بلوچستان: نئی عوضی جنگ کی آماجگاہ

290

بلوچستان میں بلوچ قوم پرست باغیوں کی جانب سے کیے گئےحالیہ حملوں کی لہر ظاہر کرتی ہے کہ علیحدگی پسند گروہوں نے نہ صرف اپنی حکمتِ عملی بدل لی ہے بلکہ ان کی جنگی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ ظاہری طور پر وہ مکران اور گردو پیش کے علاقوں میں اپنے آپ کو مضبوط کررہے ہیں جہاں گوادر بندرگاہ واقع ہے جو پاک چین اقتصادی راہداری کا نقطہِ آغاز ہے۔ تشدد کی یہ نئی لہر عین اس وقت ابھری ہے جب  خلیج فارس کی صورتِ حال ڈرامائی انداز سے بدل رہی ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اپنی تکمیل کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو نے لگا ہے۔

بلوچ بغاوت کوعلاقائی سیاست سے مشاہداتی بنیادوں پرجوڑنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے لیکن حالیہ ہل چل سے ان دونوں کے مابین ممکنہ تعلق کا کسی حد تک سراغ ضرور ملتا ہے۔ ایسے گروہ جو اپنی سرزمین پر کسی قسم کی کوئی مشکل پیدا نہیں کرتے لیکن دوسرے ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں، ان سے متعلق ریاستی حیلہ بازی و بے توجہی کا معاملہ درج بالابات کو تقویت فراہم کرتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق ہماری علاقائی ریاستیں سفارت کاری کے ذریعے اپنے باہمی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہیں اور انہیں علاقائی معاشی و سیاسی حالات کی رو میں بہنے دینا چاہتی ہیں۔ جن علاقائی طاقتوں کے بلوچستان کے ساتھ تزویراتی و معاشی مفادات وابستہ ہیں، وہ عسکریت پسند عوضی گروہوں کو استعمال کرنے کی طویل تاریخ رکھتی ہیں۔ افغانستان، بھارت اور پاکستان اپنےمخصوص علاقائی تزویراتی تناظر میں ان عوضی گروہوں کو پروان چڑھاتے رہے ہیں جبکہ ایران اور سعودی عرب نے اس عوضی جنگ میں فرقہ وارانہ عنصر کا بیج بونے میں کردار ادا کیا۔

ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کے مابین تعلقات کو برقرار اور ہموار رکھنا کبھی بھی آسان رہا، اس کی عمدہ مثال پاکستان اور افغان طالبان کے مابین تعلق ہے جہاں طالبان نےکئی بار پاکستان کی طرف سے پڑنے والے دباؤ کو خاطر میں نہ لا کر اپنی آزادی پرسمجھوتہ نہ کرنے کا پیغام دیاہے۔سعودی عرب اور ایران کے مابین نزع کی وجوہات تاریخی، تزویراتی اور سیاسی ہیں۔ ایران کی جانب سے یمن میں حوثیوں کی پشت پناہی اور ایران مخالف باغی مذہبی گروہ جیش العدل کی سعودی حمایت اس تصادم کے محض چند ایک مظاہر ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ سیستان میں موجود باغی گروہ جیش العدل پاکستان سے اپنی کارروائیوں کو منظم کرتا ہے جبکہ کئی پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران بلوچ باغیوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔

پاکستانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچ باغی رہنما ایرانی بلوچ علاقے سیستان میں بلوچ آبادی پر ظلم و جبرکے لیے ایران کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ایران پاکستانی بلوچ قوم پرستوں سے تعلق رکھنے والے سیکولر بلوچ حریت پسندوں کو کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں دیتا اور وہ ان کی سرکوبی کے لیے ہمہ وقت تیاررہتا ہے۔ بلوچستان کے کئی قوم پرست رہنماؤں کا یقین ہے کہ 80ء اور 90ء کی دہائی کے دوران کراچی میں کئی سیستانی بلوچ رہنماؤں کو ایران نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے قتل کروایا۔ اگرچہ پاکستانی بلوچ باغیوں کے لیے ایران سے حمایت حاصل کرنا آسان  راستہ نہیں تھا لیکن ان کے لیے ایران اور افغانستان کے علاوہ پناہ گاہیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ مقامی افراد کے مطابق کئی بلوچ باغی رہنماؤں کے اہلِ خانہ ایران منتقل ہو چکے ہیں، یہی چیز ان رہنماؤں کو ایک طرح سے ایران پر انحصار کرنے کے لیے مجبور رکھتی ہے اور اسی سبب ایران نے ان گروہوں میں اثرورسوخ پیدا کرلیا ہے۔

بلوچ علیحدگی پسند تحریک پر آہستہ آہستہ جلا وطن بلوچ قیادت، حرب یار مری، براہمداغ بگٹی اور بختیار ڈومکی کی گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے۔یورپ میں رہائش پذیر ہونے کے باعث یہ رہنما مغرب میں بلوچ قوم پرست جدو جہد کے لیے لابنگ کرتے رہے ہیں اور ان پر ایرانی چھاپ بلوچ مقدمے کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم نئی بلوچ  علیحدگی پسند قیادت کو ایسی کوئی مجبوری درپیش نہیں ہے۔ یہ قیادت تعلیم یافتہ متوسط شہری طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور یورپ میں پناہ گزین بھی نہیں ہے۔ اسی لیے جلاوطن بلوچ قوم پرست قیادت کے برعکس ان کے سامنے ایران کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ دوسری بات یہ بھی کہ یہ قیادت مقامی سطح پر ہی اپنے گروہوں کو منظم کیے ہوئے ہے اور انہیں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ہر قیمت پر وسائل اور حمایت درکار ہے۔ یہ گروہ ایرانی سرحد کے قریبی اضلاع، مکران اور چاغی میں سرگرمِ عمل ہیں ، ایرانی حمایت ان کے لیے بہترین انتخاب ہو گی جس سے انہیں سرحد پار محفوظ ٹھکانے میسر آسکتے ہیں۔

ایران کو پاکستان میں سعودی حمایت یافتہ عسکریت پسند عوضی گروہوں کی موجودگی کے ساتھ ساتھ  پاکستانی بلوچستان میں بڑھتے ہوئے شیعہ مخالف جذبات پر بھی انتہائی تشویش ہے۔ سعودیہ کی جانب سے گوادر میں آئل سٹی کے قیام کے اعلان نے ایران کو مزید برانگیختہ کردیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کاروں کی رائے میں گوادر میں سرمایہ کاری سے سعودی عرب کے دیگرسیاسی و تزویراتی مفادات بھی  وابستہ ہیں۔ ایران کے نزدیک گوادر میں سعودی سرمایہ کاری ساحلی شہر اور بندرگاہ پر امریکی موجودگی کے مترادف ہے اور یہ بات چین کے لیے بھی انتہائی پریشان کن ہے۔ اس تناظر میں ایران اور امریکا کے مابین بڑھتا ہوا تناؤ پاکستان پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ یہ خدشہ پہلے ہی موجود ہے کہ بلوچستان کے اندر مستقبل قریب میں ایران سعودی عوضی جنگ مزید بڑھ سکتی ہے۔

بلوچستان میں ایران کا اثرو رسوخ واضح ہے۔ ایران سے اسمگل شدہ تیل پنجاب تک پہنچتا ہے۔ بلوچستان کے بازار اور دوکانیں ایرانی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں۔ ایران پورے مکران اور گردو نواح کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس نقطہِ نظر سے اتفاق کرتی نظر آتی ہے کہ ایران اپنے معاشی اثرو رسوخ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔ اسی طرح کئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ آئل سٹی کے قیام اوراس میں مقامی افراد کو سینکڑوں کی تعداد میں ملازمتیں دینے کا سعودی منصوبہ صوبے میں ایرانی اثرورسوخ کو کم کرنےکی جوابی حکمتِ عملی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران اور پاکستان کے مابین دو طرفہ بات چیت میں ہمیشہ سرحدی سلامتی کا موضوع حاوی رہا ہے۔ یہ باہمی بات چیت زیادہ تر سکیورٹی ذرائع اور طریقِ کار کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہر دو ممالک کے درمیان عدمِ اعتماد میں کمی لانے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہِ ایران کے موقع پر دونوں ممالک نے سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے اور سرحد پار عسکریت پسندوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر اتفاق کیا لیکن عملاً اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

ابھی بھی دونوں ممالک سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی انفرادی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایرانی سرحدی محافظوں کی جانب سے بھاری گولہ باری اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی سعودی حمایت یافتہ ایران مخالف گروہ جیش العدل کی نقل و حرکت محدود کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ سرحدی مسائل سے نمٹنے کے لیے تربت میں نئے کمانڈ ہید کوارٹر کی تشکیل کے علاوہ پاکستان نے پہلے ہی سرحد کے مخصوص حصوں پر باڑ لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔ تاہم سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کوحال ہی میں ایف سی کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتا یا گیا تھا کہ عسکریت پسندوں کی سرحد پار نقل و حرکت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے پیشِ نظر سرحد پر باڑ لگانے کی پاکستانی کوششوں کو ایران  کی جانب سے خفیہ مزاحمت کا سامنا ہے۔

یقیناً پاک چین اقتصادی راہداری اور پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کے تناظر میں  حالیہ منظر نامہ پاکستان کےلیے کسی طور مفید نہیں ہے۔ ان حالات کی وجہ سے اقتصادی راہداری کے سکیورٹی اخراجات بڑھتے چلے جارہے ہیں جو نہ صرف چین  بلکہ دیگر مقامی و بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے مایوس کن صورتِ حال کا باعث بن رہے ہیں۔ کاروبار اور بڑے منصوبے محفوظ اور پر امن ماحول میں ہی بار آور سکتے ہیں۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...