پاکستانی معیشت کا حل ٹیکسوں کے منصفانہ نظام میں ہے

231

یوں محسوس ہوتا ہے کہ قرضوں کا عفریت پاکستانی معیشت کو نگل گیا ہے اور اب صرف ٹامک ٹوئیوں کے ذریعے ملکی معیشت کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس معاشی بدحالی کی ذمہ دار صرف موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی ہی نہیں بلکہ اس کی ذمہ دار ماضی کی تمام حکومتیں رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کے قرضوں کا حجم تقریبا تیس کھرب روپے ہے اور اس میں ہر گزرتے دن  کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت پچھلے نو دس مہینے میں ہر روز تقریبا 13 ارب روپے  کے نئے قرضے لے رہی ہے۔ جس کی وجہ سے آمدنی اور اخراجات میں فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ ایف بی آر کو اس وقت اپنے  ٹیکس ٹارگٹ میں تقریبا تین سو ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے جو ایک اندازے کے مطابق اپریل کے آخر تک تین سو پنتالیس ارب ہو جائے گا۔

پچھلے بیس برسوں میں ہم نے معیشت کا انتظام سنبھالنے کے لئے ہر طرح کے تجربات کیے ہیں۔ ہم نے انٹرنیشنل بینکرز بھی آزمالئے۔ چارٹر اکاونٹٹ کی مہارت بھی دیکھ لی اور اکانومسٹ کا جادو بھی دیکھ لیا۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ بقول شاعر ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔ ماضی کی ان سب حکومتوں کا مطمح نظر صرف ایک ہی رہا ہے کہ نظام حکومت اس طرح سے چلایا جائے کہ ان کے حامی گروہوں کے مفادات کو زک نہ پہنچے۔ یہ گروہ جنہیں مافیا کہنا زیادہ بہتر ہے ہوگا ان تمام حکومتوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے رہے، چاہے یہ لینڈ مافیا تھے یا پھر شوگر مافیا۔ موجودہ حکومت نے بھی ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا جس کی وجہ سے معاشی معاملات سنبھل نہیں پارہے۔

پاکستانی معیشت کی تنزلی کی ایک بڑی وجہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی ناکامی تھی۔ ایف بی آر کی ناکامی کی سب سے اہم  وجہ مختلف حکومتوں کی اس میں سیاسی مداخلت تھی۔ جتنے بھی بڑے اہم عہدے تھے ان پر میرٹ کی بجائے اپنی مرضی کے بندے لگائے گئے۔ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جس ادارے کے چیئرمین  کی تعیناتی خود سیاسی بنیادوں پر ہوئی ہو وہ کیسے ٹیکس کے نظام کو بہتر کر سکتا ہے اور وہ  ٹیکس وصولیوں میں کیسے اضافہ کرسکتا ہے۔ وہ اپنی کرسی بچائے گا یا ان مافیاز کو لگام ڈالے گا۔  ایف بی آر میں میرٹ سے ہٹ کے ہونے والی تعیناتیوں کی وجہ سے یہ ادارہ وہ کام نہ کر سکا جس کے لیے بنایا گیا تھا۔ اب موجودہ حکومت نے بھی ایف بی آر کے چیئرمین کو تبدیل کیا ہے۔ لیکن کیا صرف چیئرمین کی تبدیلی ٹیکس کے نظام میں بہتری لا سکے گی؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ وجہ صرف ایک ہی ہے۔ جب تک اس ادارے کے اندر بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جائیں گی تب تک اس معیشت سے اس کے اصل پوٹینشل کے مطابق آٹھ ارب ٹیکس اکٹھا نہیں کیا جاسکتا۔

لوگ ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔ وہ ٹیکس عملے کی خدمت کرنے کو تو تیار ہیں لیکن ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں۔ جس کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہم  زیادہ ٹیکس اکھٹا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ٹیکسوں کی تعداد کم کرنا ہوگی۔ ٹیکسوں کے نظام کو سادہ اور آسان بنانا ہوگا تاکہ عام آدمی اس کو آسانی سے سمجھ سکے اور اسے ٹیکس ادا کرنے  کے لئے کسی ماہر کی خدمت نہ حاصل کرنی پڑے۔

پاکستان میں جس طرح کا ٹیکس سسٹم رائج ہے۔ وہ اتنا پیچیدہ ہے کہ عام آدمی تو ایک طرف ماہرین کو بھی اس کی سمجھ نہیں آتی۔ اس وقت پاکستان میں سو قسم کے ٹیکس لگے ہوئے ہیں، ان کی بہتات انہیں سمجھنا اور مشکل بنا دیتی  ہے۔ ٹیکسوں کی بہتات اور ٹیکس ایجنسیوں کے کردار کی وجہ سے کرپشن ختم نہیں ہو رہی۔ لوگ ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔ وہ ٹیکس عملے کی خدمت کرنے کو تو تیار ہیں لیکن  ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں۔ جس کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہم  زیادہ ٹیکس اکھٹا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ٹیکسوں کی تعداد کم کرنا ہوگی۔ ٹیکسوں کے نظام کو سادہ اور آسان بنانا ہوگا تاکہ عام آدمی اس کو آسانی سے سمجھ سکے اور اسے ٹیکس ادا کرنے  کے لئے کسی ماہر کی خدمت نہ حاصل کرنی پڑے۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں ملکی آمدنی بڑھانا ہوگی۔ جب ملکی آمدنی بڑھے گی تو ٹیکسوں سے آمدن  میں خود ہی اضافہ ہو گا۔ ٹیکس کے نظام کو سادہ اور آسان اور شرح ٹیکس محض دس فیصد رکھ کر لوگوں کو کاروبار میں اضافہ کرنے دیں تاکہ روزگار پیدا ہو‘ جو خود ٹیکس نظام میں بہتری کا باعث بنے گا۔ زیادہ شرح سے ٹیکس لگانے اور امیروں کو ٹیکس میں نہ لانے سے خزانہ دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان میں، جہاں اہل ثروت صدقات و خیرات سے ٹیکسوں کا نظام ناقص ہونے کا باعث وہ ذاتی طور پر صدقات و خیرات پر مائل رہتے ہیں، جس سے غربت دور نہیں ہوتی۔ اس کے خاتمے کے لئے فلاحی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ حکومت وقت محصولات اور غیر محصولات سے حاصل شدہ رقم کو فلاح عامہ اور رفائے عامہ کے لئے استعمال کرے۔ تمام لوگوں کو ان کی اہلیت کے مطابق کام اور کام کے مطابق روزگار مہیا کرنا، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ کا انتظام، قانون کی بالادستی، دفاع اور انصاف کی فراہمی فلاحی ریاست کے فرائض ہیں جس کے لئے محصولات وصول کرتی ہے۔ اگر صدقات و خیرات ہی پر اکتفا ہو تو غریب تو ہمیشہ غریب ہی رہیں گے۔ ان کو تعلیم یافتہ اور ہنرمند بنا کر ریاست میں برابری کا مقام دیا جائے۔

یہ اصل سوال ہے جس کے لئے ہمیں معاشی اور معاشرتی انصاف پر مبنی نظام کا قیام کرنا ہو گا۔ وسائل کا مسئلہ بھی تب ہی حل ہو گا جب ہم غیر منصفانہ تعلیمی نظام ختم کریں گے اور محصولات ہر ایک سے اس کی اصل آمدنی پر وصول کریں اور اس کو تمام لوگوں کے مفاد کے لئے استعمال کریں نہ کہ محض چند لوگوں کے لئے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...