ہیرو ازم کو خیر باد کہیے

ہیرو نما کردار ہر عہد میں موجود ہوتے ہیں۔ اگرچہ جدید دنیا عملیت پسندی اور منطقیت کے رجحانات کی حامل ہے لیکن کرشماتی اور مقناطیسی شخصیت کی پذیرائی اب بھی کی جاتی ہے۔ ان لوگوں کی اول و آخر خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ انسانی نفسیات اور میلانات کے ساتھ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے پیچھے چلنے والے معاشرہ کے مایوس لوگ ہوتے ہیں یا کسی آئیڈیالوجی کے حامل۔ ہرعہد میں مسلمانوں سمیت ہرقوم  کے ایک طبقے کا ہیرو بھی توانائی سے بھرپور ایسا فرد رہا ہے جو کبھی گھوڑے کی پشت پر پیٹھ کر دشمن کے چھکے چھڑاتا، حکومت وقت کو چیلنج کرتے ہوئے ہنگامہ ہائے ہو برپا کرتا اور مر کر امر ہو جاتا تھا۔ ایسے لوگوں کے لیے بہت دلکش القابات تشکیل دیے گئے ہیں مثلاً مرد قلندر، مرد مومن، مرد بحران، مسیحا، بندہ قدسی صفات وغیرہ۔

ہیرونما کردار اکثر جسمانی اعتبار سے بھی متناسب الاعضا ہوتے ہیں اور لوگ اس سے متأثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہیروز کے حلیے کے بیان میں ان کی جسمانی خوبیوں کا تذکرہ بھی اکثر ملتا ہے۔ یہ اگر کسی بحران کے وقت سامنے آجائیں تو عوام کی بڑی تعداد کو اپنی خود اعتمادی سے سہارا دے کر انہیں ایک جنون مین مبتلا کر دیتے ہیں۔ ان کی افتاد طبع کو نہ خود منزل سے غرض ہوتی ہے اورنہ ہی یہ کوئی منزل حاصل کر پاتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک:

اس جہد و طلب سے ہی قائم بنیاد ہے بزم ہستی کی

وہ موج فنا ہو جاتی ہے جس موج کو ساحل ملتا ہے

یہ طلاقت لسانی کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اس سے یہ عوام کے جذبات میں تلاطم اور سونامی برپا کر دیتے ہیں اور اسی زباں آوری کی وجہ سے تاریخ میں اپنے خطبات اور اقوال کی بنا پر یاد رکھے جاتے ہیں۔ ان کے خطبات کی خصوصیت بلند آہنگی لیکن غیر حقیقت پسندانہ باتیں ہوتی ہیں جو عام سطح کے ذہنوں کو بہت متأثر کرتی ہیں۔ ان کے اثر سے چند معتدل مزاج اہل فکر و نظر ہی بچ پاتے ہیں مگر ایسے  کم  ہوتے ہیں اور ان کی شنوائی بھی کم ہی ہو پاتی ہے ۔ یہ اگر صاحبان اختیار و حکومت ہوئے تو انہوں نے دنیا میں بہت نقصان پہنچایا۔ سکندر اعظم، چنگیز خان، ہٹلر اور مسولینی اسی قبیل کے افراد تھے۔ اور اگر یہ بے اختیار تھے تو اختیار کی طلب میں انھوں نے بساط بھر سماج میں فساد برپا کیا۔ ایسے بزعم خود مصلحین کی ایک لمبی فہرست ہرقوم کی تاریخ میں مل جائے گی۔ ان افراد کی سب سے بڑی خوبی یا خامی ان کی کم دماغی اور اسی بنا پر اپنے غیر حقیقی مگر خوش نما نظریات اور تصورات سے دیانت دارانہ وابستگی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کے لب و لہجے میں زور اور تاثیر بھی ہوتی ہے۔ ان کے بلند آہنگ دعووں اور باتوں کے تجزیہ کی صلاحیت سے عاری عوام کے لیے ان کے لفظ کسی وحی کی طرح مقدس اور حرف آخر ہوتے ہیں۔

 پاکستانی سماج میں کرشماتی شخصیت اب بھی جاذب نظر ہے اور ہم اس کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ اجتماعی معاملات میں ہیروازم کے اس رومانس کو خیر باد کہہ دیا جائے

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ زمینی حقائق کا ادراک رکھنے والے اور متحمل مزاج قسم کے مفکر رہنما ہی دراصل قوم کی تقدیر کے اصل لکھاری ہوتے ہیں۔ وہ اس روایتی ہیرو کی طرح نہیں لگتے۔ بلکہ ہیرو ہی نہیں لگتے۔ وہ بلند آہنگ نہیں ہوتے۔ وہ جذبات سے نہیں کھیلتے۔ وہ نارمل اور سادہ گو ہوتے ہیں۔ لمبے چوڑے منصوبے نہیں بناتے، خواب نہیں دکھاتے۔ وہ موجود مسائل کا ادراک رکھتے اور اس کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں جو اکثر دیر اثر اور سست رو ہوتا ہے۔ یہ تصادم سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اس کے لیے سمجھوتے کرتے ہیں، اسی لیے یہ روکھے پھیکے محسوس ہوتےہیں۔ اس کے بالمقابل  کم دماغ اورتوانائی سے بھرپور ہیرو ایسے آزمائشی حالات میں بھڑک اٹھتا ہے۔ نتائج کی پروا کیے بغیر تصادم کی راہ اختیار کرتا اور دوسروں سمیت خود کو تباہ کر کے امر ہو جاتا ہے۔ اس کا انجام المیہ ہوتا ہے جو اس کی شخصیت میں اور تابناکی پیدا کردیتا ہے۔ ہمارے فلموں، ناولوں اور اجتماعی قومی تصورات کا ہیرو آج بھی ایک اینگری ینگ مین ہے۔ قوم چاہے بھوکے پیٹ ہو مگر وہ دشمنوں کو للکارتا نظر آنا چاہیے۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ کٹھن دور میں مشکل کام تو جینا ہوتا ہے موت تو آسان ہوتی ہے، ہر شخص ہی مرسکتا ہے۔

پاکستانی سماج میں کرشماتی شخصیت اب بھی جاذب نظر ہے اور ہم اس کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ اجتماعی معاملات میں ہیروازم کے اس رومانس کو خیر باد کہہ دیا جائے۔ اپنے بچوں کو ایسے ہیرو کے طلسم سے بچائیں۔ انھیں جذبات انگیخت کرنے والے بیانات و خطبات کی حقیقت سمجھائیں۔ انہیں غیر حقیقی آدرشوں اور جھوٹے سرابوں کے پیچھے بھاگنے سے روکیں۔ حقائق جیسے ہوتے ہیں ویسے دیکھنے کی تربیت دیں۔ تب ہی ہم اپنے مسائل کا درست اداراک کر سکیں گے اور اپنے اصل ہیروز کو پہچان سکیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...