نجیب محفوظ: عربی ادب کا تابندہ ستارہ

بیسویں صدی میں مسلم دنیا کے اندر ناول نگاری کی صنف میں کئی بڑے نام سامنے آئے۔ نجیب محفوظ ان میں سے ایک مشہور شخصیت ہیں۔ انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا اور ان کے ناولوں کے تراجم دنیا کی متعدد زبانوں میں کیے گئے۔ اس عظیم ادیب کی شخصیت اور فن کے کئی اہم اور دلچسپ پہلو ہیں۔ ان میں سے بعض کو یہاں درج کرنے کی کوشش کریں گے۔

نجیب محفوظ سادہ گو اور خوشگوار طبیعت کے مالک تھے۔ انہیں غصے میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اعصاب انتہائی مضبوط تھے۔ قاتلانہ حملے اور شدید مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجود چہرے سے مسکراہٹ غائب نہیں ہوئی۔ حکومت کی جانب سے ایک بار پیغام موصول ہوا  آپ کو ایک محافظ  دیدیتے ہیں، ہنستے ہوئے کہا، ہوسکتا ہے وہی مجھے مار دے، کیونکہ میں روزانہ اتنا پیدل چلتا ہوں کہ وہ آخرکار تنگ آجائے گا۔ شورشرابے اور گاڑیوں سے بیزاری تھی۔ شہر کے اندر پیدل چلنے کو ترجیح دیتے۔ استطاعت کے باوجود ساری زندگی گاڑی نہیں خریدی۔ بڑھاپے میں بھی چال میں لڑکھڑاہٹ نہیں تھی۔ باریک بین، بلا کے حاضر جواب اور بذلہ سنج تھے۔ وقت کے اتنے پابند تھے کہ سگریٹ پینے کا بھی ٹائم مقرر کر رکھا تھا۔ موسیقی سے دیوانگی کی حد تک وابستگی تھی۔ ان کے ناولوں میں بھی گانوں کے بول ملتے ہیں۔ سینما کے ساتھ بچپن سے ہی لگاؤ تھا۔ جب چھوٹے تھے تو ایک فلم دیکھنے کے بعد اس کے ایک منظر کو عملا دہرانے کا سوچا۔ خود ڈاکٹر بنے اور گھر کی خادمہ کو مریضہ بنایا اور اسے لیٹنے کا کہا۔ منظر آپریشن کا تھا۔ چھری کے ساتھ خادمہ کے جسم پر حقیقت میں زخم لگا ڈالا۔ مریضہ چِلائی اور سارے گھر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اس کے بعد نجیب محفوظ پر خصوصی نظر رکھی جاتی، کہیں دوبارہ ایسی بے وقوفی نہ کردے۔ نوجوانی میں کتاب کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ مطالعہ کا جنون تھا۔ قاہرہ کے پرانے گلی محلوں میں گھومنا اور قہوہ خانے میں بیٹھنا ہمیشہ پسند رہا۔

کتاب کمرہ میں

نجیب محفوظ کی حیات میں جمال عبدالناصر اور انور سادات کے دور حکومت انتہائی گہما گہمی کے تھے۔ وہ جمال عبدالناصر سے کتراتے تھے اور ان  کی حکومت کو اتنا پسند نہیں کرتے تھے۔ جبکہ انور سادات سے تعلق قائم تھا اور ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اگرچہ ان پر تنقید بھی کی۔ ان کے صدر سادات کے ساتھ کئی دلچسپ واقعات بھی کتب میں درج ہیں۔ ایک دفعہ صدر صاحب سے کسی پروگرام میں سامنا ہوا تو انہوں نے چھوٹتے ہی کہا، نجیب میں تم سے ناراض ہوں، انہوں نے وجہ پوچھی تو سادات نے جوابدیا، تمہارا ایک نیا ناول آیا ہے ’’ابتدا وانجام‘‘( انگریزی نامThe Beginning and the End ) اس میں فوجی کردار خودکشی کر لیتا ہے، تمہیں پتہ ہے کہ فوج ہم ہیں۔ نجیب محفوظ مبہوت ہو کر رہ گئے اور بعد میں کہتے تھے، حد ہے صدر صاحب کی نظر صرف اسی  منظر پہ جاکے ٹھہری۔ انور سادات نے ایک بار ملک کے کچھ  ادیبوں اور صحافیوں کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ نجیب محفوظ نے اعتراض کیا، یہ بات صدر سادات تک پہنچی تو انہوں نے کہا میرے خیال میں اسے ڈگری نہیں چاہیے۔ نجیب محفوظ نے تمام عمر کوئی اعزازی ڈگری نہیں لی۔ ان کی رائے تھی یوں تقسیم کرنے سے اس کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ مصر کی حکومت نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کا مجسمہ تیار کراکے قاہرہ کے ایک چوک میں نصب کرایا۔ جب نجیب محفوظ اسے دیکھنے گئے تو ہنس پڑے اور کہا، لگتا ہے اسے بنانے والے نے میرا صرف ایک ناول ’’ گداگر‘‘ ( انگریزی نامThe Beggar)  پڑھ رکھا تھا۔ اس نام سے ان کا ایک مشہور ناول ہے۔

نجیب محفوظ کا مجسمہ قاہرہ کے ایک چوک میں ایستادہ

نجیب محفوظ کی ادبی زندگی کے تین ادوار ہیں۔ پہلا عہد تاریخی ناول نگاری کا ہے، جس میں انہوں نے بالخصوص تہذیبِ فراعنہ کے مختلف ادوار کی عکس بندی کی ہے۔ اس پر ان کے تین ناول زیادہ مشہور ہیں جو بالترتیب ان عنوانات کے ساتھ شائع ہوئے، تقدیر کے کھیل (انگریزی نام Khufu’s Wisdom ) ، رڈاپس(انگریزی نام Rhadopis of Nubia)، اور اہل طیبہ کی جدوجہد(انگریزی نام Thebes at War )۔ جب سید قطب صرف ادیب تھے اور اخوان کے ساتھ رشتہ گہرا نہیں تھا تو وہ طلبہ کو آخرالذکر ناول  پڑھنے کی تاکید کرتے تھے اور کہتے کہ اسے پڑھنے سے مصر کی تاریخ اور اہل مصر کی عظمت بارے بہت بہترین آگاہی ملتی ہے۔ نجیب محفوظ کو مصر کی قدیم تہذیب کے ساتھ بچپن سے ہی خاص لگاؤ تھا۔ جب وہ چھوٹے تھے ان کی والدہ انہیں کثرت سے مصری تہذیب کے تاریخی ورثے اور آثار دکھانے لی جاتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے اندر تجسس اور اس سے اُنس کے جذبات پیدا ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ زمانہ طالب علمی میں جیمز بیکی کی کتاب ’’ قدیم مصر‘‘ نے بھی اس تعلق کی مضبوطی میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس کتاب کا انگریزی سے عربی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ وہ اپنا تہذیبی رشتہ قدیم مصر کے ساتھ جوڑنا پسند کرتے تھے۔ اپنے استاد توفیق الحکیم کے ناول روح کی واپسی کے بارے اظہارخیال کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اس سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس ناول میں توفیق الحکیم نے قدیم مصری تہذیب کے احیا کے تصور کو پیش کیا اور لکھا کہ اہل مصر کی حقیقی شناخت یہی ہے۔ والٹر سکاٹ سے متأثر تھے جنہوں نے انگلینڈ کی تاریخ ناول کی صورت میں لکھی ہے۔ شروع میں نجیب محفوظ کا عزم تھا کہ وہ مصر کی پرانی تاریخ پر چالیس ناول تصنیف کریں گے لیکن پھر سیاسی وسماجی حالات نے ان کے قلم کا رُخ عصرحاضر کی طرف موڑ دیا۔

ان کے ادب کا دوسرا مرحلہ واقعیت نگاری کا ہے جس میں انہوں نے متعدد ناول تصنیف کیے۔ اس مرحلہ کے بھی تین ناولوں کو زیادہ شہرت نصیب ہوئی۔ انہیں ثلاثیاتِ نجیب محفوظ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ان کے عنوانات یہ ہیں، قصرِ تمنا (انگریزی نام Palace of Desire) بین القصرین (انگریزی نام Palace Walk )، اور سکریہ(انگریزی نام Sugar Street)۔ان ناولوں میں قاہرہ کے گلی محلے، رسم ورواج، موسیقی، لباس، آوارگی، مذہبی، سیاسی وجنسی میلانات اورسماجی انقلابی تحریکوں کی بیک وقت انتہائی باریکی سے تصویر کشی کی گئی ہے۔ پیرایہ اتنا جاذب اور پختہ ہے کہ پڑھتے ہوئے اُسی عہد میں لوٹ جانے کا گماں ہوتا ہے۔

توفیق الحکیم، نجیب محفوظ اور گلوکارہ اُم کلثوم

نوبل انعام یافتہ ادیب کی حیات کا تیسرا مرحلہ علامتی طرزِ اظہار کا ہے۔ رمزیت، تہہ داری اور ایمائیت میں بات کرنے کا دائرہ لامحدود ہوجاتا ہے۔ اس میں سخت بات بھی آسانی اور آزادی سے کی جاسکتی ہے۔ دنیا میں کئی بڑے ادیبوں نے جبر کے خلاف اظہارِ رائے کے لیے اس اسلوب کو استعما ل کیا ہے۔ نجیب محفوظ نے اس پیرائے میں بھی کئی ادبی شہ پارے تخلیق کیے، جن میں سے دو کو کافی اہمیت حاصل ہوئی۔ آبِ نیل پہ آوارگی(انگریزی نام Chitchat on the Nile)، اور ہماری گلی کے بچے(انگریزی نام Children of Gebelawi)۔آب نیل پہ آوارگی میں سماجی وسیاسی نظم سے مایوس اور فرار اختیار کرنے والے کچھ افراد کی حالت کو بیا ن کیا گیا ہے۔ ایک علامتی کشتی گھر میں بورژوازی اور مڈل کلاس طبقات کی دانشور نمائندہ شخصیات جمع ہوتی ہیں۔ یہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا ایسا گروہ ہوتا ہے کسی شے پر ایمان لانا چاہتاہے لیکن قادر نہیں۔ کوئی مقصد چاہتا ہے لیکن عاجز ہے۔ یہ دوست زندگی چلانے واسطے آدھا وقت کام کرتے ہیں اور آدھا وقت کشتی گھر میں گزارتے ہیں۔ کثرت سے شراب نوشی کرتے ہیں۔ قہقہے لگاتےہیں۔ شور مچاتے ہیں اور ایسی بے ربط باتیں کرتے ہیں جن کا سیاسی وسماجی نظم اجتماعی سے گہرا ربط ہوتا ہے اور اس پہ سخت رمزی تنقید ہوتی ہے۔ یہ ناول دراصل جمال عبدالناصر کی حکومت پر تنقید تھی۔ جمال عبدالناصر کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے یہ کہہ کر خاموشی اختیار کرلی کہ نجیب ہمارے ملک کا سرمایہ ہے۔ وہ بے جا تنقید نہیں کرتے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کہیں عوام کے حق میں ہم کوئی غلطی تو نہیں کر رہے۔

ان کےدوسرے ناول ’’ہماری گلی کے بچے‘‘ کو اس لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے کہ اس کی وجہ سے انہیں نوبل انعام ملا۔ یہ ناول انہوں نے پانچ سال کی خاموشی کے بعد لکھا تھا۔ لیکن نجیب محفوظ کا یہ ناول مصر میں ان کی وفات کے بعد شائع ہوسکا۔ اسی کی وجہ سے ان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جس سے ان کے دائیں ہاتھ کی رگیں متأثر ہوگئی تھیں اور وہ اس کے بعد زیادہ لکھ نہیں سکتے تھے۔ بعض طبقات کی جانب سے دعوی کیاگیا تھا کہ ناول کے علامتی کردار مذہبی تشخص لیے ہوئے ہیں۔ لیکن نجیب محفوظ کہتے تھے کہ اسے سمھنے میں غلطی کی گئی ہے۔ انہوں نے ان علامتی  کرداروں میں سے کسی کو منفی شکل نہیں دی۔ وہ اصل میں انسانی سماجی نفسیات کے مختلف پیچیدہ اور باہم متحارب میلانات پر روشنی ڈالنا چاہتے تھے۔ یہ شفاف انسانیت کی تلاش کی سعی کا ایک مظاہرہ تھا۔ ناول پڑھنے والا بھی یہ احساس پا سکتا ہے۔

جب پاولو کوئیلہو نجیب محفوظ سے ملنے اُن کے گھر گئے

نجیب محفوظ کو جب نوبل انعام کے لیے مدعو کیا گیا تو وہ خود نہیں گئے بلکہ اپنی بیٹی فاطمہ محفوظ کو بھیجا، کیونکہ انہیں ہوائی سفر سے خوف آتاتھا۔ 2006 میں جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے جنازہ میں شیخ الازہر سید طنطاوی اور مصر کی مشہور علمی شخصیت علی جمعہ نے بھی شرکت کی۔ ان کی وفات ہی کے سال پاکستانی مصنفہ و شاعرہ کشور ناہید نے ان سے قاہرہ کے ایک ہوٹل میں میں ملاقات کی تھی، جہاں اور لوگ بھی ان سے ملنے آئے ہوئے تھے۔ ان سے سوال کیا کہ آجکل آپ کیا لکھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا، کچھ نہیں، بس لیٹا رہتا ہوں، جو خواب آتے ہیں انہیں محفوظ کر لیتا ہوں۔ ان کی آخرب کتاب ’’خواب‘‘ ہی کے نام سے شائع ہوئی۔ ان کے ناولوں سے کئی جملے ضرب المثل بنے اور بہت مشہور ہوئے،ان میں دو یہ ہیں:

انقلابوں کو چالاک لوگ ترتیب دیتے ہیں۔ بہادر ممکن بناتے ہیں۔ اور بزدل ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

خدا کی طرف چلنے والوں کے لیے غصے اور تکبر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...