زبان کو اپنی زندگی مرضی سے گزارنےکی آزادی دی جائے

684

ممتاز ناول نگار و کہانی نویس مرزا اطہر بیگ سےناول کی زبان اور اسلوب پر مکالمہ

مرزا اطہر بیگ سے میرا اولین تعارف فلسفہ کے استاد کی حیثیت سے ہوا۔ گورنمنٹ کالج جب یونیورسٹی نہیں بنا تھا، تو ایم اے فلسفہ میں آپ شعبہ کے سب سے پسندیدہ اور ہر دلعزیز استاد تھے۔ طلبا اکثر انھیں گھیرے رہتے۔ تب کالج میں سگریٹ پینے پر پابندی کا کوئی تصور نہیں تھا تو آپ باہر لان میں گھومتے ہوئے جب کہ دیگر سگریٹ نوش طلبا سے گفتگو کی مصروفیت بھی جاری رہتی، سگریٹ پیتے دکھائی دیتے۔ وہیں لان میں کبھی کلاس بھی لیتے۔ ہمیں آپ نے نفسیات اور جدید فلسفہ پڑھایا۔
تبھی معلوم ہوا کہ آپ ڈرامہ نگار ہیں اور ٹی وی پر کئی اعلیٰ درجہ کے سیریل لکھ چکے ہیں۔ جن میں نشیب اور حصار جیسے یادگار ٹی وی ڈرامے بھی شامل ہیں۔ سویرا کے شماروں میں ہم استاد اور شاگرد دونوں کی کہانیاں ایک ساتھ شائع ہوئیں۔ تو انھی دنوں پتہ چلا کہ آپ ایک ناول پر کام کر رہے ہیں یا ایسا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات ہے نوے کی دہائی کے آغاز کی۔
یہ ناول غلام باغ کے نام سے 2006میں شائع ہوا۔ اس نے اردو ادب کے منظرنامے میں اپنی اشاعت کے فوراً بعد ایک کھلبلی پیدا کی۔ جہاں اس کی مخالفت میں بیانات سامنے آئے، تو اس سے کہیں زیادہ اس کے پڑھنے والوں نے اسے مقبولیت اور قدرومنزلت کے اعلی درجے پر جگہ دی۔ عام قارئین بلکہ ناقدین فن سے بھی اس ناول نے داد و تحسین حاصل کی۔ پاکستان اور بھارت میں اس پر پر تنقیدی مقالے لکھے گئے۔ اسے دور جدید کا اولین اردو ناول قرار دیا گیا۔ آج یہ ناول اردو کے چند غیر معمولی حیثیت کے حامل ناولوں کی فہرست میں جگہ پا چکا ہے۔ اس کے بعد سے اب تک مرزا اطہر بیگ کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’بے افسانہ‘ اور دو مزید ناول ’صفر سے ایک تک‘ اور ’حسن کی صورت حال‘ منظر عام پر آچکے ہیں۔
اس سے کوئی انکار نہیں ہے کہ آپ نے اردو ناول میں زبان اور اسلوب کی سطح پر جو تجربات کیے ہیں، اور جس انفرادیت کے ساتھ کیے ہیں، ان کی مثال اردو ادب میں خاص کر ناول نگاری کے شعبے میں نہیں ملتی۔ کہاجاتا ہے کہ آپ وہ ناول لکھ رہے ہیں جو آئندہ اردو میں لکھا جائے گا۔ یہ بات وہ خود زور دے کر کہتے ہیں کہ روایتی ناول کا زمانہ لد چکا ہے۔ مرزا اطہر بیگ کے ناول اردو کی ناول کی روایت میں اگلے مرحلے کا اشاریہ ہیں۔ یہ ہمیں آنے والے موسموں کی خبر دیتے ہیں۔ آپ کی ناول نگاری اردو میں ناول کی روایت کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت کرچکی ہے، اور کچھ بعید نہیں ہے کہ مستقبل کے نقاد کو اردو ادب کی ناول کی تاریخ کو مرزا اطہر بیگ ’سے پہلے اور ان سے بعد ‘ جیسے مدارج میں تقسیم کرنا پڑے۔

تجزیات :آپ کے ناولوں کے حوالے سے ایک بات عام طورپر کہی جاتی ہے کہ یہ تجرباتی ناول ہیں اور آپ کا ادب تجرباتی ادب ہے۔اس سے آپ کس حد تک متفق ہیں۔
مرزا اطہر بیگ: اس میں اختلاف کی کوئی بات نہیں ہے۔لیکن میں یہاں یہ نقطہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں ناول بہت آگے نکل چکا ہے اور اس صنف میں ایسے ایسے تجربات ہوچکے ہیں کہ ان کے آگے میرے تجربات کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔ اگر آپ ان سے واقف ہوجائیں تو پھر ہوسکتا ہے آپ میرے ناولوں کے بارے میں کہیں کہ یہ تو آسانی سے سمجھ میں آنے والے سادہ سے ناول ہیں۔

تجزیات: یہ سوال بھی آپ سے اکثر کیا گیا کہ اردو کا قاری ذہنی طورپر بلوغت کے اس درجے پر نہیں پہنچا ہے، کہ وہ آپ کے ناولوں کی قرات سے حظ اٹھاسکے اور پھر انھیں سمجھے بھی، کیا آپ نے اس بارے میں نہیں سوچا؟
مرزا اطہر بیگ:اپنے قاری سے میں بھی کچھ بہت زیادہ پرامید نہیں ہوں۔ سمجھتا ہوں کہ میرے ناولوں کے قاری ابھی صحیح معنوں میں اردو میں پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود میرا ناول اگر بک رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے۔ یوں بھی ناول نگار کوئی مصلح نہیں ہوتا، اس نے کسی نظریے کا پرچار نہیں کرنا ہوتا ہے۔ نہ وہ اپنے پڑھنے والوں کے اخلاق درست کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ وہ تو اپنی ترنگ میں لکھتا ہے۔ قاری اس کے لیے کہیں وجود نہیں رکھتے، بس وہ انھیں فرض کرلیتا ہے، اور ہر ناول نگار اپنے مطلب کے قاری بڑی تعداد میں اکٹھے کرلیتا ہے۔
تجربہ کرنے کا تعلق ضرورت سے زیادہ مزاج کا معاملہ بھی ہے۔ اگر آپ کا مزاج ہے کہ آپ ہر بات کو گہرائی میں جا کر اور مختلف سے مختلف انداز میں بیان کرنے کی کوشش کریں تو پھر آپ تجرباتی تحریر لکھیں گے۔ لیکن اگر آپ روایت پسند ہیں، تجربے کی خواہش محسوس نہیں کرتے تو پھر آپ روایتی ادب ہی لکھیں گے۔ اسی طرح کچھ سادہ حقیقت پسند ہوتے ہیں، کچھ چیزوں کو ٹیڑھے زاویے سے دیکھتے ہیں۔

تجزیات:لیکن کیا نیا پن اور تجربہ صرف مزاج کا مسئلہ ہے؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں، میں نے ایسا بھی نہیں کہا۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ جو ادب نئے پن کے بغیر ہے، وہ ادب نہیں۔ ادب میں کوئی بڑا فلسفہ یا نظریہ نہیں ہوتا، نہ کوئی نئی دریافت کی جاتی ہے، نہ زندگی کے عقدے حل کیے جاتے ہیں، یہ کام سائنس اور دیگر علوم کا ہے۔ ادب نے تو واقعیت سے باہر نکلنا ہی نہیں ہے، واقعیت سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ موجود ہے، جو کچھ وقوع پذیر ہورہا ہے، وہ سب کچھ ادب کا موضوع ہے ۔ تو پھر سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کیسے اس سب کچھ کو پیش کیا جائے۔ یہی وہ موقع ہے جہاں ادب اپنا کمال دکھاتا ہے۔ وہ اس سب کچھ کو نئے سے نئے انداز میں پیش کرتا ہے جس سے اس کی ہیئت ہی نہیں، بلکہ معنویت بھی بدل جاتی ہے۔

تجزیات:ناول کے موضوع اور زبان کو آپ ناول نگاری کے عمل میں کہاں دیکھتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: آپ دنیا کا بڑے سے بڑا ناول اٹھالیں، جب اس کے کنٹینٹ پر بات ہوگی تو بہت سیدھی سیدھی سے بات ہوگی، انسانی جذبے، محبت، فاقہ اور غربت۔ تو کنٹینٹ کبھی کسی اعلی ادب کا معیار نہیں بنا۔ زاویہ نگاہ بھی کسی حد تک ادب کی سطح کو بلند کرتا ہے، لیکن اصل بات ہے، اسے پیش کرنے کا انداز، اسی سے باقی سبھی کمالات بھی جڑے ہوتے ہیں۔ یعنی یہ بات کہ ناول نگار نے کسی خاص ماحول یا واقعہ یا کردار کو کیسے دریافت کیا۔ یہاں پھر سے زبان اس کا ہتھیار بنتی ہے۔ وہ زبان کے ذریعے اپنے تخیل کو استعمال کرتے ہوئے کیسے اس دریافت کے عمل سے گزرتا ہے، یہی اس کا کمال ہوتا ہے۔ ادبی زبان ’مانوس کو غیر مانوس طریقے سے‘ پیش کرتی ہے۔ یہ ادبی زبان کی تعریف ہے۔ آپ خود ہی سوچئے کیسے زبان کی خالصیت پر اصرار کرنے والے توقع کرتے ہیں کہ آپ اس میں نئے تجربات کی حوصلہ شکنی کریں اور وہ پھر بھی نئے سے نئے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے خود کو تیار رکھے۔

تجزیات:آپ نے ایک ادبی تقریب میں جو آپ کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی، ’اردو میں ادب‘ کی بات کی تھی۔ تو اس حوالے سے اس تقریب میں تو بات ہوئی تھی لیکن اگر مناسب سمجھیں تو قارئین کی معلومات کے لیے کچھ اس موضوع پر ارشاد فرمائیے۔
مرزا اطہر بیگ: ہمیں اردو ادب پر نہیں بلکہ ’اردو میں ادب‘ پر بات کرنی چاہئے۔ بلکہ یہ بات ہمیں بہت پہلے سمجھ لینی چاہئے کہ اردو کسی ایک علاقے تک محدود تو رہی نہیں۔ اور نہ ہی اس کا کوئی ایک مخصوص لہجہ ہی ہے، بلکہ یہ جس علاقے میں بولی اور لکھی جاتی ہے، اسی کا رنگ اپنا لیتی ہے، وہاں اس کا لہجہ اور ذائقہ بدل جاتا ہے، اس کی لغت میں بھی فرق آجاتا ہے۔ تو کیسے سندھ میں لکھی جانے والی اردو، پنجاب میں لکھی جانے والی اردو سے اور پنجاب میں لکھی جانے والی اردو خیبر پختونخواہ میں بولی اور لکھی جانے والی اردو کے مماثل ہوسکتی ہے، اور اردو کی یہ انواع کیسے لکھنؤ یا دہلی میں لکھی اور بولی جانے والی اردو جیسی ہوسکتی ہے۔
آپ جب خالص اردو کی بات کرتے ہیں تو وہ اب ممکن نہیں ہے۔ بلکہ کوئی بھی زبان اپنی خالص حالت میں اب ممکن نہیں ہے۔ یہیں اردو میں ہی نہیں، انگریزی میں بھی ایک بڑا گروپ موجود ہے، خالص زبان کے حامیوں کا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا چاہتے ہیں، زبان کی زندگی اور اس میں ترقی کے فارمولے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ وہ زندہ رہتی ہے، اگر آپ اسے اس کی مرضی سے جینے کی آزادی دیں اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اس کا کوئی فائدہ آپ کو نہیں ہوگا، الٹا ادبی تخلیق میں گراوٹ پیدا ہوگی۔
کون سا بڑا ادب ہے جو اپنی زبان کی وجہ سے زندہ رہا، چاہے اس میں کوئی دوسرا ادبی لوازمہ موجود نہ ہو۔ بلکہ بہت سا بڑا ادب تو ایسا بھی ہے جس کی اصل زبان ہی اب ناپید ہوچکی ہے۔ تو اس اعتبار سے اسے بھی ختم ہوجانا چاہئے تھا، زبان کے خاتمے کے ساتھ ساتھ۔ جیسے لاطینی زبان کی مثال دی جا سکتی ہے کہ کبھی کہا جاتا تھا کہ یہ اعلی ٰادب کی زبان ہے، اور کسی اور زبان میں اعلیٰ ادب تخلیق ہی نہیں ہوسکتی۔ اب یہ زبان کہاں ہے۔
خیر میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اب یہ اردو ادب، اردو ادب کی تکرار پر اصرار ختم ہوجانا چاہئے۔اس کے بجائے ’اردو میں ادب‘ کی بات ہونی چاہئے۔ کہ اردو کی مختلف صورتوں میں جو مختلف علاقوں میں رائج ہیں، کیسا ادب لکھا جا رہاہے۔ آپ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ قیام پاکستان کے بعد بلکہ اس سے پہلے بھی اردو کا زیادہ تر اچھا ادب ان ادیبوں نے لکھا، جن کی مادری زبان اردو نہیں تھی، بلکہ پنجابی تھی۔ پنجاب کے ادیب سے آپ خالص اردو جو لکھنؤ یا یوپی سی پی میں بولی جاتی ہے،کی توقع نہیں کرسکتے، نہ کرنی چاہئے۔ اردو کے مختلف رنگوں اور ذائقوں کو آپ تسلیم کریں اور اسے اپنی زندگی جینے دیں۔

زبان کی زندگی اور اس میں ترقی کے فارمولے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ وہ زندہ رہتی ہے، اگر آپ اسے اس کی مرضی سے جینے کی آزادی دیں اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اس کا کوئی فائدہ آپ کو نہیں ہوگا، الٹا ادبی تخلیق میں گراوٹ پیدا ہوگی۔

تجزیات: زبان کے شعبے میں آپ کے تجربات کے باعث کیا آپ کو بھی زبان کے حوالے سے مزاحمت یا مخالفت کا سامنا کرنا پڑا؟
مرزا اطہر بیگ:بالکل کرنا پڑا۔ میرا ناول غلام باغ چھپا تو اس میں آپ جانتے ہیں میں نے زبان اور اسلوب کی سطح پر تجربے کیے ہیں۔ کتنے ہی سال آپ کے جو جغادری نقاد ہیں، انھوں نے اس پر بات ہی نہیں کی کہ انھیں اس کی زبان غیر روایتی لگی، اس کا اسلوب غیر روایتی لگا اور یہ سارے کا سارا تجربہ غیر روایتی لگا۔ تو کیوں ہم روایتی ادب لکھنے اور پڑھنے کے اتنے شائق ہیں۔ کیوں ہم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اچھا ادب ہمیشہ اپنے دو ر میں غیر روایتی ہی ہوتا ہے۔ جو لوگ آج روایتی ادب لکھنے کی حمایت کرتے ہیں یا روایتی زبان کی حمایت کرتے ہیں اور اسی کو ادب کو ناپنے کا واحد یا بنیادی معیار قرار دیتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں  انھیں ادب کو جانچنے کے اپنے معیارات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ہردور میں رہے، ایسے لوگ کہ جو کہتے تھے کہ جو چیز روایت سے باہر ہے، اسے رد کردو، اٹھاکر پرے پھینک دو۔ میں آپ کو ایک ناول کی مثال دیتا ہوں، اس کا نام ہے ٹرسٹرم شینڈی جسے بہت ہی مختلف ادیب لارنس سٹرنی نے لکھا تو اس دور کے ادیبوں نے کہا کہ یہ تو بالکل ہی بکواس شے ہے۔ ہماری روایت میں ایسا انداز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ آج آپ اس ناول کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دور کے ادب سے کتنا آگے تھا، اس دور کے سارے ادب سے۔ہم آج اسے انگریزی ادب کا شاہکار مانتے ہیں۔

جو لوگ آج روایتی ادب لکھنے کی حمایت کرتے ہیں یا روایتی زبان کی حمایت کرتے ہیں اور اسی کو ادب کو ناپنے کا واحد یا بنیادی معیار قرار دیتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں  انھیں ادب کو جانچنے کے اپنے معیارات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

ناول میں زبان پر تو اصرار کیا جاتا ہے، اور اس سے انکار نہیں ہے کہ یہ ایک اہم ہتھیار ہے، لکھنے والے کے لیے۔ لیکن ناول میں زبان کے علاوہ اور کیا کچھ ایسا ہوتا ہے جو اسے ناول کی ہیئت دیتا ہے؟
اس کا نیا پن۔ میرے خیال میں کوئی بھی تخلیقی شے اسی معیار پر ناپی جانی چاہئے۔ آپ کسی شے کو تخلیقی کب کہتے ہیں۔ جب اس میں حقیقت کو ایک نئے انداز سے، ایک نئے پہلو سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی گئی ہو۔کسی نقاد نے عمدہ بات اس حوالے سے کہی ہے کہ ہر دور کا فکشن اپنے ساتھ نئی توقعات لے کر ظاہر ہوتا ہے۔ ہر دور اپنی توقعات فکشن نگار کے آگے رکھتا ہے، اور اس سے تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اسے پورا بھی کرے۔ تو اس اعتبار سے ہر دور کا فکشن پچھلے دور کے فکشن سے قدرتی طورپر مختلف ہوگا۔
یہ نیا پن کیسے آتا ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ یہ ایک کمرا ہے، سامنے کرسیاں بچھی ہوئی ہیں اور لوگ ان کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو یہ ایک منظر ہے جسے بیان کیا جاسکتا ہے، اس میں کسی طرح کی نئی بات نہیں ہوگی۔ لیکن اگر میں اس منظر کو میز کے نیچے گھس کر دیکھنے اور پھر بیان کرنے کی کوشش کروں تو یہ اس منظر کی ہیئت ہی کو نہیں بلکہ اس کی معنویت کو بھی بدل کر رکھ دے گا، ایک بڑا اور سچا ادب ایسے ہی حقیقت کی ہیئت اور معنویت کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔
جب کہ یہ نیا پن پیدا کرنے کے لیے ناول نگار کو کسی غیر معمولی صورت حال کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بڑا ادب زندگی کے عمومی معاملات سے جنم لیتا ہے۔ معمولی واقعات میں سے غیر معمولی پن پیدا کرنا ہی اعلٰی ادب کی پہچان ہے۔ یہ غیر معمولی پن ہی وہ نیا پن ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔
اگر ایسی کوئی نئی بات ادب میں نہیں ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ وہ روایتی ادب ہوگا، اسے مقبولیت بھی، ہوسکتا ہے، مل جائے کیوں کہ زیادہ تر قاری لگے بندھے طریقوں سے لکھا گیا ادب ہی پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن اس کی عمر زیادہ نہیں ہوتی کیوں کہ وہ معاشرے کے تقاضوں اور چیلنجز کے مطابق نہیں ہوتا ہے۔ ادب کو اپنے دور کے چیلنجز کا سامنے کرنے کی طاقت کا حامل ہونا چاہئے۔

بڑا ادب زندگی کے عمومی معاملات سے جنم لیتا ہے۔ معمولی واقعات میں سے غیر معمولی پن پیدا کرنا ہی اعلٰی ادب کی پہچان ہے

تجزیات:کیا ایسا نہیں ہے کہ علیحدہ ہونے اور وکھری بات کرنے کی پاداش میں معاشرہ جو روایتی پسندی کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے، کچھ سزا بھی دیتا ہے۔ آپ جو ناول لکھ رہے ہیں، وہ ہمارے روایتی ناول سے مختلف ہے تو اس کا ردعمل آپ کو قارئین کی طرف سے یا ناقدین کی طرف سے کیسا ملا؟
مرزا اطہر بیگ:میں نے اس بارے میں پہلے بھی بات کی ہے۔ دیکھئے میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اسے چاہے برا ہی سمجھیں لیکن لکھتے ہوئے جیسا کہ ادیبوں کے ذہنوں میں اپنے قارئین واضح صورت میں موجود ہوتے ہیں اور وہ جو کچھ بھی لکھتے ہیں ضرور اس بات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں کہ اپنے قاری کی ذہنی سطح کا خیال رکھا جائے، اس سے مکالمہ ایسا ہو کہ جس میں اس کے لیے کم سے کم ابہام ہو۔ میں ایسے کسی چکر میں نہیں پڑتا۔ میں اپنی کتابوں کی تقریبات منعقد نہیں کراتا۔ نہ میں ان کی پروموشن کی تحریکوں میں شامل ہوتا ہوں۔ قارئین سے بھی میرا رابطہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔ میرے ذہن میں میرے قاری کا کوئی خاکہ نہیں ہے۔ یا اگر ہے تو وہ بالکل ذاتی نوعیت کا خاکہ ہے، جس پر ضروری نہیں ہے کہ میرا حقیقی قاری واقعی پورا اترے۔
میں نے شعوری طور پر کوشش ہی نہیں کی کہ پہلے اپنے ٹارگٹ ریڈرز کو ڈھونڈوں اور پھر لکھوں۔
ایک اعتراف مزید بھی کروں گا کہ میرا مطالعہ زیادہ تر عالمی ادب کا رہا جو ہم تک انگریزی زبان کے ذریعے پہنچا ہے۔ تو میں نے اردو ادب بعد میں پڑھا اور بہت کم پڑھا۔ اردو میں کوئی ایسا ناول ہی نہیں ہے جس سے میں اپنے لیے انسپریشن قبول کروں۔ میں اس بیان کے لیے معذرت خواہ ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میری تمام تر انسپریشن غیر ملکی ادب سے مجھے ملی۔

اردو میں کوئی ایسا ناول ہی نہیں ہے جس سے میں اپنے لیے انسپریشن قبول کروں۔ میں اس بیان کے لیے معذرت خواہ ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میری تمام تر انسپریشن غیر ملکی ادب سے مجھے ملی۔

تجزیات:کیا آپ ادب اور دیگر علوم میں کوئی تال میل دیکھتے ہیں، جیسے کہا جاتا ہے کہ ادب اپنے تخیل کی طاقت سے بعض موقعوں پر دیگر سائنسز کی رہنمائی کرتا ہے؟
مرزااطہر بیگ:ہوسکتا ہے، جیسے شیلے کی نظموں میں لاشعور کی بازگشت سنائی دیتی ہے، تو اس نے لاشعور کو محسوس کیا، کہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں انسانی یادیں، احساسات وغیرہ محفوظ ہوتے ہیں اور جن سے انسان کا شعور بے خبر ہوتا ہے۔ ایسے ہی سوفو کلیز کی مثال دی جا سکتی ہے، کہ اس نے ایڈیپس کا کردار لکھا اور اس سے فرائیڈ نے ایڈیپس کمپلیکس دریافت کیا۔ تو اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سوفوکلیز یا شیلے دریافت کنندہ تھے۔ نہیں، یہ کام خاص سائنسی قواعد کی روشنی میں ہوتا ہے، اور یہ ماہرین کا کام ہے۔ ادیب البتہ اپنے تخیل کی مدد سے بعض اوقات حقیقت کے ایسے گوشوں کو چھولیتا ہے جن سے انسانی ذہن پہلے آگاہ نہیں ہوتا اور یوں انسان ایسی نئی باتوں سے آگاہ ہوجاتا ہے کہ جنھیں نئی دریافتیں کہا جا سکتا ہے۔

ادیب البتہ اپنے تخیل کی مدد سے بعض اوقات حقیقت کے ایسے گوشوں کو چھولیتا ہے جن سے انسانی ذہن پہلے آگاہ نہیں ہوتا اور یوں انسان ایسی نئی باتوں سے آگاہ ہوجاتا ہے کہ جنھیں نئی دریافتیں کہا جا سکتا ہے۔

تجزیات: آپ اردو اور انگریزی میں لکھتے ہیں، کیا کسی اور زبان میں بھی لکھا؟

مرزا اطہر بیگ:پنجابی میں ایک ناول لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ کیوں کہ جو زبان ہم بولتے ہیں، وہ ناول میں مکالموں کی صورت میں تو کھپ سکتی ہے لیکن جہاں منظر کو بیان کرنے کی صورت پیدا ہوتی ہے، جہاں بیانیہ ہوتا ہے تو وہاں آپ کو ادبی زبان لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری پنجابی، بولنے کی زبان ہے، اس کی ادبی صورت پر میری اتنی گرفت نہیں ہے، کہ بطور ناول نگار ادبی زبان کا حق ادا کرسکوں۔ لیکن میں پنجابی میں کچھ لکھنے اور اسے چھپوانے کی کوشش ضرور کروں گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...