پاکستانی معیشت: آخر ہو کیا رہا ہے؟

231

پاکستانی معیشت میں اس وقت جو ہو رہا ہے وہ سب غیر متوقع ہے۔ مثال کے طور پہ حفیظ شیخ کی تعیناتی دیکھیں۔ حفیظ شیخ ویسے ہی معیشت دان، مشیر خزانہ ہیں جیسا بزنس کمیونٹی کو چاہیے۔ جو ان کے مسائل سمجھتا ہو، انہیں روایتی طریقے سے حل کرنا جانتا ہو اور یہ کہ بزنس کمیونٹی بھی سمجھ سکے کہ اس نے آئندہ کیسی پالیسیز بنانی ہیں تاکہ وہ اپنے بزنس معاملات بھی ویسے ہی پلان کر سکیں۔ لیکن حفیظ شیخ کی تعیناتی سے مارکیٹ میں بہتر سگنل ویسے نہیں گئے جیسے متوقع تھے ۔

سٹاک ایکچینج کا معاملہ نرا مختلف ہے۔ پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں اس وقت دو طرح کے انویسٹر ہیں:

فارن انویسٹرز: ان پر ایکسچینج ریٹ پالیسی کا براہ راست اثر ہوتا ہے۔ اگر کرنسی ریٹ گرتا جائے گا تو یہ بھی شیئر اونے پونے داموں بیچ کر بھاگ جائیں گے۔ مگر مارکیٹ کی اطلاعات کے مطابق گزشتہ حکومت کے آخری دنوں میں جب ان انویسٹرز نے سمجھ لیا تھا کہ مارکیٹ میں پولیٹیکل رسک بڑھ رہا ہے تو ان کی اکثریت اسی وقت بھاگ گئی تھی۔ پھر یہ کون لوگ ہیں جو اتنے پیمانے پر شیئرز بیچ کر پوری مارکیٹ کو گرائے جا رہے ہیں؟

لوکل انویسٹرز: انہوں نے فارن کرنسی میں ڈیل نہیں کرنی ہوتی۔ پھر یہ فارن کرنسی میں عدم استحکام کا زیادہ منفی اثر کیوں لے رہے ہیں ؟ فنانشل اکنامکس کا لٹریچر بتاتا ہے کہ ان پر منفی اثر زیادہ تر مہنگائی کی شرح، پولیٹیکل رسک، اور opportunity cost کا ہوتا ہے ۔ مگر یہ تو بیرون ملک کی سٹاک ایکسچینج میں زیادہ انویسٹ کرنے والے نہیں ہیں یوں opportunity cost کم ہے ( ہاں مہنگائی کی شرح اور بے یقینی کا اثر ہو سکتا ہے ) ۔ اگر مارکیٹ مستحکم ہونے جا رہی ہے تو انہیں شیئرز خریدنا چاہئے یا شیئرز ہولڈ (Hold ) کرنا چاہئے۔ یہ اتنے پیمانے پر شیئرز اونے پونے داموں بیچ کیوں رہے ہیں؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر سٹاک ایکسچینج اتنا مارکیٹ رسک کیوں توقع ( perceive ) کر رہی ہے؟

سٹاک ایکسچینج کو مارکیٹ رسک کا ایک اشاریہ (Indicator ) سمجھا جاتا ہے۔ اس پر ماہرین میں اختلاف ہے کہ یہ کتنا اچھا انڈیکیٹر ہے اور کتنا برا۔ مگر یہ بات فنانشل اکنامکس میں موجود ہے کہ اس کا شارٹ رن میں مارکیٹ میں سگنل یعنی اثر بہت مضبوط ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی سٹاک ایکسچینج ایک competitive مارکیٹ نہیں ہے۔ اس پر چار پانچ بڑے گروپس (جیسے عارف حبیب ) کا بڑا اثر ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عموما سیاسی مقاصد کے لیے بھی وقتی طور پر سٹاک مارکیٹ کو چڑھا یا اتار دیا جاتا ہے اس میں پاکستان کے دونوں سیاسی دھڑے (اسٹیبلشمنٹ اور سویلینز ) اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ سب وقتی ہوتا ہے۔ سٹاک ایکسچینج کی یہ مسلسل گراوٹ مجھے تو کم ازکم منصوبہ بند (Planned ) نہیں لگتی۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی سٹاک ایکسچینج ایک competitive مارکیٹ نہیں ہے۔ اس پر چار پانچ بڑے گروپس (جیسے عارف حبیب ) کا بڑا اثر ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عموما سیاسی مقاصد کے لیے بھی وقتی طور پر سٹاک مارکیٹ کو چڑھا یا اتار دیا جاتا ہے اس میں پاکستان کے دونوں سیاسی دھڑے (اسٹیبلشمنٹ اور سویلینز ) اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ سب وقتی ہوتا ہے

کچھ دن پہلے ایکسپریس ٹریبیون کی ایک خبر نے مجھے کچھ سوچنے سمجھنے پر مجبور کیا۔ خبر تھی کہ پاکستان کی کل قومی پیداوار (اور فی کس پیداوار) میں آٹھ فیصد کمی آئی ہے۔ اس خبر کو پڑھنے کے دو زاویے ہیں۔

اگر کل قومی پیداوار کو ڈالر میں تبدیل کر کے دیکھا جائے تو آٹھ فیصد کمی آئی ہے۔

اگر روپے میں ہی رہنے دیا جائے تو تقریبا 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ خبر مثبت بھی بن سکتی تھی۔ اگر اکنامکس کی رو سے دیکھا جاتا تو صرف مہنگائی کی شرح کو کل پیداوار سے منفی کر کے بتا دیا جاتا کہ کتنا اضافہ اور کتنی کمی آئی ہے۔ مگر ڈالر میں تبدیل کر کے خبر بنانے کا کیا مقصد ہے؟ ڈالر میں تو اس وقت تبدیل کیا جائے جب آپ بیرونی قرضوں سے اس کا موازنہ کریں یا دنیا کی دیگر معیشتوں سے (اس کے لئے بھی قومی پیداوار کی PPP میں ویلیو معیار ہے نہ کہ ڈالر میں کل ویلیو ) ۔ سوال یہ ہے کہ منفی خبر بنا کر منفی تأثر پھیلانے کی کیا ضرورت ہے؟ مارکیٹ میں Sentiments کا بڑا اہم کردار ہے۔ جب انویسٹر ڈر جائے تو وہ پیداوار کو کم کرنے کی طرف جاتا ہے۔ اس سے مارکیٹ میں گروتھ کم ہوتی ہے جو مزید خوف کو پیدا کرتی ہے۔ مارکیٹ میں انویسٹر ہر وقت جمع تفریق ضرب تقسیم کر رہا ہے۔ اگر آپ نے اسے ایک بار ڈرا دیا تو اس کا منفی اثر زائل ہوتے بہت وقت لگتا ہے۔

اسد عمر کا سب سے بڑا قصور ہے کہ اس نے اناڑی مگر مخلص ملازم کی طرح ایسے behave کیا ہے کہ سب مارکیٹ sentiments اس وقت انتہائی حد تک منفی ہیں۔ یہ معاملہ مسلم لیگ ن کے دور میں نہیں تھا۔ مسلم لیگ ن پر بزنس کمیونٹی کسی بھی سیاسی جماعت سے زیادہ اعتبار کرتی ہے کیونکہ ان کی سمت کلیئر ہے وہ پرو ڈویلپمنٹ ہیں، مارکیٹ کو اعتماد میں لے کر چلتے ہیں، معیشت کے روایتی پہلووں کو خوب سمجھتے ہیں، ٹھیک ٹھاک تجربہ موجود ہے اور سب سے اہم یہ کہ وہ مارکیٹ کو مستحکم کرنے والے سگنل دیتے ہیں۔ ان کے دور میں مارکیٹ نہ صرف مستحکم رہی بلکہ انہوں نے آئی ایم ایف سے قرض کم سے کم شرائط پر لیا اور اس سے مارکیٹ کو اتنا مضبوط سگنل دیا کہ مارکیٹ اس سے مزید مستحکم ہوئی۔

موجودہ صورتحال مکمل بے یقینی کی ہے۔ جیسا کہ اوپر میں نے پورا پس منظر بیان کیا اس کی رو سے، اگر صورتحال ایسی ہی رہتی ہے جیسی کہ اب ہے، آئی ایم ایف کے ڈالروں سے بھی استحکام نہیں آنا۔ اس کے خاتمے کے لئے اوّل تو یہ ضروری ہے کرنسی ریٹ کی جس شرح کو نیچورل سمجھا جا رہا ہے اس پر کرنسی ریٹ کو فورا جانے دیا جائے۔ اس کے بعد اس کے شارٹ رن میں استحکام کے لئے اگر کوئی سرگرمی دکھائی جاتی ہے دکھائی جائے۔ اسے آہستہ آہستہ گھسیٹ کر اور روک روک کر اوپر لے جانے کا یہی نتیجہ ہو گا کہ سب انویسٹر اس وقت کا انتظار کریں گے جب کرنسی ریٹ مستحکم نہیں ہو جاتا۔ مگر آج تو خبریں آرہی ہیں کہ عید کے بعد مسلم لیگ (ن) سڑکوں پر آئے گی- اس سے مزید سیاسی و معاشی عدم استحکام آئے گا اور حالات دگرگوں ہوں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...