افطاریوں کی بہار

پرانے زمانے کے لوگ بھی کیا لوگ تھے رمضان شریف کو بہار ِقرآن سمجھتے تھے۔ قرآن تو اس مہینے میں اب بھی پڑھا جاتا ہے لیکن اب اس طبقے میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جو اسے افطاریوں کی بہار سمجھتے ہیں۔ بڑے شہروں میں خاص طور پر اولڈ فیشن لوگ کم ہوتے چلے جارہے ہیں اور مارڈنزم کے تقاضوں کو سمجھنے والے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو گھر میں معمولی سے عصرانے کے بعد افطاری کے لیے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ افطاری کے لیے بعض سنجیدہ لوگ گاہے بیگم سے ناراض ہو رہے ہوتے ہیں کہ تم نے چائے کی تیاری میں دیر کردی، افطاری کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

ضروری نہیں کہ افطار پارٹیوں میں شریک سب لوگ ایسے ہی ہوں بعض واقعی سارا دن بھوک پیاس سے رہتے ہیں اور پھر اہتمام سے کسی بڑے ہوٹل میں کسی افطار ڈنر میں شریک ہوتے ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے اکابر اور سرمایہ دار بڑے بڑے افطار ڈنرز کا اہتمام کرتے ہیں۔ عوامی رابطے کا موسم تو انتخابی موسم ہوتا ہے، افطار ڈنر خواص سے ملاقاتوں کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ جہاں پر شادی بیاہ میں ون ڈش کی پابندی ہے وہاں پر بھی افطار میں ورائٹی پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ افطاری کے نام پر پہلے بیسیوں آئٹمز اہل نظر کو بھی بھونچکا کے رکھ دیتے ہیں اوروہ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ ’’کس کس کو دل دوں، میں کس چکر میں ہوں‘‘

افطاری کے بعد ابھی افطار ڈنر باقی ہوتا ہے، اس کی ڈشز کا بھی حساب نہیں ہوتا۔ شاید ان تمام متنوع غذاؤں کو سب لوگ دیکھ بھی نہیں پاتے، کھانے کی حسرت تو پھر باقی ہی رہ جاتی ہے۔ کتنی ہی چیزیں ایسی ہوتی ہے کہ جو لذت کام و دہن بننے سے محروم رہ جاتی ہیں، کتنی ہی خواہشیں ہیں جو خشوع و خضوع سے افطاری کرنے والوں کے دل ہی میں رہ جاتی ہیں۔ کئی ایک سفارت خانے بھی موسم افطار کو غنیمت جانتے ہیں۔ سیاست دانوں، جرنیلوں، صحافیوں، مشائخ، علماء، افسرشاہی، شوبز کے اہم افراد اور دیگر شخصیات سے اکٹھی ملاقات کے لیے افطار ڈنر سے بہتر سال بھر شاید ہی کوئی موقع آتا ہو۔ وہ اپنے مدعوئین کی فہرستوں پر ایک نگاہ بازگشت ڈالتے ہیں اور پھر دعوتی کارڈ روانہ کردیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ عوام کو افطاری کروانے کے لیے بھی بہت سے لوگ اور ادارے سرگرم رہتے ہیں اور افطاری کے دسترخوان ملک بھر میں بچھے ہوتے ہیں لیکن بڑے لوگوں کی بڑی بات، ان کی محفلوں میں عام طور پر ’’بڑے‘‘ ہی شریک ہوتے ہیں۔ وہی بڑے جنہیں منصب و ریاست، سیادت و قیادت اور دربار داری کا اہل سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اس بات کی کوئی بازگشت نہیں ہوتی جسے قرآن نے روزے کا مقصد قرار دیا ہے، یعنی لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ تاکہ تم پھرہیز گار ہو جائو۔ یہاں ایسی محفلوں کی بھرمار ہے جہاں غریبوں سے پرہیز کیا جاتا ہے، محروموں کو محروم رکھا جاتا ہے۔ شاید عوامی زبان میں کہا جائے کہ انھیں ان کی ’’اوقات‘‘ کے مطابق رکھا جاتا ہے۔ امیروں کے جزیرے الگ اور غریبوں کے صحرا و جنگل الگ۔

ہم ہر روز کتنی ہی زبانوں سے سنتے ہیں کہ پاکستان میں چالیس فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ امراء کے بچوں کو کیا پتہ یہ خط غربت کیا ہوتا ہے اور اس سے نیچے کی زندگی کیا ہوتی ہے۔ اسی طرح سینکڑوں ڈشز پر مشتمل افطار پارٹیوں اور افطار ڈنرز میں شریک کتنے لوگ جانتے ہیں کہ کتنے فیصد غریبوں کو افطاری کے لیے آج کی شام صاف پانی بھی میسر نہیں آسکا

ان دنوں ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے جس میں ایک ہی تصویرکے دو حصے دکھائے گئے ہیں، ہنر مندی سے دو الگ الگ تصویروں کوجوڑا گیا ہے جس میں ایک حصہ امراء کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور دوسرا غریب، مفلوک الحال اور ستم رسیدہ انسانوں کی اذیت ناک زندگی کی حکایت کرتا ہے۔ ایک کے بعد ایک تصویر مختلف واقعات و حالات سے گزرنے والے لوگوں کی زندگی کے کسی نہ کسی شعبے سے پردہ اٹھاتی ہے۔ شاید دو حقیقتوں کو قریب کرکے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خدا جانے جن کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا وہ ایسی تصویروں کو دیکھتے بھی ہیں یا نہیں اور دیکھتے ہیں تو اس سے کیا اور کتنا اثر لیتے ہیں۔ ہم ہر روز کتنی ہی زبانوں سے سنتے ہیں کہ پاکستان میں چالیس فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ امراء کے بچوں کو کیا پتہ یہ خط غربت کیا ہوتا ہے اور اس سے نیچے کی زندگی کیا ہوتی ہے۔ اسی طرح سینکڑوں ڈشز پر مشتمل افطار پارٹیوں اور افطار ڈنرز میں شریک کتنے لوگ جانتے ہیں کہ کتنے فیصد غریبوں کو افطاری کے لیے آج کی شام صاف پانی بھی میسر نہیں آسکا۔

روزے کی فرضیت جس نبی کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے اس نے روزے کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا ہے کہ روزہ امیروں میں غریبوں کی بھوک کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ احساس امیر اور غریب میں دیواریں کھینچ کر پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ امراء کو غریبوں کی بستیوں میں اسی طرح جانے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے اسی دنیا کو سب کچھ سمجھنے والوں کے لیے کبھی کبھی قبرستان جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور جیسے صحت مند انسانوں کو اور اپنے جسم کی طاقت پر گھمنڈ کرنے والوں کو کبھی کبھی ہسپتالوں میں بھی جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ روزوں کے مہینوں سے بہتر کوئی مہینہ نہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے پیٹ بھر کر کھانے کے وسائل جنہیں دیے ہیں وہ غریبوں کی بھوک کا احساس کریں۔ ایک وقت کی روٹی جو بچ رہتی ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے کسی بھوکے تک پہنچنا چاہیے لیکن یہ ہم کس کے سامنے بانسری بجا رہے ہیں، کیا ان کے سامنے کہ جن کے کھانے کا سامان اس مہینے میں فراواں اور گراں قیمت ہوجاتا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں تدبیروں کا الٹا ہو جانا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...