حکومت کی صلاحیت و صاف گوئی پر سوالیہ نشان

گزشتہ کئی دنوں سے وزیراعظم کی کابینہ اور بیوروکریسی میں رد و بدل کا سلسلہ جاری ہے۔ جن نئے لوگوں کو اہم عہدوں کے قلمدان سونپے جارہے ہیں ان میں کچھ غیرمنتخب افرد بھی شامل ہیں جس پر اپوزیشن تنقید کر رہی ہے اور آج تحریک انصاف کے پالیمانی اجلاس میں بعض حکومتی نمائندوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان غیرمنتخب افسران میں گورنر اسٹیٹ بینک اور چئیرمین ایف بی آر کے نام نمایاں ہیں۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک و چیئرمین ایف بی آر اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ انہیں نئے وزیرخزانہ کی خواہش پر ہٹایاگیا ہے جو اپنی معتمد وپسندیدہ ٹیم کے ساتھ آئی ایم ایف سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ رد و بدل کا یہ سلسلہ ابھی رُکا نہیں ہے۔ اگلے مرحلہ میں پنجاب سے مزید بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس سے ملک میں بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور حالات بہتر ہوجائیں گے۔

انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی فتح کے بعد عوام کو یقین تھا کہ ملک کے حالات تبدیل ہوجائیں گے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم پہلے سے کچھ بہتری ضرور آئے گی، کیونکہ جماعت انقلاب کی بات کر تی رہی تھی۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا عام آدمی کو وزیراعظم کے وعدے سراب نظر آنے لگے۔ اب اسے صرف یہ دھڑکا رہتا ہے کہ مزید کتنی مہنگائی ہوگی اور کتنے مشکل وقت کا سامنا کرنا باقی ہے۔ وزیراعظم نے ان دس ماہ کی خراب کارکردگی کا بوجھ وزراء اور بیوروکریٹس کی نااہلی پر ڈال دیا ہے اور یہ احساس دیا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ذمہ داران ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اگر اگر کوئی وزیر یا بیوروکریٹ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو اس کو عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وقت اور وسائل کے ضیاع سے ملک اورعوام کو جو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اس پر ذمہ داران کی پرسش اور سرزنش کیوں نہیں کی جارہی۔ اور آئے روز کی رد و بدل سے جو سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں، کیا اس پر وزیراعظم اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے کہ ان کا انتخاب درست نہیں تھا؟

حکومت دعوی کرتی ہے کہ ان اقدامات سے حالات بدل جائیں گے۔ لیکن عوام کے پاس اعتبار کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔ اب تک کی کارکردگی اور زمینی حقائق اس کے دعووں کی صحت کی تصدیق نہیں کرتے، اور نہ حکومت کے پاس کوئی ایسا واضح، مضبوط اور قابل عمل منصوبہ ہے جس سے امید باندھی جاسکے کہ عوام کو سہارا مل جائے گا۔ حالات  کی ابتری کے باوجود بلند بانگ دعووں سے صرف عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے اور حکومت کی صلاحیت و صاف گوئی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...