کیا حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے متبادل کوئی راستہ تھا؟

32

پاکستان میں آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے کافی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق  آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ پاکستان کے لئے تباہ کن  ہے۔ اور اس ضمن میں وہ مصر کی مثال دیتے ہیں۔ مصر میں اس پروگرام کے ثمرات یہ نکلے کہ غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ کرنسی کی قدر کم ہونے سے وہاں مہنگائی بہت تیزی سے بڑھی۔ ان کے مطابق پاکستان میں بھی یہی ہو گا، ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھے گا، روپے کی قدر کم ہو گی، غربت اور بے روزگاری بڑھے گی، تمام طرح کی سبسڈیز ختم ہوں گی، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی اور یہ سب پاکستانی عوام کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گا۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس قرض سے پاکستان میں کسی طرح کا معاشی استحکام نہیں آئے گا کیونکہ یہ شرح نمو کو مزید گرا دے گا۔ ’’آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کے دو سے تین برس تک ہمیں اپنے جی ڈی پی کی شرح نمو دو سے ڈھائی فیصد رکھنی ہو گی۔ جس ملک میں 15 لاکھ نوجوان ہر برس روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں وہاں بے وزگاری میں مزید اضافہ ہو گا۔‘‘

دوسری طرف بعض دیگر ماہرین کا یہ کہتے ہیں کہ ہمارے حالات  کافی عرصے سے خراب ہیں اور ہمیں آئی ایم ایف کے پاس بہت پہلے چلا جانا چاہئے تھا۔ بقول ان کے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا صحیح وقت 2016 تھا جب بیرونی ادائیگیوں میں مسلئہ پیدا ہوا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے لگا۔ کچھ دُور اندیش لوگوں نے اس وقت یہ مشورہ دیا بھی تھا، لیکن مسلم لیگ نواز حکومت تب ہوا کے گھوڑے پر سوار تھی اور کوئی بات سننے کو تیار نہ تھی۔ اگر اس وقت کی حکومت دانشمندی سے کام لیتے ہوئے آئی ایم ایف  کے پاس چلی جاتی تو آج ان معاشی مشکلات کا سامنا نہ ہوتا۔

حقیقت یہ ہے کہ خاقان عباسی حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے بچنے کا کوئی متبادل منصوبہ تھا ہی نہیں۔ وہ خرچوں کو کم نہیں کرنا چاہتے تھے اور کسی طریقے سے محض الیکشن تک پہنچنا چاہتے تھے۔ نگران حکومت نے اگرچہ ان معاشی مشکلات کا ادراک کرلیا تھا لیکن مختصر عبوری مرحلہ کی وجہ سے وہ کوئی بڑا فیصلہ لینے سے ہچکچاتی رہی

سوال یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے حوالے سے کوئی متبادل منصوبہ موجود تھا تو خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو جن کے بارے ان کے حامیوں ک یہ ماننا ہے کہ وہ موجودہ معاشی ماہرین سے زیادہ عقل مند تھے، وہ اس متبادل منصوبے کو سامنے کیوں نہیں لائے اور اس کو لاگو  کیوں نہ کیا؟ انہوں نے ایسا کوئی اقدام اٹھانے سے گریزکیا۔ بیرونی ادائیگیوں کو بڑھنے دیا حتیٰ کہ دسمبر 2017 آگیا اور روپے کی قدر میں خود بخود گراوٹ آنا شروع ہو گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ خاقان عباسی حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے بچنے کا کوئی متبادل منصوبہ تھا ہی نہیں۔ وہ خرچوں کو کم نہیں کرنا چاہتے تھے اور کسی طریقے سے محض الیکشن تک پہنچنا چاہتے تھے۔ نگران حکومت نے اگرچہ ان معاشی مشکلات کا ادراک کرلیا تھا لیکن مختصر عبوری مرحلہ کی وجہ سے وہ کوئی بڑا فیصلہ لینے سے ہچکچاتی رہی۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ان معاشی تبدیلیوں کا روڈ میپ تیار رتو کیا تھا لیکن حتمی فیصلہ آنے والی تحریک انصاف کی حکومت پر چھوڑ دیا تھا۔ اسد عمر نے کچھ بڑے بڑے معاشی مسائل میں چھیڑ چھاڑ ضرورلیکن ان کے پاس بھی آئی ایم ایف سے بچنے کا کوئی متبادل پروگرام ہی نہیں تھا، جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورتحال بد سے بدتر ہوتی گئی۔ مختصر یہ کہ نہ ہی سابقہ حکومت اور نہ ہی موجودہ حکومت کے پاس کوئی ایسا منصوبہ تھا جس کے ذریعے وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے گریز کر کرپاتے، اور اس کے بغیر ہی ملک میں  معاشی استحکام حاصل ہوتا۔

فنانس کے موجودہ مشیر اور گورنر ایس بی پی دونوں نئے ہیں، اور آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کو تیز کرنے کی ان پر کوئی پابندی نہیں ہے. اس تحریک کو لکھتے وقت تک حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ آئی ایم ایف کسی طرح کی کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ اسلام آباد میں موجود کچھ مبصرین کے خیال میں آئی ایم ایف کا پاکستانی پروگرام مصر جیسا سخت نہیں  ہوگا۔ جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ہمیں پاکستانی کرنسی کی قدر میں پندرہ سے بیس فیصد کمی کرنا ہوگی۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت روپے کی شرح تبادلہ پر رکی ہوئی ہے۔ کیا اسے مصر کی طرح بالکل کھلا چھوڑ دیں یا پھر آہستہ آہستہ اس کو دوسری کرنسی کے مقابل ایڈجسٹ کرنے دیں؟

کرنسی کی شرح تبادلہ کو مکمل آزاد کرنا ہوا تو اس بات پر پاکستان میں عمل کرنا بے حد مشکل ہے۔ روپے کی قدر میں ہونے والی کمی براہ راست عام آدمی کو متأثر کرے گی جن کی آمدنی یک دم گرے گی۔ ان کی قوت خرید متأثر ہوگی اور ملک میں پہلے سے موجودکساد بازاری میں اور اضافہ ہو گا۔کرنسی کی قیمت میں کمی ک اسب سے زیادہ فائدہ بینکوں کو ہوگا۔ روپے کی قدر میں کمی سے ان کےسود کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جس کا براہ راست فائدہ  بینکوں کو پہنچتا ہے، جنہوں نے اپنی زیادہ تر انویسٹمنٹ حکومتی سیکورٹیز میں کی ہوئی ہے۔ اس لئے یہ بات بینکوں کے فائدے میں ہے کہ وہ روپے کی قدر میں کمی ہونے دیں۔ آئی ایم ایف کی ٹیم یہ بھی چاہتی ہے کہ پاکستان اپنی شرح سود کو بھی بڑھائے تاکہ قرضے مہنگے ہوں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اگلی مانٹیری پالیسی قرضوں کی سود کی شرح میں تبدیلی پچاس پیسے سے لے کر ایک روپیہ تک ہو سکتی ہے۔ایک اور اہم معاملہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے تعلق رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف کی تجویز یہ ہے کہ حکومت پاکستان توانائی  کے خسارے کو کم کرنے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں دو روپے فی یونٹ اضافہ کر دے۔

کیا عمران خان کی حکومت یہ سب مشکل فیصلے کر پائے گی، وہ اس حساس مرحلہ سے کیسے نمٹے گی، کہیں ایسا نہ ہو کہ تبدیلی کا نعرہ بس ایک نعرہ بن کے رہ جائے؟ اس حالت میں پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ لوگوں کےوعدے وفا ہوپائیں گے؟ اس کا درست اندازہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...