بلوچستان میں زچہ بچہ کی شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ

چند روز قبل آواران سے خبر آئی کہ حاملہ خاتون زچگی کے دوران نومولود بچے سمیت جاں بحق ہوگئی ہیں۔ خاتون کو بغرض علاج جھاؤ سے 100 کلومیٹر دور بیلہ لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں دم توڑ گئیں۔ انہیں کو پہلے آر ایچ سی جھاؤ لایا گیا تھا لیکن عملے کی عدم دستیابی کے سبب انہیں بیلہ لے جانے کا کہاگیا۔ تھوڑی دیر بعد خبرآئی کہ وہ راستے میں دم توڑ گئی ہیں۔ انچارج رورل ہیلتھ سینٹر جھاؤ قادربخش کا کہنا ہے ”ہمارے پاس الٹراساؤنڈ تو موجود ہے مگر اسے استعمال کرنے کے لیے ماہرین موجود نہیں۔ ایل ایچ وی تودوُر کی بات ہے، یہاں روایتی دائی بھی موجود نہیں ہے“۔ تحصیل جھاؤ کی 40033 افراد پر مشتمل آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک رُورل ہیلتھ سینٹر اور دو بنیادی مراکز صحت موجود ہیں مگر کسی میں بھی لیڈی ہیلتھ وزیٹرز (LHV) یا خاتون میڈیکل ایکسپرٹ   نہیں ہے۔ مقامی سطح پر پوری تحصیل میں کوئی اس شعبہ کی ماہر ہے ہی نہیں، جبکہ علاقہ میں سہولیات کی کمی کے باعث کوئی غیرمقامی ماہر خاتون یہاں آنے کے لیے تیار نہیں۔

2018میں شعبہ زچہ بچہ کے لیے آواران میں ایک گائناکالوجسٹ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ تاہم ایک سالہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد وہ واپس چلی گئیں۔ ایک بار پھر سے ضلع کا شعبہ زچہ بچہ بغیر گائنا کالوجسٹ کے چل رہا ہے۔ پورے ضلع ایک غیر مقامی لیڈی ڈاکٹر کام کرتی  ہے اور  لیڈی ہیلتھ وزیٹرز (LHV)کی تعداد 4ہے۔ سیزر کا کوئی کیس سامنے آجائے تو مریضہ کی اجازت سے آپریشن کا کام ایک میل سرجن انجام دیتا ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے ضلع میں زچہ بچہ اموات کی شرح کتنی ہے؟ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عالم زہری کا کہنا ہے کہ اس کا باقاعدہ کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ زچہ بچہ کی زیادہ اموات دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں، ایسے کیسز ہسپتالوں کے اندر ریکارڈہی نہیں کیے جاتے۔

پاکستان میں 10 لاکھ  کیسز میں سے 272 میں زچہ بچہ کی اموات واقع ہوجاتی ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ شرح کئی گنا زیادہ ہے جہاں ایک لاکھ حاملہ خواتین میں سے 785 مرجاتی ہیں۔ یہ تعداد رجسٹر ڈکیسز کی ہے۔ جبکہ وہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو رجسٹریشن سے رہ جاتے ہیں

یہ کہانی صرف جھاؤ کی نہیں ہے۔ کوئٹہ کے علاوہ باقی سارے بلوچستان کو ایسی صورتحال کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال ڈیرہ بگٹی میں چھ ماہ کے دوران زچہ بچہ اموات کے 19 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر اور گائناکالوجسٹ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں 200 کلومیٹر دور پنجاب کے علاقے رحیم یار خان بھیجا جاتا تھا۔ صحت اور بنیادی مراکز صحت پر کام کرنے والی تنظیم پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹیو (پی پی ایچ آئی) نے ابھی ڈیرہ بگٹی کے علاقے پٹوخ میں لیڈی ہیلتھ وزیٹر کی خدمات حاصل کرکے بنیادی مرکز صحت کو فعال کیاہے۔ جس کے بعد وہاں زچہ بچہ اموات کے کیسز رپورٹ ہونابند ہوگئے۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق زچہ بچہ کی شرح اموات پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں سب سے زیادہے۔ پاکستان میں 10لاکھ  کیسز میں سے 272 میں زچہ بچہ کی اموات واقع ہوجاتی ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ شرح کئی گنا زیادہ ہے جہاں ایک لاکھ حاملہ خواتین میں سے 785 مرجاتی ہیں۔ یہ تعداد رجسٹر ڈکیسز کی ہے۔ جبکہ وہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو رجسٹریشن سے رہ جاتے ہیں۔

بلوچستان کے دیہی علاقوں میں اکیسویں صدی کا سورج ابھی تک طلوع نہیں ہوا ہے۔ ایک طرف زچہ بچہ سینٹرز، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز، لیڈی ڈاکٹر یا گائناکالوجسٹ کی عدم دستیابی سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تو دوسری طرف ایمرجنسی کی صورت حال میں سڑکوں کی ناگفتہ صورتحال اور ایمبولینس سروس نہ ہونے سے بھی ماؤں اور بچوں کی اموات واقع ہوجاتی ہیں۔ شہری مراکز صحت تک رسائی حاصل کرنے میں دیہی لوگوں کو کئی کئی گھنٹے لگتے ہیں۔ مرکزی ہسپتال تک پہنچتے پہنچتے ایک ساتھ دو زندگیاں جان سے جاتی ہیں۔ معاشی مسائل بھی بڑے ہسپتالوں تک پہنچنے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ زیادہ  تر ہسپتالوں میں زچہ بچہ کیسز مقامی غیر تربیت یافتہ دائیاں یا عطائی ڈاکٹرز دیکھتی ہیں۔ حاملہ خواتین دو دو دن تک درد سہتی رہتی ہیں۔ بچے کی ولادت ہوجائے تو غنیمت، ورنہ ماں اور بچے کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے۔

زچہ بچہ شرح اموات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ 18 سال سے کم عمر میں شادی اور اس کے بعد فوراً بعد حاملہ ہوجانا ہے۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں کم عمری میں شادی کا رجحان زیادہ ہے۔ 14سال کی عمر میں لڑکیوں کی شادیاں کرا دی جاتی ہیں اور ایک سال کے اندر ان کے ہاں بچے کی ولادت ہوتی ہے۔ 18سال سے کم عمر شادی شدہ خواتین میں زچہ بچہ کی پیدائش پر اموات کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ یہ خواتین بعض اوقات پہلے ہی بچے کی ولادت پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اور جو زندہ رہ جائیں ان میں بچہ جننے کاجو عمل 15سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے وہ 35 سال کی عمر تک چلا جاتا ہے۔ 35 سال  ،تک پہنچتے پہنچتے خواتین 10سے زائد بچوں کی ماں بن جاتی ہیں۔ جس سے نہ صرف ان کی صحت گر جاتی ہے بلکہ ان میں دودھ کی قلت کا مسئلہ بھی پیدا ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ طبی حوالے سے بچوں کی پیدائش میں جو تین سال کے وقفے کی ہدایت کی جاتی   ہے اس پر دیہی علاقے کی خواتین عمل نہیں کرسکتیں۔ اس کی بنیادی وجہ اول تو خاندان میں آگہی نہیں ہوتی ہے۔ دوسرا  اس لیے بھی  کہ خاندان کی جانب سے زیادہ بچوں کی پیدائش پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گول معاہدہ جس پر پاکستان نے دستخط کیا ہے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے، زچہ بچہ شرح اموات میں کمی لانے، ماں اور بچے کی صحت کا خیال رکھنے، ان کی کونسلنگ کرنے  کے لیے 2007 میں نیشنل ایم این سی ایچ سروس کا آغاز کیا گیا تھا۔ تاہم 12 سال کام کرنے کے باوجود یہ ادارہ ابھی تک اہداف کے حصول میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت گاؤں گاؤں کی سطح پر خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز قائم کیے گئے اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات حاصل کی گئیں۔ مگر غیرتربیت یافتہ لیڈی ہیلتھ ورکرز نہ ہی گھر گھر جا کر ادارے کا پیغام پہنچا سکیں، نہ ہی کونسلنگ کر سکیں۔ مراکز صحیح طریقہ سے فعال ہی نہ ہوسکے۔ دوائیاں ہرگھر تک نہیں پہنچ پاتیں اور زائدالمیعاد ہونے کی صورت میں تلف کی جاتی ہیں۔

بلوچستان حکومت نے مالی سال 2018-19کے لیے صحت کا بجٹ 19.4 بلین رکھا تھا۔ جس میں 14,419,518,000روپے تنخواہ کی مد میں اور باقی پانچ ارب روپے کے آس پاس انتظامی معاملات کی مد میں رکھے گئے گئے۔ بلوچستان میں صحت کے شعبے کے لیے مختص کیے جانے والے تھوڑے بہت  بجٹ میں سے ایک خطیر رقم تنخواہوں کی مد میں چلی جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بلوچستان میں اس  شعبے کی افرادی قوت کے خلا کو ہی پُر نہیں کیا جاسکا ۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد شعبہ صحت صوبوں کے پاس آچکا ہے۔ اب یہ صوبائی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں اصلاحات لا کر اسےبہتری کی جانب گامزن کرے۔ لیڈی ہیلتھ وزیٹرز، لیڈی میڈیکل ایکسپرٹس اور لیڈی نرسز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نرسنگ اسکولوں کا قیام عمل میں لائے۔ یہ شعبہ بلوچستان کی سطح پر ناپید ہے۔ بولان میڈیکل کالج کے علاوہ اس وقت دیگر چار میڈیکل کالجز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ ان اداروں کے زیراہتمام نرسنگ اسکولز قائم کرکے لیڈی ہیلتھ اسٹاف کی کمی کو پورا کیاجا سکتا ہے۔ صحت کے مراکز کو وہ آلات اور مشینیں مہیا کیے جائیں جو شعبہِ زچہ بچہ کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ حالیہ دنوں سینٹ سے پاس ہونے والے ”18سال سے کم عمر شادی پر پابندی“ بل کا اطلاق کرکے صوبے بھر میں زچہ بچہ شرح اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...