عام شہریوں پر ٹیکس کے بوجھ کو کم کیا جائے

اخبارات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 1.21 ملین افراد ٹیکس دیتے ہیں، جوکل آبادی کا بمشکل ایک فی صد بنتے ہیں۔ ریونیو کے اسٹیٹ منسٹر حامد اظہرکہتے ہیں کہ ملک میں ٹیکس کا جی ڈی پی تناسب 11.2 فی صد تک ہے جبکہ انڈیا میں یہ 16 فی صد ہے۔ ورلڈ بنک کے بقول اگر ٹیکسوں کی شرح میں 75 فی صد اضافہ کردیا جائے تواس کی شرح کو مجموعی خام ملکی پیداوار کے 26 فی صد تک لایاجاسکتاہے۔

پاکستان میں حکومت دوقسم کے ٹیکس لگاتی ہے۔ ایک ڈائریکٹ ( بلاواسطہ)  ٹیکس جوزیادہ ترانفرادی ہوتا ہے یا آمدنی پر لگایا جاتا ہے اور دوسرا اِن ڈائریکٹ (بالواسطہ) ٹیکس، جوزیادہ ترمصنوعات یا اشیاء پرلگتاہے۔ اگرحکومت پرسرمایہ داروں اورعالمی مالیاتی اداروں کا دباؤ ہو توریاست انفرادی یا آمدنی ٹیکس کم رکھتی ہے اوراشیاء پرٹیکس عائد کرکے اس کوعام افراد سے وصول کرتی ہے۔ نیولبرل دور میں اِن ڈائریکٹ  ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان جیسے ممالک کو قرضوں کے ذریعے سے عوام پرجنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نام سے ایک اضافی ٹیکس متعارف کرایا جس کی شرح 24 فی صد تک رکھی گئی ہے۔ یعنی ہرشے کی قیمت میں 16 تا 17 فی صد جی ایس ٹی کے نام پراضافی رقم لگاتی ہے۔ اب جوبھی صارف ان اشیا کواستعمال کرتاہے وہ یہ ٹیکس بھی اداکرتاہے۔ یوں ان ٹیکسوں کے نفاذ اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی بڑھتی ہے، جس کی وجہ سےملک میں سرمایہ دارانہ ترقی پربھی منفی اثر پڑا ہے۔

یہ غلط مفروضہ ہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ شاہد محمود روزنامہ ڈان میں لکھتے ہیں کہ اسٹیٹ بنک کے مطابق 57.5 ملین پاکستانی ملازمین کام کرتے ہیں، یہ سب کسی نہ کسی طریقے سے ٹیکس دیتے ہیں۔ پاکستان کی کل آبادی 200 ملین ہے۔ ان میں سے 29 فی صد ٹیکس اداکرتی ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق 122 ملین افراد مزدوری کرنے کے زمرے میں آتے ہیں۔ یوں 57.5 ملین ٹیکس اداکرنے والے محنت کش عوام کی تعداد 48 فی صد بنتی ہے

شہزاداحمد، مقبول ایچ سیال،اور نثاراحمد کی ایک تحقیق کے مطابق  پاکستان میں 1974 تا 2010 تک کے اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے معاشی ترقی اور بالواسطہ ٹیکسوں کے درمیان تعلق کامطالعہ کیا گیا ہے۔ اس تحقیق سے پتہ چلاکہ اِن ڈئریکٹ ٹیکس میں اضافہ کا ملکی معاشی ترقی کی نمو پرمنفی اثرپڑاہے۔ بلاواسطہ ٹیکسوں میں ایک فی صد اضافہ سے معاشی نمو میں 1.68 فی صد کمی واقع ہوتی ہے۔ اگرمعاشی ترقی کومدنظر رکھا جائے تواس کوالٹ ہونا چاہیے۔ 2018 میں بالواسطہ ٹیکسوں سے 172 بلین یا 11 فی صد اور بلاواسطہ ٹیکسوں سے 570 بلین جمع کرنے کاتخمینہ لگایاگیاتھا۔ یوں اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی میں کمی کی اصل وجہ آمدنی اورانفرادی یعنی ڈائریکٹ ٹیکس کا عدمِ حصول  ہے۔ ڈائریکٹ ٹیکس کے نام پر بھی جوکچھ جمع ہوتاہے اس میں ‘withholding tax’ کی شرح 70فی صد کے قریب بنتی ہے جو تنخواہوں، کنٹریکٹ سے کٹوتی اور بنکوں سے نقد رقم نکالنے وغیرہ سے آتی ہے۔ 2018 میں ریٹرن (فارم بھر کر ٹیکس جمع کرانے کا نظم) سے جو وصول ہوا وہ ڈائریکٹ ٹیکس کے ضمن میں کل ودھ ہولڈنگ ٹیکس کا محض 2.7 فی صد حصہ تھا۔ ریاست کمپنیوں کے منافع جات پرٹیکس لگانے کے بجائے انہی کمپنیوں کے ملازمین کی تنخواہوں پر زیادہ شرح سے ٹیکس لگاتی ہے۔ اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ضمن میں یہ بات اہم ہے کہ 2018 میں اس کی نصف کے قریب رقم  جو 53 فی صد بنتی ہے وہ صرف پٹرولیم مصنوعات پرٹیکس سے حاصل کی گئی۔

1950کی دہائی میں ٹیکس خام ملکی پیداوار( جی ڈی پی) کا 5 فی صد تھا اور اگلی دہائی میں بڑھ کر 9 فی صد ہوگیا تھا۔ پاکستان کا شروع سے ٹیکس کا انحصاردو امور پر رہا۔ ایک تو اِن ڈآئریکٹ ٹیکسوں پر، دوسرا بین الاقوامی تجارت پرعائد ٹیکس۔ لیکن نیولبرل دور میں 1990کی دہائی میں آئی ایم ایف، ورلڈبنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اورسب سے بڑھ کر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مختلف معاہدوں کے تناظر میں درآمدی ٹیکسوں میں کمی نے عالمی تجارت سے آنے والی رقوم کو متأثر کیا۔ پاکستان نے مختلف ممالک سے آزاد تجارتی معاہدے کیے  جس کے تحت ان ممالک سے تجارت پرٹیکسوں میں کمی کی گئی۔ 1990-91 میں درآمدی ٹیکس 225 فی صد سے کم کرکے 1996-97 میں محض 45 فی صد کردیا گیا۔ اور 2013-14 میں مزید کم کرکے 25 فی صد کردیاگیا۔ ٹریڈ لبرلائزیشن یا آزاد تجارتی پالیسی کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ایک طرف درآمدی ٹیکسوں میں کمی آئی اور دوسری طرف بیرونی ممالک سے آنے والی اشیاء کی بہتات سے مقامی صنعتوں کازوال ہوا۔ اس کا اثرمقامی سطح پرٹیکس اکٹھا کرنے کی قوت پربھی پڑا۔ اس کا حل آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کے نفاذ کی صورت میں نکالا۔ یعنی درآمدی ڈیوٹی سے جو کمی واقع ہو رہی تھی حکومت کو کہا گیا کہ اس کمی کو پوری کرنے کے لیے ہر شے پر جی ایس ٹی لگادی جائے۔

موجودہ حکومت کے پاس مالیاتی مسائل کے دو ممکنہ حل ہیں: ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے یا پھر ٹیکس کے دائرے میں مزید لوگ لائے جائیں۔ حکومت دونوں پر بیک وقت عمل کرنا چاہتی ہے۔ ریونیوکے اسٹیٹ منسٹر حامد اظہر کہتے ہیں کہ ٹیکس کے ضمن میں سالانہ 4000 بلین اکھٹے ہوتے ہیں جن میں سے 60 فی صد اِن ڈائریکٹ اور40 فی صد ڈائریکٹ ٹیکس سے آتے ہیں جس کا اکثر حصہ    withholding tax  کا ہوتا ہے۔ یوں  دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ خالص ٹیکس 10 فی صد بنتا ہے۔ وزیرموصوف کے بقول سرفہرست کمپنیوں میں سے صرف 75 کمپنیاں پاکستان کے خزانے میں ٹیکس جمع کراتی ہیں۔ اگراس تعداد میں اضافہ کیاجائے تو عالم آدمی پر ٹیکس کی شرح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

حکومت نے ٹیکس دہندگان کے دائرے کووسیع کرنے کی غرض سے بنکوں سے رقوم کی منتقلی کے علاوہ جائیداد اور کار خریدنے پرٹیکس عائد کرنے کے اعلانات کیے۔ نان فائلرز کو مخصوص رقم تک کی منتقلی، مخصوص مالیت کی کار اور جائیداد خریدنے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے موبائل فون پرٹیکس کلیکشن پرپابندی لگائی گئی تھی جس کی وجہ سے پہلے 5 پانچ ماہ میں 16 بلین کی رقم کی کمی ہوئی۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ واپس لے لیاہے تاکہ حکومت کو زیادہ ٹیکس مل سکے۔

یہ غلط مفروضہ ہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ شاہدمحمود روزنامہ ڈان میں لکھتے ہیں کہ اسٹیٹ بنک کے مطابق 57.5 ملین پاکستانی ملازمین کام کرتے ہیں، یہ سب کسی نہ کسی طریقے سے ٹیکس دیتے ہیں۔ پاکستان کی کل آبادی 200 ملین ہے۔ ان میں سے 29 فی صد ٹیکس اداکرتی ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق 122 ملین افراد مزدوری کرنے کے زمرے میں آتے ہیں۔ یوں 57.5 ملین ٹیکس اداکرنے والے محنت کش عوام کی تعداد 48 فی صد بنتی ہے۔ اسی طرح 140 ملین موبائل فون استعمال کرنے والے اس پر 20 فی صد ٹیکس اداکرتے ہیں۔ اگراس دائرے کو بڑھایا جائے تو تقریبا ہرچیز کے استعمال پرجی ایس ٹی نافذہے، یوں ہر پاکستانی اپنی آمدنی کا ایک بڑاحصہ ٹیکسوں کی نذر کردیتاہے۔ جی ایس ٹی طرز کے اِن ڈائریکٹ ٹیکس معاشرے کے مختلف سماجی گروہوں کی آمدنی کے فرق کو نظرانداز کرکے یکساں طریقے سے نفاذ کیے جاتے ہیں۔ جس سے نچلی سطح کے طبقات بہت زیادہ متأثرہوتے ہیں۔

کئی معیشت دان پاکستان میں پروگریسو ٹیکس کے نفاذ کا مشورہ دیتے ہیں۔ یعنی کہ اسے دولت مندوں پرنافذ کیا جائے۔ کیونکہ نچلے طبقات کی آمدنی کابڑاحصہ تو ان کی زندگی کی بنیادی ضروریات کے حصول میں خرچ ہوتا ہے۔ ان پر ٹیکس میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ حکومت کواِن ڈآئریکٹ ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرنی چاہئے اور ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ضمن میں ملازمین کی آمدنی کے بجائے منافع جات پرٹیکسوں کی شرح کو بڑھانا چاہیے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...