دنیا میں ماؤں کا عالمی دن کب اور کیسے منایا جاتا ہے؟

197

آج پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ماؤں کا عالمی دن انتہائی عزت وتکریم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے اپنے انداز میں ماؤں سے لگاؤ کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی اپنی ماؤں کے ساتھ تصاویر لگا رہے ہیں، بعض اشعار کی صورت ان سے محبت ظاہر کر رہے ہیں اور کچھ اپنی زندگی کے تجربات وواقعات بیان کرکے ان عظیم ہستیوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو نصیحت بھی کی جارہی ہے کہ زندگی کی مصروفیات میں محو ہوکر اپنی ان ماؤں کو بھول نہیں جانا چاہیے جو اظہار تو نہیں کرتیں لیکن آپ کے میٹھے بول اور قربت کا انہیں شدت سے انتظار رہتا ہے۔

پاکستان میں ماؤں کا دن کئی ممالک کے ساتھ ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے، لیکن دنیا میں اس کی کوئی متفقہ تاریخ نہیں ہے۔ یہ دن منانے کا خیال سب سے پہلے امریکی مصنفہ جولیا وارڈ کو آیا۔ انہوں نے 1872 میں سرکاری سطح پر یہ دن مانے کی بات کی تھی لیکن اسے قبول عام حاصل نہ ہوسکا۔ پھر 1908 میں ایک خاتون اینا جاروس کی سربراہی میں کچھ امریکی ماؤں نے اس کے لیے تحریک چلائی۔ اس کے بعد چند امریکی ریاستوں میں یہ دن منایا جانے لگا۔ 1914 میں صدر وڈرو ولسن نے باقاعدہ طور پہ مئی کا دوسرا اتوار ماؤں کے نام کرکے اسے سرکاری سطح پر منانے اور اس پر تعطیل کا اعلان کیا۔

برطانیہ اور دیگر کئی ممالک میں یہ دن مارچ کے آخری اتوار کو منایا جاتا ہے۔ ان کے ہاں اس کا کوئی الگ جدید تاریخی پس منظر نہیں بلکہ ایک مذہبی تہوار ایسٹر سنڈے کی مناسبت کے ساتھ اسے منالیا جاتا ہے۔ ناروے میں ماؤں کا دن فروری کے دوسرے اتوار کو جبکہ  سویڈن میں جُون کے آخری اتوار کو منایا جاتا ہے۔ یہ دونوں مواقع بھی دینی مناسبت رکھتے ہیں۔ عرب دنیا میں اس کو منانے کے لیے 21 مارچ کی تاریخ مختص ہے۔ وہاں اس روایت کی ابتدا 1956 سے ہوئی۔ ایک واقعہ اس کی وجہ بنی۔ قاہرہ میں صحافی مصطفی امین اپنے اخبار کے دفتر میں میں بیٹھے تھے، وہاں ایک بوڑھی عورت آئی اور کہا کہ میں اپنی شادی کے چند سال بعد بیوہ ہوگئی تھی، میرے بیٹے چھوٹے تھے، ان کی اچھی پرورش کی خاطر میں نے شادی نہیں کی۔ محنت مزدوری کرکے انہیں تعلیم دلوائی۔ اب وہ کامیاب ہیں، لیکن مجھے چھوڑ دیا ہے۔ مجھ سے ملنے بھی نہیں آتے۔ مصطفی امین نے یہ واقعہ سن کر اپنے اخبار کے ذریعے تحریک چلائی کہ عرب دنیا میں ماؤں کا دن منایا جائے تاکہ ان کی عظمت ،خلوص اور مقام کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے۔ تب سے یہ ہرسال عربوں کے ہاں بھی منایا جاتا ہے۔

آج گوگل نے بھی اس دن کو اپنے خوبصورت انداز میں منایا اور اس کی اہمیت کو دنیا میں اجاگر کیا۔ اپنے صفحہ سے روایتی عنوان کو ہٹاکر ایک بطخ کی متحرک تصویر لگائی جس کے پیچھے اس کے چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے چوزے دوڑ رہے ہیں۔

ادارہ تجزیات کی طرف سے سب کو ماؤں کا عالمی دن مبارک۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...