عوام تو ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں

ایک شخص رقم ہاتھ میں اٹھائے ادائیگی کرنے کے لیے قطار میں کھڑا ہے مگر وصول کنندہ اسکے  ہاتھ میں موجود رقم وصول کرنے سے انکاری ہے اور بضد ہے کہ ادائیگی کا شوق رکھنے والے کو شرمندہ اور بے عزت کیے بغیر بات نہیں بنے گی اور صرف زیر جامے کی جیب میں رکھی ہوئی رقم ہی قابل قبول ہو گی۔ یہی وہ اصل مسئلہ ہے جس سے آج پاکستان کی وزارت خزانہ دوچار ہے، باقی سب قصے اور کہانیاں ہیں۔

پاکستان بننے کے فورا بعد سے ہی اس ملک میں بحیثیت مجموعی گورننس مختلف پیچیدہ مسائل کا شکار رہی ہے۔ گورننس کا مسئلہ آج بھی اتنا ہی پیچیدہ اور گمبھیرہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عملی حکمرانی کو یہاں کے باسیوں کی نفسیات اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کیا ہی نہیں گیا اور ہمیشہ کسی درآمد شدہ حل کو ٹھونسنے کی کوشش کی گئی ہے یا فوری نتائج حاصل کرنے کے لئے ایسے کم مدتی حل اختیار کیے گئے جن کی مدد سے محکموں نے اپنے اہداف تو شاید حاصل کر لیے ہوں مگر ان پالیسیوں کے مضر اثرات آج تک ہمارا پیچھا کر رہے ہیں۔ نظامِ محاصل کو ہی لے لیجئے، پاکستان بننے سے لے کر آج تک کبھی بھی ٹیکس نظام کو مقامی نفسیات میں ڈھالنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ جب بھی حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ٹیکس کی شرح میں اضافہ کو ہی آسان حل کے طور پر اختیار کیا گیا اور انہی افراد کو مزید نچوڑنے کو ترجیح دی گئی جو پہلے سے ہی ٹیکس ادا کر نے کا جرم کر رہے تھے۔ جوں جوں ٹیکس کی شرح بڑھتی گئی، ویسے ہی ٹیکس ادا کرنے کا ارادہ کرنے والوں کے خوف میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ بات یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ ساتھ ساتھ ٹیکس وصول کرنے والے افسران کے صوابدیدی اختیارات اور کمائی بھی بڑھتی اور حکومتی آمدن سکڑتی چلی گئی۔

بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت میں ہمیشہ سے من حیث المجموعی اہلیت کا فقدان رہا ہے۔ گوکہ استثناء کے طور پر چند اہل لوگ بھی سیاسی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں مگر عام طور پر وہی لوگ کابینہ میں شامل رہے جن کے پاس بیوروکریسی پر اندھے اعتماد کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود ہی نہیں ہوتا اور بیوروکریسی میں بھی انگلیوں پر گنے جانے والے چند افسران کو چھوڑکر اکثریت ان افسران کی ہوتی ہے جو مسائل کے کتابی حل میں ایمان رکھتے ہیں اور انٹرنیٹ سرچ انجن کا استعمال کرتے ہوئے کسی دوسرے ملک میں رائج نظام کو اٹھاکر من وعن یہاں رائج کرکے اپنی لیاقت اور قابلیت کی دھاک بٹھانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ اگر کسی وزیر یا سکریٹری نے حالات میں بہتری لانے کے لیے کوئی مشاورتی نظام وضع کرنے کی کوشش بھی کی تو یہاں بھی ایک سنگین غلطی کو بار بار دہرایا گیا کہ اس مشاورتی عمل کا حصہ بھی صرف اور صرف سرکاری افسران کو ہی بنایا گیا۔ کسی نے بہت بڑی چھلانگ لگائی تو کچھ ریٹائرڈ اور نیک نام سرکاری افسران کو بھی شامل کرلیا جو بہرحال سرکاری افسر ہونے کے ناطے ہر چیز کو اپنے مخصوص نقطہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں اور ان کی آنکھوں پر صرف سرکاری عینک ہی فٹ آتی ہے نتیجہ میں ایسا مشاورتی عمل اپنی تمام تر توانائیاں ٹیکس دہندہ کے گرد پہلے سے موجود شکنجے کو مزید کسنے اور نظام کو اس کے لیے مزید پیچیدہ اور مشکل بنانے میں صرف کرتا ہے۔ تاریخی طور پر اس پورے عمل کے دوران کبھی بھی ٹیکس مشینری کی بداعمالیاں، بدعنوانیاں اور نااہلیاں نہ تو کبھی زیربحث آئیں اور نہ ہی ان کے  تدارک کا کوئی بندوبست کیا گیا۔ پاکستان کے طول و عرض میں رہنے والے کسی بھی درجے کے کاروباری یا تنخوادار سے بات کرلیں کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جو مناسب ٹیکس ادا کرنے کے لئے بخوشی رضامند نہ ہو۔ اگر وہ خوفزدہ ہے اور بھاگتا ہے تو نظام کی پیچیدگیوں، ٹیکس فارمز کی غیر ضروری طوالت اور محکمہ ٹیکس کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تأثر سے۔ معاشرے میں ٹیکس ادائیگی کے بارے میں بکثرت موجود عمومی رضامندی کا اندازہ صرف ایک مثال سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک لوئر مڈل کلاس کا کاروباری یا تنخواہ دار کنبہ اوسطا آٹھ سے دس ہزار روپیہ سالانہ صرف موبائل کالز پر ٹیکس کی مد میں ادا کرتا ہے اور چوں تک نہیں کرتا۔ اسی طرح جائیدادوں کی خرید و فروخت  میں لوگ ایک ایک سودے میں لاکھوں روپیہ بطور ٹیکس ادا کرتے تھے اور ان کی پیشانی پر شکن تک نہیں آتی تھی کہ اسی دوران حکومت نے نان فائلرز کے لیے جائیداد اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگا کر نہ صرف ٹیکس وصولی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بند کر دیا بلکہ ایک بہت موثر معاشی سرگرمی پر بھی پابندی لگا کر بے روزگاری اور افلاس کے فروغ کا ایک راستہ کھول دیا۔

 پاکستان کے طول و عرض میں رہنے والے کسی بھی درجے کے کاروباری یا تنخوادار سے بات کرلیں کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جو مناسب ٹیکس ادا کرنے کے لئے بخوشی رضامند نہ ہو۔ اگر وہ خوفزدہ ہے اور بھاگتا ہے تو نظام کی پیچیدگیوں، ٹیکس فارمز کی غیر ضروری طوالت اور محکمہ ٹیکس کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تأثر سے

ہر قوم کا ایک مخصوص مزاج اور نفسیات ہوتی ہے اور حاکم  وقت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس نفسیات کو نہ صرف سمجھے بلکہ صرف وہ قوانین، ضابطے اور پالیسیاں بنائے جو اس مزاج کے عین مطابق ہو ں۔ حاصل کلام بات یہ ہے کہ پاکستانی قوم ٹیکس دینے سے نہیں گھبراتی اوراس سے باآسانی ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے، اصل مسلہ اس کی پسند کے طریقہ کار کا ہے۔ جب لوگ بالواسطہ ٹیکس( indirect tax)   کی شکل میں بخوشی بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتے تو حکومت کیوں بضد ہے کہ بلاواسطہ ٹیکس( direct tax ) وصول کرے گی۔ ہاں حکومت یہ ضرور کرے کہ بنیادی ضرورت کی اشیا پر ٹیکس نہ لگائے اور تعیشات پر ٹیکس کی شرح بلند رکھے۔ جب کوئی شہری صرف ایک لیٹر پٹرول پر بخوشی 30 روپے، کسی عام سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے پر باآسانی چند سو روپے اور ایک پیپسی کوک یا پانی کی بوتل پر آٹھ دس روپے کا ٹیکس ادا کر رہا ہے اور اعتراض نہیں کرتا تو حکومت کو کیا اعتراض ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کو مناسب ترغیبات کے ساتھ دھیرے دھیرے ٹیکس نیٹ میں لانے کا عمل بھی جاری رکھنا چاہئے نہ کہ خوف و ہراس پھیلا کر تمام تر معاشی سرگرمی ہی روک دی جائے۔ آگاہی مہم، نہ کہ پکڑ دھکڑ مسئلے کا حل ہے۔

اصل بات کی طرف نہ ایف بی آر کے ذمہ داران جاتے ہیں اور نہ حکومتی مشیر، اور وہ ہے ٹیکس وصولی میں ہونے والی چوری کا سد باب جس کی ذمہ دار ٹیکس مشینری کی نااہلی اور بدعنوانی ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے صرف دو مثالیں کافی ہیں ، صرف اسلام آباد جیسے چھوٹے سے شہر میں واقع ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے والے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کی ادائیگی کرتے ہیں جس میں سرکاری ٹیکس کا تناسب لگ بھگ پندرہ فیصد ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا گاہکوں کی جیب سے نکلنے والا یہ پندرہ فیصد حکومتی خزانے تک پہنچ پاتا ہے یا ریسٹورنٹ مالکان اور سرکاری عمال کی ملی بھگت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کیا ایک عام جوس کے ڈبے اور کولڈرنک کی ایک بوتل پر تقریبا پانچ روپے کی ڈیوٹی بھی سرکاری خزانے میں پہنچ پاتی ہے یا نہیں۔ پچھلے ستر برس میں جب بھی ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی شرح بڑھانے کی بات ہوئی تو مختلف ٹیکسوں کے نرخ بڑھانے اور نظام کو پیچیدہ بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا۔

ذرا سالانہ ٹیکس ریٹرن فارم پر نگاہ دوڑائیں، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک ایم اے پاس شخص بھی اس پیچیدہ فارم کو نہیں  سمجھ سکتا، پُر کرنا تو دور کی بات ہے۔ کم محاصل کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نہ تو کسی لال بجھکڑ کی ضرورت ہے اور نہ ہی  کسی پی ایچ ڈی ڈگری کی۔ آج بھی اگر حکومت کراچی کی طارق روڈ سے لے کر کلرسیداں کے مین بازار میں واقع کسی بھی قسم کی  معاشی سرگرمی کے چھ یا سات درجے بنادے اور ان تمام درجوں کے لئے دس ہزار روپے سالانہ سے لے کر دو لاکھ روپے سالانہ تک کا ٹیکس مقرر کرکے یہ حکم نامہ جاری کرے کہ ہر کاروبار کا مالک مقررہ رقم ایک مخصوص اکاؤنٹ میں جمع کروا کر رسید نمایاں جگہ پر لگا دے اور تمام ٹیکس مشینری اس رسید کی چیکنگ اور تصدیق پر مامور ہو تو پانچ ہزار ارب توکیا سالانہ پچاس ہزار ارب روپیہ ٹیکس اکٹھا ہو سکتا ہے مگر اس سے بہت سی کمائیاں اور روزگار بند ہو جائیں گے۔ فی الحال تو یہی مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ادائیگی کرنے والا تو رقم ہاتھ میں اٹھائے ادائیگی کی قطار میں کھڑا ہے مگر کیا کریں کہ وصول کنندہ اسکے ہاتھ میں موجود رقم وصول کرنے سے انکاری ہے اور بضد ہے کہ ادائیگی کا شوق رکھنے والے کو شرمندہ کیے بغیر بات نہیں بنے گی اور صرف زیرجامے کی جیب میں رکھی ہوئی رقم ہی قابل قبول ہوگی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...