور ان میں غم وغصہ کے جذبات نے جنم لیا، لیکن اقلیت ہونے کی وجہ سے وہ کوئی قابلِ ذکر ردِ عمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔ جبکہ ایران میں امریکی حملہ آوروں کو شیعہ اکثریت کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  9. بش نے عراق پر حملے کے لیے برطانیہ، اسپین سمیت مغربی ممالک کو اپنی حمایت پر آمادہ کر لیا تھا لیکن مغربی یورپ کے کسی بھی ملک سے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کوکسی قسم کی حمایت ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جس کے نتیجے میں امریکا کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی حیثیت ایک ہٹ دھرم ریاست کی سی بن جائے گی۔
  10. عراق کے ہمسایہ ممالک بالخصوص ترکی، ایران اور سعودی عرب صدام حکومت کی دراندازیوں کا شکار تھے اسی لیے انہوں نے عراق پر امریکی حملے کی مخالفت نہیں کی جبکہ ایران کوعراقی اور شامی شیعہ آبادی، افغان ہزارہ اور 4 کروڑ پاکستانی شیعوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

مترجم: حذیفہ مسعود

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...