عرب ممالک میں رمضان کیسے گزارا جاتا ہے؟ دلچسپ روایات

مختلف ممالک میں رمضان کے مہینے کی اپنی اپنی روایات ہیں، مجموعی طور پر تو ہر جگہ اس مبارک مہینے کو رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، عبادات اور خصوصا تلاوت قرآن کا عمل عام دنوں کی بنسبت دوچند ہو جاتا ہے، مساجد کھچاکھچ بھر جاتی ہیں، علاقہ کی ہر بڑی مسجد میں نماز تراویح میں قرآن پاک سنایا جاتا ہے، اور یہ شرف غالبا صرف پاکستان کو ہی حاصل ہے کہ ہر چھوٹی بڑی مسجد میں باقاعدگی سے مکمل قرآن پاک سنانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اسی طرح اللہ کے نیک بندے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے غریبوں اور بے آسرا لوگوں کا دل کھول کر تعاون کرتے ہیں اور جگہ جگہ رمضان دستر خوان بچھ جاتے ہیں جس سے ہمدردی کے جذبے کو فروغ ملتا ہے۔

سوڈانیوں کی خاص بات جو انہیں دوسرے عربوں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کی اجتماعی افطاری ہے،ہرگھر کے تمام افراد اپنے پڑوسیوں سمیت گلی میں یا مین روڈ پر اجتماعی افطاری کا اہتمام کرتے ہیں

رمضان کا خصوصی اہتمام کرنے میں مراکش سرفہرست ہے، جہاں کے لوگ چاند نظر آتے ہی “عواشر مبروکہ” کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ برکت والے تین عشرے مبارک ہوں۔ اس کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں  پہلے دن کی تراویح  کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ پورا رمضان افطاری کے بعد سے سحری تک سُوپ نما حریرہ،حلوے سے ملتا جلتا شباکیہ اور مراکشی چائے کا دور چلتا رہتا ہے۔ جب بچہ پہلی دفعہ روزہ رکھتا ہے تو اسے نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔

الجزائر کے لوگ  شعبان کے آخری دن غسل کر کے رمضان کی عبادات کی تیاری کرتے ہیں، شب قدر کی رات  خواتین گھروں کو سجاتی ہیں اور روایتی لباس پہن کر  ہاتھوں کو مہندی لگاتی ہیں جبکہ شب قدر کو بچوں کے ختنے کروائے جاتے ہیں

لیبیا میں بھی رمضان کی روایات مراکش سے ملتی جلتی ہیں، مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں، اڑوس پڑوس میں سحر و افطار کے وقت کھانے کی پلیٹوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ لیبیا کے لوگ کھانے پینے کے معاملے میں بڑے منظم ہیں، ان کے ہاں ہماری طرح قطعا نہیں ہوتا کہ افطاری میں ہی ہر قسم کے پھل، مشروبات اور میٹھی و چٹ پٹی چیزیں ایک ساتھ چڑھا لی جائیں بلکہ وہ پورا مہینہ اپنی خوراک کو پانچ مراحل میں تقسیم کر کے کھاتے ہیں۔ افطاری کے وقت کھجور، دودھ، جوس اور پانی پر اکتفا کیا جاتا ہے پھر مغرب کی نماز کے بعد کھانے کے ساتھ دیگر چٹ پٹی چیزیں کھائی جاتی ہیں اور تراویح کے لیے جانے سے قبل چائے نوش کی جاتی ہے۔ تراویح سے واپسی پر پھل سجے ہوئے رکھے ہوتے ہیں جو تمام فیملی کے لوگ مل کر کھاتے ہیں اور پھر اس عمل کا اختتام سحری کے کھانے پر ہوتا ہے۔

ترکی میں بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب کے طور پر دس سال سے کم عمر بچوں کے لیے “صوم العصفور” یعنی چڑی روزہ کا اہتمام کرایا جاتا ہے اور آٹھ  نو گھنٹوں کے بعد باقاعدہ افطار کرایا جاتا ہے

الجزائر کے لوگ شعبان کے آخری دن غسل کر کے رمضان کی عبادات کی تیاری کرتے ہیں، شب قدر کی رات خواتین گھروں کو سجاتی ہیں اور روایتی لباس پہن کر ہاتھوں کو مہندی لگاتی ہیں جبکہ شب قدر کو بچوں کے ختنے کروائے جاتے ہیں

 مصر میں جونہی مصری دارالافتاء کی طرف سے چاند کے نظر آنے کا اعلان ہوتا ہے ساتھ ہی گلیاں سجنا شروع ہو جاتی ہیں تاکہ ان گلیوں سے گزر کر بچے بڑے سب نماز تراویح ادا کرنے جائیں۔

عمان کے دارالحکومت میں آدھی رات کو نوجوان دف اور ڈھول لے کر ٹولیوں کی شکل میں گلیوں میں پھیل جاتے ہیں اور اونچی آواز سے ہلہ گلہ اور شور شرابہ کرتے ہیں تاکہ روزہ دار اٹھ کر سحری کر سکیں۔

سوڈان میں رمضان سے پہلے نئے برتن خریدے جاتے ہیں اور سوڈان کے خاص مشروبات تیار کیے جاتے ہیں جن میں سے کرکدیہ اور  کھٹا میٹھا شربت زیادہ مشہور ہیں۔ سوڈانیوں کی خاص بات جو انہیں دوسرے عربوں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کی اجتماعی افطاری ہے،ہرگھر کے تمام افراد اپنے پڑوسیوں سمیت گلی میں یا مین روڈ پر اجتماعی افطاری کا اہتمام کرتے ہیں اور ہر گزرنے والے کو بڑے پیار اور اصرار کے ساتھ اپنے ساتھ شریک کرتے ہیں۔

لیبیا کے لوگ پورا مہینہ اپنی خوراک کو پانچ مراحل میں تقسیم کر کے کھاتے ہیں۔ افطاری کے وقت کھجور، دودھ، جوس اور پانی پر اکتفا کیا جاتا ہے پھر مغرب کی نماز کے بعد کھانے کے ساتھ دیگر چٹ پٹی چیزیں کھائی جاتی ہیں اور تراویح کے لیے جانے سے قبل چائے نوش کی جاتی ہے

شام جب کبھی شام ہوا کرتا تھا تو پہلے عشرے میں انواع و اقسام کے کھانوں کے لیے مشہور تھا یہی وجہ ہے کہ شام میں پہلے عشرے کو  “مرق” کہتے ہیں، دوسرے عشرے کو “خرق”(کپڑا) کہتے ہیں کیوںکہ امن کے زمانہ میں دوسرے عشرے میں شام کے بازاروں میں رش بڑھ جاتا تھا اور لوگ سحری تک عید کی خریداری میں مشغول رہتے تھے، تیسرے عشرے کو شامی”صر الورق” کہتے ہیں کیونکہ اس میں خواتین عید کے لیے متنوع ڈشیں تیار کرنے میں لگ جاتی  ہیں، آج کے شام میں رمضان تو ہے مگر کھانے پینے کی اشیاء ناپید ہیں، دمشق اور حلب کے بازار ویران ہیں اور منتظر ہیں کہ انہیں پھر سے کوئی آباد کرے۔ اس کے علاوہ  جنگ زدہ  یمن،عراق وغیرہ کی حالت بھی شام سے زیادہ مختلف نہیں۔

فلسطین میں اگرچہ اسرائیل کے ساتھ جھڑپیں جاری رہتی ہیں لیکن رمضان کی رونقیں وہاں بھی کسی دوسرے ملک سے کم نہیں ہوتیں، جس کا سب سے بڑا مظاہرہ مسجد اقصی میں نماز پڑھنا ہے۔

تیونس میں روایتی کھانوں کے ساتھ ساتھ رمضان میں 400 سے زائد حفظ  قرآن کریم کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں سب سے مشہور “بین الاقوامی مقابلہ برائے حفظ قرآن کریم” ہوتا ہے۔

سعودی عرب میں رمضان کی رونق حرم مکی و حرم مدنی سے ہے، دنیا بھر سے مسلمان عمرہ و اعتکاف کی نیت سے وہاں جاتے ہیں اور دنیا و آخرت کی دولت سمیٹتے ہیں، رمضان میں عمرہ کرنے والوں کی تعداد اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ ایک حدیث کے مطابق رمضان میں عمرہ کا ثواب حضرت محمد کی معیت میں حج کرنے کے برابر ہے۔ رمضان کے آخری عشرہ میں سعودیہ کی مساجد میں تراویح کے بعد تہجد کی دس رکعت بھی پڑھی جاتی ہیں۔

ترکی میں بھی رمضان کا استقبال بھرپور طریقے سے کیا جاتا ہے اور مساجد اور پارکوں کو مہینہ بھرسجایا جاتا ہے، ترکی کی خاص بات وہاں کے شہر سلطان احمد جشن کا سماں ہے جہاں 77 ہزار مساجد میں مغرب سے فجر تک لائٹنگ کی جاتی ہے، سلطان احمد میں متعدد جگہوں پرسماع درویش کے حلقے بھی لگائے جاتے ہیں۔ ترکی میں بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب کے طور پر دس سال سے کم عمر بچوں کے لیے “صوم العصفور” یعنی چڑی روزہ کا اہتمام کرایا جاتا ہے اور آٹھ  نو گھنٹوں کے بعد باقاعدہ افطار کرایا جاتا ہے ،خدا کی قدرت کا ایک عجیب رنگ یہ ہے کہ جہاں نو گھنٹے کھانے پینے سے رکنے کے بچوں کے اس عمل کو چڑی روزہ کہا جاتا ہے وہاں ارجنٹائن جیسے ملک بھی ہیں جہاں کا پورا روزہ نو گھنٹے سے کم دورانیہ پر مشتمل ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...