اب میری بیٹیاں بھی شاہ لطیف کی راگی گائیں گی

بِھٹ شاہ میں شاہ لطیف کے مزار پہ ان کا کلام پڑھنے والے راگی فقیر اب صرف مردوں تک محدود نہیں رہیں گے کیونکہ اب خواتین بھی اس عظیم صوفی درگاہ کی صدیوں پرانی روایت میں جوق در جوق شامل ہورہی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سندھ کی صوفی روایات میں کوئی نیا اضافہ ہے۔ ساٹھ سال پہلے تک یہ روایت قائم تھی۔ پھر اسلام کے نام پر  قائم مملکت ِ خداداد میں ایسی روایات دم توڑنے لگیں جہاں صنفی برابری یا صنفی مساوات کی کوئی صورت دکھائی دیا کرتی تھی کیونکہ درباروں اور درگاہوں کا انتظام ریاست نے اپنے اختیار میں لے لیا تھا۔

راگی فقیر، یہ بھٹ شاہ کے وہ عقیدت مند ہیں جو سیاہ رنگ کا لباس زیب تن کرتے ہیں۔ شاہ لطیف کے دربار پہ بیٹھتے ہیں۔ موسیقی کا ایک پنچ تاریا ساز جسے دنبورہ کہتے ہیں وہ بجاتے ہیں اور شاہ جو رسالو سے ماخوذ شاہ لطیف کا کلام ایک خاص سوز میں پڑھتے ہیں۔ شاہ لطیف کی گدی پہ براجمان ان کے بارہویں جاں نشین سید وقار حسین شاہ لطیفی بیان کرتے ہیں کہ خواتین اس سال کے آخر تک شاہ جو رسالو سے جڑی اس روایت کو سیکھنے میں طاق ہوجائیں گی اور رواں سال کے آخر میں ہجری کیلینڈر کے مطابق صفر کے مہینے تک  آئندہ عرس پہ مرد راگیوں کے شانہ بشانہ کلام پڑھیں گی۔ دربار بھٹ شاہ کے راگی فقیر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام سے وہ اشعار پڑھتے ہیں جن کی سند روایات کے مطابق ہے اور یہ سلسلہ اٹھارہویں صدی میں جب خود شاہ عبدالطیف بھٹائی حیات تھے تب سے جاری ہے۔

روزنامہ ڈان سے وابستہ سندھ کے مشہور صحافی محمد حسین خان بیان کرتے ہیں کہ شاہ لطیف کی شاعری کے بنیادی کردار عورتوں کے ہیں۔ سسی، مارئی، مومل، سوہنی، نوری، یہ سب وہ کردار ہیں جن کو انہوں نے اپنی شاعری میں بیان کر کے امر کر دیا ہے۔ انہوں نے مرد کے بجائے اپنے کلام کے اظہار کے لیے عورتوں کا انتخاب کیا ہے، تاکہ معاشرے کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ عورت جسے ہم کمتر سمجھتے ہیں وہ کسی بھی طرح کمتر نہیں، بلکہ ہمت، حوصلے، رومان اور مشکلات کا سامنا کرنے کی علامت ہے۔ گدی نشین سید وقار حسین شاہ نے کہا کہ دربار پہ راگیوں کی آواز مکمل نہیں تھی۔ اس میں خواتین شامل نہیں تھیں۔ اب جب وہ بھی اس میں شامل ہوجائیں گی تو شاہ جو رسالو کاپیغام سچے معنوں میں پھیلے گا۔ پچھلے سال کے آغاز میں جب راگی فقیر منٹھار علی جونیجو سے پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو راگی کے سفر پہ نکلتے ہیں تو انہوں نےجواب دیا تھا کہ میرے استاد نے کہا تھا کہ دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔ کوئی تو ایسا ہوگا جسے راگ کی چاہ ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا کہ جسے یہ چاہ نہیں ہوگی۔ لیکن وہ سب جنہیں اس راستے پر چلنا ہوگا وہ ضرور چلیں گے چاہے انہیں موت ہی کیوں نہ آجائے۔ تب تک راگی منٹھار علی جونیجو شائد خود بھی اس سے واقف نہیں تھے کہ ان کی اپنی بیٹیاں اس راہ چلنے کا فیصلہ کرلیں گی۔ اب جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے  بتایا کہ اب میری بیٹیاں بھی شاہ لطیف کا کلام پڑھیں گی۔ ان کی دو بیٹیاں اور دیگر دو لڑکیاں راگی سیکھ رہی ہیں۔ جب ہمارے پاس سات لڑکیاں راگ سیکھ جائیں گی تو ہم انہیں دربار پہ پڑھنے کی ڈیوٹی دے دیں گے۔

شاہ عبدلطیف بھٹائی کا تین روزہ عرس ہر سال 14 صفر کو شروع ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانیت کے بنیادی سوالات کے جوابات سے لے کر اپنی ماں دھرتی اور اس کی معاشرت کو محبت، برداشت، امن اور پرامن بقائے باہمی کا گہوارہ بنانے کا پیغام بھی موجود ہے

دربار پر ’’حاضری‘‘ کے مراحل جنہیں فقیر اپنی مقامی زبان میں ”ڈیوٹی” کہتے ہیں کے مختلف انداز ہوسکتے ہیں۔ دربار کے صحن میں جھاڑو دینا، مریدوں کو پانی پلانے کے لیے پانی بھر کرلانا، سماع، حلقہ اور دھمال میں شامل ہونا، کھانا پکانا اور نیاز بانٹنا، یہ سب اپنے مرشد بھٹائی کی خدمت بجا لانے کے مختلف انداز ہیں۔ ساٹھ سال پہلے عورتیں ان تمام ڈیوٹیوں میں شامل ہوا کرتی تھیں لیکن پھر حالات بدل گئے اور عورتوں کےلئے  دربار میں جگہ محدود کردی گئی۔

راگی فقیر محمد چانڈیو نے بتایا کہ فقیر بننے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس کی مثال یہی ہے کہ بس بیٹھ کرراگ گاتے رہو۔ وہ نشست جس پر فقیر بیٹھ کر راگ گاتے ہیں اسے ’’اڈی‘‘ کہا جاتا ہے جس کا اصطلاحاََ مطلب قصاب کی دکان پر لگا گوشت کاٹنے کا پھٹہ ہے۔ لفظی طور پر اس کے معنی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ عملی طور پر بھی ایسا ہی ہے کیونکہ فقیر اس نشست پہ بیٹھ کر اپنے وجود کو کاٹنے جیسے عمل کے لیے پیش کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں۔ ”یہ کوئی راگ نہیں ہے کہ جس سے ناچنا اور خوشی وابستہ ہو بلکہ یہ تو ”وراگ” (بین) ہیں۔یہ تو دل کا راگ ہے۔ یہ اندر سے آتا ہے۔‘‘

خواتین کو راگی بننے سے کیوں روک دیا گیا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سید وقار حسین شاہ نے بتایا کہ 1960 میں حکومت پاکستان نے محکمہ اوقاف کے ذریعے ملک بھر میں قائم درباروں اور درگاہوں کا نظام  خود اپنے اختیار میں کرلیا تھا۔ ایسا ہمیشہ نہیں تھا کہ خواتین راگ نہیں پڑھتیں۔ ہمارے سامنے ایسے کئی افراد موجود ہیں جو بتائیں گے کہ ان کی بزرگ خواتین دربار پہ راگ پڑھتی تھیں۔ لیکن جب محکمہ اوقاف کے پاس دربار کا اختیار گیا تو انہوں نے خواتین کے دربار کے اندر داخلے پہ پابندی لگا دی اور دربار پہ خواتین کی شمولیت کی حوصلہ شکنی کی۔ آہستہ آہستہ خواتین راگی ختم ہوگئیں اور یہ سلسلہ مکمل طور پر مردوں کی ذمہ داری بن گیا۔ اب چونکہ میڈیا کا دور ہے اور لوگ صنفی برابری اور اس کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں لہذا ہم نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ لوگ اسے پسند کررہے ہیں خاص طور پر خواتین میں اس کے حوالے سے بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اگرچہ محکمہ اوقاف کو یہ صورت حال پسند نہیں ہے لیکن اب وہ اسے روک بھی نہیں رہے۔ جب تک خواتین کو معاشرے کی ذمہ داریوں میں برابر شریک نہیں کیا جائے گا تب معاشرے میں ہم آہنگی اورمثبت  ترقی ممکن نہیں ہوسکتی۔

سندھ کی سات شہزادیوں کی داستانیں بیان کرنے والے شاہ عبدلطیف بھٹائی کا تین روزہ عرس ہر سال 14 صفر کو شروع ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانیت کے بنیادی سوالات کے جوابات سے لے کر اپنی ماں دھرتی اور اس کی معاشرت کو محبت، برداشت، امن اور پرامن بقائے باہمی کا گہوارہ بنانے کا پیغام بھی موجود ہے۔ سندھ کے باسی وہ عورتیں ہوں یا مرد، ہر مشکل دور اور مصیبت میں شاہ جو رسالو کی ابیات گاتے ہوئے انسانیت سے محبت کا پیغام پھیلاتے رہے ہیں۔

(اس مضمون کی تیاری کے دوران ذوالفقار کنبھر، محمد حسین خان اور پی لنگ ہانگ کی تحاریر سے استفادہ کیا گیا)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...