پاکستان میں نسل پرستی کا رواج کیا ہے؟

اس مضمون میں ساختیاتی تعصب اور سرکاری طور پر منظور شدہ تفاخر کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے

نسل پرستی ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہے۔ وہ عوامل جو نسل پرستی کی عمارت تعمیر کرتے ہیں وہ زمانی اور مکانی تفاوت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ نسل پرستی کی کوئی ایک وجہ یا وہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہوتی۔ تاہم ایک امر جو طے شدہ ہے وہ یہ ہے کہ نسل پرستی ساختیاتی ہوتی ہے۔ اسے کسی نسل کی بنیاد پر فضیلت حاصل ہونے کے تصور تک محدود نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے کسی انفرادی یا گروہی اجتماعی رویے تک پابند کیا جاسکتا ہے۔ یہ اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی ایک گروہ سیاسی، معاشی یا سماجی طاقت حاصل کرلے اور وہ ایسے گروہ کی جانب نفرت یا نسل پر مبنی متعصب رویے کا اظہار کرے جسے وہ کم تر یا قابل نفرت سمجھتا ہے تب اسے نسل پرستی کہا جائے گا۔ یہاں جس ایک لفظ پر اس کی فہم کا انحصار ہے وہ طاقت ہے۔ جب ریاست کی طاقت اس طرح سے ترتیب پائے کہ وہ کسی ایک نسل کے لوگوں یا کسی ایک خاص خطے کے لوگوں کو طاقتور بنا کر دیگر افراد یا علاقوں پر حاوی کردے تو اسے ساختیاتی طرز کا تعصب کہا جائے گا۔

اب  طاقت کی یہ صورتحال یا تو تاریخی ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں تعصب ایک تاریخی تسلسل کا حصہ سمجھا جائے گا۔ کسی دوسرے موقع پر یہ اشرافیہ کی تخلیقی دریافت بھی ہوسکتی ہے جس کے ذریعے وہ نظم و نسق کے نظام کو آسان بنا رہی ہوگی۔ چاہے کوئی بھی صورت ہو یہ ہمیشہ کسی ایک علاقے یا نسل کے لوگوں کو اختیار اور طاقت مہیا کرتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس وجودیاتی تفاخر کو جو کسی ایک خاص طبقہ کو میسر ہے، وہاں سےاس کے لئے کوئی مطالبہ نہ کیا گیا ہو۔ کیونکہ ممکن ہے کہ اشرافیہ کے لئے یہ سودمند ہو کہ وہ کسی ایک نسلی گروہ کو زیادہ نوازیں اور کسی دوسرے گروہ سے تعصب برتیں۔ ممکن ہے کہ اشرافیہ کا تعلق پہلے گروہ سے ہو اوراس کی طاقت کا دارومدار اسی پہلے گروہ کی حمایت پر قائم ہو۔

اب  اگرچہ طاقت کی صورتیں لچکدار ہوسکتی ہیں اور اس میں یہ گنجائش موجود ہوتی ہے کہ پسے ہوئےطبقات یا پسماندہ علاقوں میں سے کچھ لوگ یا طبقات ترقی کی افقی سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اب یہ نمائندگی کی طاقت کا ایک دعویٰ بن سکتا ہے، جیسا کہ کہا جائے گا کہ یہاں کوئی تعصب نہیں برتا جا رہا کیونکہ افراد کا ایک گروہ جو کہ اسی شناخت کا حامل ہے وہ طاقت میں ہے۔ یا اس صورت کو کہ جہاں چند افراد ایک بہت بڑے گروہ سے اٹھ کر ان کے لئے متبادل  نمائندگی کرسکیں۔ اگرچہ شناختیں سماجی تعمیر کا ایک عمل ہیں تاہم طاقت کے اس ساختیاتی بندوبست میں یہ شناختیں پختہ ہوجاتی ہیں اور بسا اوقات یہ لسانی یا ثقافتی شناختیں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اور بسااوقات نقصان کا باعث بنتی ہیں۔

برطانوی راج کےدوران سرکاری دستاویزات میں پشتون اور بلوچ اقوام کو غیر مہذب اور جنگجو بیان کیا گیا تھا

پاکستان میں اگر نسل پرستانہ رواج کو عمیق نظری سے جانچا جائے تو یہ مشق مشکل ہوگی یا ممکن ہے کہ یہ کوشش دائروی ثابت ہو۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں آباد ثقافتی یا لسانی گروہ کبھی ایک دوسرے سے بالاتر یا زبردست نہیں رہے۔ یہاں پر بادشاہتیں رہی ہیں اور یہ گروہ ان کا حصہ رہے ہیں لیکن یہ کبھی بھی ایک دوسرے کے زیر سایہ مستقلاََ نہیں رہے کیونکہ یہ کبھی بھی کسی ایک نسل کے نمائندہ کی حیثیت میں موجود نہیں تھے۔ وہ اقوام جن سے آج کا پاکستان تشکیل پاتاہے وہ تاریخی اعتبار سے اپنی جغرافیائی حدود کے پابند رہے ہیں لہذا ٓج کے زمانے میں جو بھی بندوبست آپ دیکھتے ہیں اس کا کوئی تاریخی پس منظر نہیں ہے۔ کچھ لوگ یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ آج کے پاکستان میں بعض شہر یا علاقے ایسے تھے جن کی حیثیت کسی ایک خاص دور میں مرکزی تھی، مثال کے طور پر لاہور عہد مغلیہ میں ایک مرکزی حیثیت کا حامل تھا اور بلوچ یا پختون علاقے پسماندہ تھے یا انہیں کسی خاص زاویے سے دبا کر رکھا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہاں ترقیاتی ارتقا کے درجے مختلف ہیں، اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ ایک دوسرے کے زیر تسلط رہے ہیں۔ برطانوی راج کی طاقت کے اپنے مقاصد تھے اور یہ ان کی طاقت کا تسلسل ہی تھا کہ وہ  طاقت کی تقسیم اور بندوبست کے عمل کے دوران  پاکستانی ریاست کا انتظام ترتیب دے سکے۔

ایک لمحے کو ہم نسل پرستی کی اس اصطلاحی وضاحت کی جانب دیکھتے ہیں جسے ہم نے اس موضوع کے لئے ترتیب دیا ہے، یہ ساختیاتی تعصب کا ایک ایسا عمل ہے جو کسی  ایک خاص شناخت کی بنیاد پر ایک قوم کے خلاف ہوتا ہے اور یہ ہمیشہ سماجی تعمیر سے متعلق ہوتا ہے جیسا کہ رنگ، نسل، زبان وغیرہ۔ پاکستان میں نسل پرستی کا یہ رویہ بہت واضح اور زندہ ہے۔ نسل پرستی کا یہ رویہ صدیوں پرانی غلامی کے سبب نہیں ہے یا نہ ہی یہ اتنے غیر انسانی اور زیر دست رویئے سے پھوٹا ہے کہ اسے غلامی کے درجے کے قریب سمجھا جائے تاہم کچھ گروہوں پر اس کے اتنے بُرے اثرات ہوئے ہیں کہ ان کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ نئی قائم ہونے والی ریاست پاکستان نے برطانوی راج سے تزویراتی مراکز اور مضافات کے تصورات مستعار لئے ہیں۔ برطانوی راج کے لئے وسطی ہند کے مراکز ہندوستان کی جغرافیائی سرحدوں کے اندر واقع تھے جبکہ انہوں نے اس کی سرحدوں پہ واقع علاقوں کو تزویراتی مضافات سمجھا۔ پاکستان نے اس تصور کو اپنی سہولت کے مطابق ڈھال لیا کیونکہ وہ بیوروکریٹک اور فوجی اذہان جو برطانوی راج کے تربیت یافتہ تھے ان کے لئے اس کا تسلسل ایک قدرتی حکمت عملی تھی۔ تزویراتی مراکز کا دفاع کیا جائے جبکہ تزویراتی مضافات کو سرحد کے طورپر مرکز سے ایک علیحدہ فاصلے تک محدود رکھا جائے۔ لہذا مرکزی اور شمالی پنجاب مراکز قرار پائے اور خیبر پختونخواہ بشمول سابقہ قبائلی علاقے اور بلوچستان تزویراتی مضافات قرار پائے۔

برطانوی راج کے دوران فوج میں صرف مارشل نسل کو بھرتی کیا جاتا تھاجو کہ عام طور پر پنجابی مسلمان اور سکھ تھے

اس حکمت عملی کو سرمایہ دارانہ نظام کی منطق کی رو سے پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ سرمایہ داری نظام کے خواص میں یہ شامل ہے کہ وہ اس طرح کی تقسیم کا عمل سرانجام دیتا ہے جس سے بازار کی منڈی مرکزی نوعیت کے بڑے شہروں اور قصباتی سطح کے چھوٹے شہروں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ معاشی سرگرمیاں، سرمایہ کاری اور ترقیاتی عمل کا مرکز بڑا شہر ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بڑے شہر کی ترقی کی قیمت چھوٹے شہر کی پسماندگی قرار پاتی ہے۔ اس منطق کا مکمل اطلاق اس دلیل کے تحت کے ہوتا ہے جسے لالچ کا اقتصادی فائدہ اور عدم مساوات کی فعال افادیت کہا جاتا ہے۔ ایوب دور اور اس سے بھی  پہلے ہونے ولی سماجی اور اقتصادی ترقی انہی روایتی تصورات  کی مرہون منت تھی۔ اس سےمتعلقہ گراف اور چارٹس جو کہ انویسٹمنٹ اور ڈویلپمنٹ فنڈز کے موضوعات پر ترتیب دیئے گئے تھے، اُنہیں خالد بن سعید کی شہرہ آفاق کتاب دی پولیٹیکل سسٹم آف پاکستان میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ترقیاتی عمل کے لئےمختص ایک بڑی رقم پنجاب کے حصے میں دینے کا مقصد یہ تھا کہ سرمایہ کاری کی مسابقت جنم لے۔ اس کی منطق یہ تھی کہ جب سرمایہ تقسیم کیا جائے تو وہ بہت سے ٹکڑوں میں منقسم ہوجاتا ہے اور یوں ملک کی مجموعی ترقی نہیں ہوسکتی۔

ان دوقوتوںاولاََ مرکز اور مضافات کی تقسیم اور ثانیاََ شہری قصباتی تقسیم کی معاشی منطق  کے سبب ثقافتی درجہ بندی کا عمل بھی وجود پاگیا۔ اس ثقافتی درجہ بندی کے نتیجے میں ایک گروہ کے بیانیے اور خیالات  کو دوسروں پرترجیح دی جانے لگی۔ اس ثقافتی نظم کے عمل  کے نتیجے میں ایک بحث نے جنم لیا اور ملک کی شاندار متنوع لسانی اور ثقافتی روایات یا تو پس منظر میں چلی گئیں یا وہ مٹادی گئیں۔ اردو نہ صرف ہرجگہ سمجھی جانے والی زبان بن گئی بلکہ اسے ثقافتی زبان کا درجہ بھی مل گیا اور یوں یہ صورت حال سامنے آئی کہ اگر خواندگی کے موضوع پر بھی کوئی بحث وجود میں آئے گی تو اسے  بھی اردو میں کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں، اس صورت حال کو جائز اور آئینی شکل دینے کے لئے  نئی پاکستانی ریاست نے ایک طبقے کی تکالیف کو مثلاََ تقسیم کے عمل کے دکھ کو بیان کرنے والے بیانئے کو دیگر طبقوں کے بیانئے پر فوقیت دی۔ اور یوں وقت کے ساتھ ساتھ ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں نہ صرف ایک زبان تک محدود ہوتی چلی گئیں بلکہ ایک خاص بیانئے پر مشتمل کہانیوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ انہوں نے ریاستی اشرافیہ کی ثقافتی ضروریات کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ یہاں پر بھی مضافات میں آباد پشتونوں اور بلوچوں کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ ان کی لسانی روایات کو اردوتک رسائی ہی میسر نہیں آئی کیونکہ اردو ان کی ادبی زبان ہی نہیں تھی۔ اور اگر کہیں ایسا کرنے کی کوشش کی بھی گئی تو وہ بالادست ادبی تصورات (جنہیں ثقافتی اسٹیبلیشمنٹ نے ترتیب دیاتھا) اس عہد کے زمان و مکان میں ان کی زندگیوں اور تجربات کا حصہ ہی نہیں تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ دقیانوسی نوعیت(اسٹرئیوٹائپنگ) کے تصورات بھی مضبوط ہوتے گئے۔ قابل ذکر تعداد میں اقلیت شمار ہونے والے پشتون ان دقیانوسی تصورات کا خاص نشانہ تھے۔ ان دقیانوسی تصورات میں پہلے پہل تو پشتونوں کا تمسخر اڑانے کے لئے انہیں اجڈ اور مسخرہ بنا کر پیش کیا گیا اوراس کے بعد  انہیں وحشت، لڑائی، جنگ اور سفاکیت کا استعارہ بنا دیاگیا۔ معاشی تنگ دستی نے پشتونوں اور دیگر اقلیتی اقوام مثلاََ بلوچوں کو مجبور کیا کہ وہ معاش اور ترقی کے مراکز کی جانب نقل مکانی کر جائیں۔ صحافت اور ثقافت کے ذرائع کا کامیابی سے استعمال کر کے پہلے پہل تو انہیں مرکزی دھارے سے خارج کرکے اجنبی بنادیا گیا پھر انہیں ادبی حلقوں سے علیحدہ کردیا گیا اور یوں تعصب کا آسان نشانہ بن گئے۔ بعد ازاں پشتونوں اور دیگر اقوام کو درپیش تعصب دوہرا ہوگیا۔ اولاََ انہیں قومی معاشی ترقی  کے عمل میں جائز حق سے محروم رکھا گیا اور ان کے ثقافتی  اور ادبی تجربات کو قومی سطح کی ثقافتی اور ادبی ابحاث سے خارج کیا گیا۔ ثانیاََ انہیں کم تر بنا کر ان پر غیر انسانی سطح کے دقیانوسی تصورات دھر دیئے گئے۔ اس طرح ان سے ان کا شرف انسانیت چھین لیا گیا۔ یہ ریاستی سربراہی میں نسل پرستی کی  ایک قسم ہے۔ اس طرح یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک خاص جغرافیائی اکائی اور اس سے تعلق رکھنے والے افراد کو خصوصی مراعات دی گئیں جن میں پنجاب اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

دقیانوسی تصورات (سٹریوٹائپنگ) نے نسل پرستی کو عوامی سطح پہ فروغ دیا ہے

لیکن پاکستان میں یہ اس قدر سہل نہیں ہے کہ نسل پرستی کی نشاندہی کرلی جائے اور اس کی مثالیں دیکھی جائیں۔ یہاں پر نسل پرستی اور اس سے متعلقہ موضوعات پرگفتگو سے جان چھڑانے کے بہت سے ذرائع موجود ہیں۔

اولاََ، جیساکہ پہلے بیان کیا گیا کہ یہاں نمائندگی کی طاقت والی دلیل دی جائے گی، یہ کہا جائے گا کہ اِس نسل  کے افراد یا اُس نسل کے افراد کے پاس نمائندگی کا حق موجود ہے اور وہ طاقت کے مراکز کا حصہ ہیں، آپ یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ انہیں کسی ایک قوم یا نسل کے مقابلے میں تعصب کا سامنا ہے؟

ثانیاََ، یہاں یہ بھی کہا جائے گا جسے مائیکل رالف ٹرولیٹ نے فارمولہ آف بینالائزیشن کا نام دیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ سے اس طرح کے سوالات پوچھے جائیں گے۔ آپ ان تعصبات کے متعلق کیا کہیں گے جو ترجیحی اقوام یا بالادست طبقے کے افراد کو درپیش ہوتے ہیں؟ ایسا تو نہیں ہے کہ ان کے سب اچھاہی اچھا ہے۔! اور یوں اس تھکا دینے والے بحث میں جس میں ناانصافیوں اور تکالیف کے درجے جانچنے کی لایعنی مشق کی جائے گی اس ساختیاتی نسل پرستی کا معاملہ ہی ختم کردیا جائے گا جو ایک نسلی گروہ برداشت کررہا ہے۔ مزید برآں طاقت کا عمومی نظام اس قدر لچکدار ہے کہ یہ قومی سطح پر  پسماندہ نسل کے ایک طبقے کو اپنے اندر شامل کرلیتا ہے ۔

لہذا نسل پرستی کے متعلق شکایات کو باآسانی مسترد کردیا جاتا ہے اور اگر کوئی اس پر بضد رہے تو اسے باغی قرار دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرلیاجاتاہے۔ اور اس تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ خاص طور پر نائن الیون کے بعد کی صورتحال نے پشتونوں پر آخری ضرب لگائی ہے۔ انہیں پہلے ہی دقیانوسی تصورات کے تحت  مضافات میں آباد سفاک افراد سمجھا جاتا تھا  اس کے بعد انہیں نسل پرستی کا شکار بنانے کے لئے باآسانی ایک نئی قسم میں شامل کردیا گیا۔ اب کی بار یہ ممکنہ طور پر قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار پائے ہیں۔

(مضمون نگار حرمت علی شاہ سوات کے رہائشی ہیں۔ آج کل جنوبی کوریا میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کررہےہیں)

مترجم: شوذب عسکری، بشکریہ فرائیڈے ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...