پابندیوں کے باوجود ایران تیل کیسے بیچتا ہے؟

جولائی 2015 میں چھ بڑی طاقتوں کے ایران کے ساتھ ایک دہائی پر محیط مشکل مذاکرات کے کے بعد ایک جوہری معاہدے پر اتفاق ہوا جسے ساری دنیا میں تاریخی کاوش کہا گیا تھا۔ امریکا نے پچھلے سال نومبر میں خود کو اس معاہدے سے یہ کہہ کر الگ کرلیا کہ خطے میں امن و استحکام کی خاطر اور ایرانی دراندازی کو روکنے کے لیے یہ معاہدہ اور اس کی شرائط ناکافی ہیں۔ ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ سوائے چند خلیجی عرب ممالک اور اسرائیل کے امریکا کے اس اقدام کو تمام ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

نومبر میں صدر ٹرمپ نے ایرنی تیل کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دیا تھا۔ البتہ ایسے آٹھ ممالک جن کا انحصار زیادہ تر ایرانی تیل پر تھا ان کے لیے چھ ماہ تک محتاط حد تک یہ تیل خریدنے کی اجازت تھی۔ یہ میعاد گزشتہ جمعرات بتاریخ 2 مئی کو ختم ہوگئی ہے۔ امریکا نے ان ممالک سے کہا ہے کہ انہیں مزید استثنائی مدت نہیں دی جائے گی۔ اب ہر حال میں ایران سے تیل کی خریداری بند کردی جائے، ورنہ انہیں بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے انٹرویو میں ان پابندیوں کو معاشی دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے اور کہا کہ ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسی ان کے اپنے ملک کے مفادات کی ترجمانی نہیں کرتی بلکہ یہ سب اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ایران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پابندیوں کے باوجود اپنے تیل کو ملک سے باہر بیچنے میں مہارت رکھتا ہے۔ یہ تجربہ اسے وقتا وفوقتا عالمی پابندیوں کا شکار ہونے کے ساتھ حاصل ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ پابندیوں کی وجہ سے تیل کی پیداوار کم ہوگی لیکن ایران اب بھی تیل کی ترسیل مکمل طور پہ بند نہیں کرے گا۔ اس کی تائید رہبر معظم علی خامنہ ای کے اس بیان سے ہوتی ہے جوانہوں نے ردعمل میں دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’’ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں تیل پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم یہ کریں گے‘‘۔

یوں تو وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایرانی تیل پر پابندی کے حوالے سے جو اعلامیہ جاری کیاگیا تھا اس میں کچھ ایسے قانونی خلا موجود ہیں جن سے ایران فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ خصوصا جب عالمی مارکیٹ سے کم قیمت پر دستیاب ہوتو اسے ہی خریدنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پہ اعلامیہ میں یہ شق موجود ہے کہ اگر خریدار ملک کو علم نہ ہوکہ یہ ایرانی تیل ہے تو اس پر پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اسی طرح غیرسرکاری کمپنیوں کے حوالے سے تأثر موجود ہے کہ وہ بھی پابندیوں سے مستثنی ہوں گی۔ اس سے ہٹ کر سخت پابندیوں کے باوجود ایران تیل کیسے بیچتا ہے؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے پاس کئی طریقے ہیں جنہیں وہ استعمال میں لاتا ہے۔

1951 میں محمد مصدق کی حکومت کے دوران برطانیہ نے ایران کا محاصرہ کرلیا اور پابندیاں عائد کردیں۔ جس کی وجہ سے تیل کی ترسیل رُک گئی تھی اور ملک کی معیشت پر کاری ضرب پڑی۔ تب ایران کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ تیل کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ اپنے بحری آئل ٹینکر بھی ہونے ضروری ہیں۔ اب اس کے پاس اس نوع کے چھوٹے بڑے کئی ٹینکر ہیں جنہیں وہ مشکل حالات میں مختلف طریقوں سے استعمال میں لاتا ہے، اور اس کے علاوہ بھی متعدد حیلوں سے تیل کی فروخت کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ جن میں سے چند مشہور یہ ہیں: ایران اپنے بحری ٹینکرز پر تیل لینے کے بعد سمندر میں ہی کسی اور ملک کے ٹینکرز میں منتقل کردیتا ہے۔ جس سے اس کی شناخت چھپ جاتی ہے۔ یا بحری آئل ٹینکر میں ایرانی تیل کے ساتھ کسی اور ملک کا یا کسی اور نوعیت کا تیل مکس کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ ایرانی تیل کی پہچان نہ ہوسکے۔ ایسے ہی ٹینکرز کے راڈار بند کردیے جاتے ہیں یا ان پر ایسے آلات نصب کیے جاتے ہیں جس سے ٹینکر کے مقام کی صحیح جہت کا پتہ نہیں چل سکتا۔ حقیقت میں وہ کسی اور جگہ ہوتا ہے لیکن ظاہر یہ ہوتا ہے وہ کہیں اور ہے۔ یا ایسا ہوتا ہے کہ کسی اور ملک کے ٹینکر پر تیل لے جایا جاتا ہے اور دعوی کیاجاتا ہے کہ یہ ایران کا نہیں ہے بلکہ اس کے پڑوسی کا ہے۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کی 20 مارچ کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور کا بحری ٹینکر Grace 1 ایران اور عراق کے ساحلوں پر نظر آیا۔ جب وہ واپس اپنے ملک کی طرف عازم تھا تو اس کے پاس تیل کی بڑی مقدار تھی۔ عملے سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ عراقی تیل ہے، جبکہ عراقی حکام کا کہنا تھا کہ انہیں علم ہی نہیں ہے، اور جب سنگا پور کے افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب دینے سے انکار کردیا۔ یہ 120 ملین ڈالر کا تیل تھا جو سنگا پور لے جایاگیا۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے حکومتوں کی بجائے پرائیویٹ کمپنیوں کو تیل فروخت کیا جاتا ہے۔ اس میں ایران یہ حیلہ بھی کرتا ہے کہ اس کے اپنے شہری دوسرے ممالک میں پاسپورٹ یا شہریت لے کر کمپنیاں بناتے ہیں جو ایران سے تیل خرید کر وہاں مقامی تیل کی کمپنیوں کو فروخت کرتے ہیں۔ گزشتہ برس پابندیوں سے قبل اچانک افریقہ کے ایک چھوٹے سے ملک کومروس سے 150 ایرانیوں نے پاسپورٹ حاصل کیے تھے جو حکومت نے بعد میں منسوخ کردیے کیونکہ تحقیق کے بعد پتہ چلا تھا کہ  وہ سب لوگ ایران میں تیل اور بحریہ کے شعبوں سے وابستہ تھے۔ ایران اس دوران عموما تیل کے بدلے میں ڈالر کی بجائے اشیا وصول کرتا ہے۔ بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق ایران اس طرح غیر رسمی طریقے سے یومیہ 8 لاکھ بیرل تیل بیچ سکتا ہے۔

یہ وہ مختلف طریقے ہیں جنہیں استعمال میں لاکر ایران تیل کی ترسیل کو ممکن بناتا ہے اور اپنی معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ ماضی میں وہ ان ذرائع سے تیل بیچنے میں کامیاب رہا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اب بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب امریکا ہر طرح سے ایرانی تیل کی خرید و فروخت پر پابندی کو یقینی بنائے۔ بظاہر بیانات کی سختی سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کی یہ خواہش ہے کہ وہ ایران کو مکمل گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے۔ جیساکہ اس نے ابھی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد دستہ بھی قرار دیدیا ہے۔ اگر تیل کی ترسیل کو ہر حالت میں ممنوع بنانے کی کوشش کی گئی تو ایرانی حکومتی افسران کے رویے سے لگتا ہے کہ ایران خطے میں کسی بھی طرح کے عدم استحکام کو خاطر میں نہیں لائے گا، اور کسی بھی سخت جوابی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...